اترپردیشتازہ ترین خبریں

مودی پیدائشی ’او بی سی‘ ہوتے تو آر ایس ایس انہیں کبھی پی ایم نہیں بننے دیتی: مایاوتی

وزیراعظم نریندر مودی کی ذات کے تعلق سے ان پر حملہ کرتے ہوئے بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ پی ایم مودی پیدائشی او بی سی نہیں ہیں، کیونکہ اگر وہ پیدائشی پسماندہ طبقہ سےتعلق رکھتے تو آر ایس ایس انہیں کبھی بھی وزیراعظم نہیں بننے دیتی۔

واضح رہے کہ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے لوک سبھا انتخابات کی تشہیر کے دوران پی ایم مودی پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ’’مودی پیدائشی اوبی سی نہیں ہیں اور یہ بات پورے ملک کو معلوم ہے۔ اس لئے انہوں نے ذات پرستی کے استحصال کا کبھی سامنا نہیں کیا۔ اگر نریندر مودی پیدائشی پسماندہ طبقہ سے وابستہ ہوتے تو کیا آر ایس ایس کبھی انہیں ملک کا وزیر اعظم بننے دیتی۔‘‘

آپ کی جانکاری کے لئے بتا دیں کہ پی ایم مودی نے گزشتہ دنوں یوپی کے ایس پی-بی ایس پی-آر ایل ڈی اتحاد کو ذات پرست قرار دیا تھا۔ پی ایم مودی نے قنوج کی ایک انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ وہ انتہائی پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم نے کہا کہ ’’میرا طبقہ اتنا پسماندہ ہے کہ میرے گاؤں میں میرے طبقہ کے صرف 2-3 لوگ ہی ہیں۔ میں نے کبھی اپنے طبقہ کے بارے میں بات نہیں کی لیکن مہا ملاوٹی (اتحاد ) کے لوگ زبردستی میرے طبقہ کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ پسماندہ طبقہ سے تعلق ہونے کی وجہ سے مخالفین مجھے نیچ کہتے ہین اور بہن جی (مایاوتی) اور اکھلیش نے بھی مجھے نیچ کہا ہے۔‘‘

جس کا جواب دیتے ہوئے بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی کا اتحاد کو ذات پرست قرار دینا بکواس کے سوائے اور کچھ نہیں ہے۔ جس نے ذات پرستی کو برداشت کیا ہو وہ ذات پرست کیسے ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی صحیح معنی میں پسماندہ طبقہ سے ہے تو وہ اکھلیش یادو ہیں۔ وہ وزیراعظم مودی کی طرح صرف کاغذوں پر ہی پسماندہ نہیں ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’مودی کا دوبارہ وزیر اعظم بننے کا خواب پورا نہیں ہوگا اور وہ انتخابی تشہیر کے دوران حزب اختلاف کے خلاف جس طرح کی زبان کا استعمال کر رہے ہیں اس سے واضح ہو گیا ہے کہ وہ اپنی جیت کو لے کر پس و پیش میں ہیں۔ ‘‘

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close