اپنا دیشتازہ ترین خبریں

مودی-شاہ نے جمہوریت کی توہین کی ہے: سونیا گاندھی

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے نریندر مودی حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے جمعرات کو الزام لگایا کہ معیشت میں بدنظمی موجود ہے اور مہاراشٹر میں جمہوریت کی توہین کی گئی ہے۔

محترمہ گاندھی نے کانگریس قانون ساز پارٹی کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قومی جمہوری اتحاد حکومت انتقام کے جذبہ سے کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم کو 100دن تک جیل میں رکھنا اس کی زندہ مثال ہے۔ پارٹی کارکنوں اور لیڈروں سے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انہیں مودی۔شاہ کے خلاف متحد ہوکر کھڑے ہوجانا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری پارٹی ہر جنگ پوری طاقت سے لڑے گی اور متحد ہوکر صورتحال تبدیل کردے گی۔

کانگریس کی صدر نے کہاکہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں اور انکا اختتام دہلی میں 14دسمبر کو ایک اجلا س سے ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی بے شرمی سے جمہوریت کی توہین کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ شیوسینا، کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کا اتحاد بی جے پی کو شکست دینے کے لئے ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ کچھ دنوں کے دوران مہاراشٹر کے گوررنر بھگت سنگھ کوشیاری نے غیرذمہ دارانہ طریقہ سے کام کیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ انہوں نے وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی ہدایات پر کام کیا ہے۔

محترمہ گاندھی نے کہاکہ بی جے پی اور شیوسینا کا اتحاد بی جے پی لیڈروں کی نہایت پراعتمادی اور گھمنڈ کی وجہ سے ٹوٹا ہے۔ بی جے پی کے لیڈروں نے کانگریس۔ این سی پی۔شیوسینا اتحاد کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔

معیشت میں بدنظمی کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس کی صدر نے کہاکہ مودی۔شاہ کو معیشت کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے اور وہ دونوں معیشت کی چیلنجوں کے بارے میں نہیں جانتے ہیں۔ اقتصادی خطرہ دن بدن بڑھتا جارہا ہے، بے روزگاری بڑھ رہی اور سرمایہ کاری نہیں ہو رہی ہے۔ دیہی علاقہ میں کسان، کاروباری اور دیگر لوگ بدحال ہیں۔ برآمد کم ہورہا ہے اور ضروری اشیا کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت مسائل کو حل کرنے کے بجائے اعداد و شمار کی ہیراپھیری میں مصروف ہے یا انہیں چھپا رہی ہے۔ مہاراشٹر اور ہریانہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے محترمہ گاندھی نے کہاکہ ان سے کارکنوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔

کانگریس کی صدر محترمہ سونیا گاندھی نے جموں۔کشمیر کی حالت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ریاست کے سابق وزیراعلی فاروق عبداللہ کو حراست میں رکھا ہوا ہے۔ بی جے پی سے الگ سوچ رکھنے والے لوگوں کو مشکل دور سے گزرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے شہریت ایکٹ میں ترمیم کی کوششوں کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے آئین کی بنیاپر چوٹ ہوگی۔ اس میں ترمیم سے شمال مشرقی علاقہ میں بدامنی پھیل جائے گی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ دن بہ دن لوگوں کی توجہ ہٹانے کی پالیسی پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے انتخابی بونڈ کی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اس کا فیصلہ ریزرو بینک کے مشورہ کے بغیر کیا گیا۔ یہ بی جے پی کو فائدہ پہنچانے اور سرمایہ داروں کے تحفظ کے لئے لائے گئے ہیں۔ انہوں نے وہاٹس ایپ پر جاسوسی کی خبروں پر بھی تشویش ظاہر کی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close