اپنا دیشتازہ ترین خبریں

مولانا آزاد کو فراموش کر دینا ہندوستان کی بڑی ستم ظریفی: نجمہ ہپت اللہ

اِمام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کے61ویں یوم وِفات پر مزارِآزاد پر آئی سی سی آر کی جانب سے ایک مجلس کا اِنعقاد کیا گیا۔ مجلس میں شریک تمام ہی معزز شخصیات نے مزارِآزاد پر گلہائے عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے اپنے خیالات کا اِظہار کیا۔

مقررین نے مولانا ابوالکلام آزاد کے ذریعہ وضع کی گئی حکمت عملیوں اور حیاتِ آزاد کے تعلق سے اُن کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد جدید ہندوستان کے اُن عبقری رہنماؤں میں سے تھے جنھوں نے ہندوستان کی اپنے خونِ جگر سے آبیاری کی تاہم ان کی حکمت عملیوں کی جس قدر پذیرائی ہونی چاہیے تھی، نہیں ہوئی اور اُن کے تئیں لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

منی پور کی گورنرنجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ یہ مولانا ہی تھے جنھوں نے تاحیات گنگا جمنی تہذیب کی نہ صرف آبیاری بلکہ اُس کی ہم نوائی بھی کی۔ اُنھوں نے جدید ہندوستان میں ثقافتی ہم اہنگی کے مدنظر بہت سے اِداروں مثلاً ساہتیہ اکادمی، ڈراما اکادمی اورآئی سی سی آر کی بنیاد رکھی۔ مولاناابوالکلام آزاد کی فکر کافی وسیع اورگہری تھی۔ وہ آنے والی نسلوں کے سامنے پیدا ہونے والے مسائل کا شعور بھی رکھتے تھے نتیجتاًاُ نھوں نے ایسے اِداروں کی بھرپور پذیرائی کی۔

انہوں نے کہا کہ مولانا کا ہمیشہ سے یہی اِرادہ رہا تھا کہ ہندوستان میں ایک ایسی تہذیب ولسان کے فروغ کو یقینی بنایا جائے جس میں ثقافتی بالادستی جیسے عناصر کو خارج کرتے ہوئے ایک ایسے تہذیب کا فروغ ہو جس میں تمام ہندوستان کی آئینہ داری ممکن ہو۔ مولانا ابوالکلام آزاد ایک جواں مرد شخصیت کے حامل تھے۔ اُنھوں نے کبھی بھی حالات کی ہم نوائی نہیں کہ بلکہ اُنھوں نے اپنے لیے آپ ہی راہ نکالی۔ حالات کو اُنھوں نے اپنے حق میں کرلیا۔ یہ ہمارے ہندوستان کی ستم ظریفی ہے کہ اُن کی آنکھ بند ہوتے ہی اُنھیں کلی طور پرفراموش کردیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم نے اپنے آباواجداد کی کارکردگیوں کو فراموش کردیا، تاریخ نے اُسے فراموش کردیا۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے چانسلر فیروز بخت احمد کہا کہ آج مولاناابوالکلام آزاد کے تئیں یکسر سرد مہری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ مولانا کو سال میں دومرتبہ یاد کرلیناا ور زبانی جمع خرچ کردینا کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ اگر ہم اُن سے سچی عقیدت رکھتے ہیں اوراُن کے ذریعہ پیش کردہ خدمات کوتہہ دل سے تسلیم کرتے ہیں تو اُن کے تئیں فعالیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔آنے والی نسلوں کو مولاناکے نظریات سے باخبر کرانا ہوگا کہ وہ آئندہ کے درپیش مسائل کے لیے حیاتِ آزاد اورحکمت عملیوں کو مشعل راہ بناسکیں۔

مولاناابوالکلام آزاد نے جدید ہندوستانی تعلیم کو ایک بنیاد فراہم کی۔ اُنھوں نے بلاتفریق مذہب وملت، ذات پات اورجنس سب کے لیے اُنھوں نے ایک ایسی کارگرحکمت عملی وضع کی تھی کہ اگر اُن پر عمل پیرا ہوا جاتا تو آج ہندوستان میدان تعلیم میں خود کفیل ہو چکا ہوتا۔ تمام تفریقات کی بیخ کنی ہوچکی ہوتی۔ یہ ہمارے ملک کی بدنصیبی ہے کہ اُن کے نظریات کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا لہٰذا، آج بھی میں مختلف طرح کے مسائل سے دوچارہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ مولانا کی حکمت عملیوں پرعمل پیرا ہوا جائے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close