اپنا دیشتازہ ترین خبریں

مودی-شاہ ملک کو گمراہ کر رہے ہیں: سونیا گاندھی

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے وزیراعظم نریندرمودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر ملک کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے پیر کو کہا کہ سماج کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

محترمہ گاندی نے یہاں پارلیمنٹ ہاؤس-انیکسی میں کئی اپوزیشن پارٹیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے بیانوں میں تضاد ہے اور دونوں مل کر ملک کے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ دونوں مسلسل اکساوے والے بیان دے رہے ہیں اور تشدد اور ظلم کے تئیں غیر حساس بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹیوں میں ہوئے تشدد کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ مودی-شاہ کی حکومت کی نااہلی ثابت ہوگئی ہے اور یہ حکومت چلانے کے قابل نہیں ہیں۔ موجودہ حکومت لوگوں کو سکیورٹی مہیا کرانے میں ناکام رہی ہے۔

کانگریس صدر نے کہا کہ آسام میں این آر سی ناکام ثابت ہوا ہے۔ حکومت اب قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) پر توجہ مرکوز کر رہی ہے جو قومی سطح پر این آرسی سے پہلے کا عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفت کی فوری وجہ سی اے اے اور این آر سی ہے لیکن سماج کی وسیع سطح پر اشتعال دکھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اصلی موضوع معیشت کی گرتی حالت اور اقتصادی ترقی کی شرح کا سست پڑنا ہے۔ سماج کے غریب اور محروم طبقے کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ وزیراعظم اور وزیرداخلہ کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے اور ملک کی توجہ ہٹانے کےلئے تقسیم اور پولرائیزیشن پر مبنی سیاست کر رہے ہیں۔

محترمہ گاندھی نے کہا کہ حکومت ظلم و زیادتی اور نفرت پر اتر آئی ہے اور لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کیا جا رہا ہے۔ ملک میں افراتفری کی صورت حال بنی ہوئی ہے۔ آئین کو کمزور کیا جارہا ہے اور حکومت کی طاقت کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ اترپردیش اور دہلی میں پولیس کے طاقت استعمال کرنے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ نوجوانوں اور طلبہ کو خاص طورپر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ آبادی کے ایک بڑے حصے کا استحصال کیا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے۔ شہریوں کے تعاون سے ملک بھر میں نوجوان احتجاجی مخالفت کر رہے ہیں۔

میٹنگ کی صدارت کانگریس صدر سونیا گاندھی نے کی اور اس میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور پارٹی کے سینئر لیڈر راہل گاندھی، غلام نبی آزاد، اے کے انٹنی، احمد پٹیل اور کے سی وینوگوپال موجود تھے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے شرد پوار اور پرفل پٹیل، مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے سیتارام یچوری، جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ہیمنت سورین، راشٹریہ جنتا دل کے منوج جھا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ڈی راجہ، لوکتانترک جنتا دل کے شرد یادو، انڈین یونین مسلم لیگ کے پی کے کنہالی کٹی، ریوولیوشنری سوشلسٹ پارٹی کے شتروجیت سنگھ شریک ہوئے.

اس کے علاوہ کیرالہ کانگریس کے ایم تھامس کاجھیکدن، آل انڈیا ڈیموکریٹک فرنٹ کے سراج الدین اجمل، نیشنل کانفرنس کے حسنین مسودی، پیپلس ڈیموکریٹک پارٹی کے میر محمد فیاض، جنتا دل سیکولر کے ڈی کوپیندر ریڈی، راشٹریہ لوک دل کے اجیت سنگھ، ہندوستانی عوامی مورچہ کے جیتن رام مانجھی، راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کے اپیندر کشواہا، سوابھیمان پکش کے راجو شیٹی، فارورڈ بلاک کے جی دیوراجن اور ویدوتھلائی چروتھائیگل کاچی کے تھول تروماولاون نے بھی میٹنگ میں حصہ لیا۔

یاد رہے کہ اس میٹنگ میں شیوسینا، عام آدمی پارٹی، ترنمول کانگریس، دروڑ منیتر کشگم، سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے رکن موجود نہیں تھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close