تازہ ترین خبریںدلی نامہ

مودی حکومت گنگا جمنی تہذیب کو تباہ کر رہی ہے: ششی تھرور

کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور نے کہا کہ مودی حکومت ملک کی مشترکہ ورثے اور گنگا جمنی تہذیب کو تباہ کرنے کی کوشش میں لگی ہے لیکن ملک کے عوام ان کی اس منشا کو پورا ہونے نہیں دیں گے۔

مسٹر تھرور نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس کے مظالم اور شہریت قانون اور این آرسي کے خلاف جاری تحریک میں آج لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی جنگ میں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ حکومت ایک خاص طبقہ کو الگ تھلگ کرنے کے لئے قانون لے کر آئی ہے جسے ہم کسی بھی حالت میں قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے شہریت ترمیمی قانون کو امتیازی اور غیر جمہوری بتایا اور کہا کہ یہ ہندوستانی جمہوریت پر دھبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اتحاد کے لئے بابائے قوم مہاتما گاندھی نے قربانی دی لیکن لوگوں کو آپس میں اشتراک کرنے کے لئے حکومت ملک کی روح پر حملہ کر رہی ہے۔ ملک کے معماروں نے جو خواب دیکھا تھا اسے توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تمام ہندوستانی برابر ہیں کسی کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک قبول نہیں کیا جائے گا۔

کانگریسی ممبر پارلیمنٹ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولس کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان اور طلبہ ملک کے مستقبل ہیں ان کے ساتھ ایسا برتاؤ افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کے ترانے میں خواب اور امید کی بات کی بات کی گئی۔ جامعہ کا قیام انگریزی حکومت کے خلاف اور مہاتما گاندھی کی جدوجہد کی دین ہے۔ گاندھی جی نے کہا تھا کہ جامعہ کو چلانے کے لئے اگر بھیک بھی مانگنی پڑے تو بھی وہ کریں گے لیکن آج ان کے خواب کی خلاف ورزی یونیورسٹی کے طالب علموں کو نشانہ بناکرکیا جا رہا ہے اور بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مسٹر تھرور کے ساتھ دہلی پردیش کانگریس کے صدر سبھاش چوپڑا اور سابق ممبر اسمبلی چودھری متین احمد بھی جامعہ کے طالب علموں کی حمایت کرنے کے لئے پہنچے تھے۔غور طلب ہے کہ شہریت قانون اور این آرسي کے خلاف جامعہ کے طلبا اور مقامی لوگوں نے 15 دسمبر کو ایک مارچ نکالا تھا جس میں نیو فرینڈس کالونی کے قریب تشدد کا واقعہ ہوا تھا جس میں کچھ بسوں میں آگ لگا دی گئی تھی۔ پولیس لوگوں کا پیچھا کرتے ہوئے جامعہ تک آئی اور بھیڑ کو کھدیڑنے کے بعد کیمپس میں گھس کر لائبریری میں توڑ پھوڑ کی اور طلبہ طالبات کے ساتھ مارپیٹ کی۔ اس سانحہ کی مخالفت میں جامعہ کیمپس کے باہر مسلسل مظاہرہ چل رہا ہے۔ جامعہ کی دیواریں ترنگے اور بھیم راؤ امبیڈکر کی تصاویر کے ساتھ شہریت قانون کے خلاف نعروں سے سجی ہوئی ہیں۔ مظاہرہ کرنے والے طالب علموں نے سڑک کنارے ہی ایک اوپن لائبریری بنائی ہے جہاں پر لوگ پڑھائی کرتے دیکھے جاتے ہیں۔ اسی سڑک پر ایک ڈٹینشن کیمپ بنایا گیا ہے جس میں مظاہرہ کے دوران کچھ طالب علم بیٹھے رہتے ہیں۔

دوسری طرف جامعہ نگر کے شاہین باغ میں 28 دن سے زیادہ وقت سے دن رات سڑک پر تحریک چلا رہی ہیں جس میں پڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اس تحریک کی قیادت بھی خواتین کر رہی ہیں۔ یہاں پر انڈیا گیٹ کی ایک علامت بنائی گئی ہے جس پر ان تمام لوگوں کے نام لکھا گیا ہے جو ملک بھر میں شہریت قانون کے خلاف تحریک کے دوران مارے گئے ہیں۔وہاں کا نظام دیکھنے والوں میں سے ایک محترمہ صائمہ خاں نے بتایا کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی یونیورسٹی کے طلبہ سمیت مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ نے اس مظاہرہ میں شریک ہوکر خواتین کا حوصلہ بڑھارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زبردست سردی کے موسم میں مسلسل 28 دنوں سے سریتا وہار کالندی کنج روڈ پر دھرنا دینے والی جامعہ نگر، شاہین باغ اور دہلی کے مختلف علاقوں کی خواتین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ اس کا قدم کس قدر غلط ہے اور اس نے مذہبی بنیاد پر قانون بناکر لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔

ان خواتین نے کہاکہ ہم سخت ترین سردی کے موسم مظاہرہ کرکے یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حکومت ہمارے درد کو سمجھے۔ محترمہ صائمہ خاں نے بتایا کہ اس دھرنا اور مظاہرہ میں شریک ہونے والے مقررین نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) واپس لینے اور قومی شہری رجسٹر (این آر سی) اور قومی آبادی رجسٹر (این آر پی) کا بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اس کا مقصد ملک کو تقسیم کی جانب دھکیلنا ہے۔ یہ قانون نہ صرف آئین کے خلاف ہے بلکہ ملک کی سیکولر اقدار و روایات کے بھی خلاف ہے۔انہوں نے کہاکہ اس میں صرف جامعہ نگر، شاہین باغ کی خواتین ہی نہیں بلکہ پوری دہلی کی خواتین اس مظاہرہ میں شرکت کر رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ جس طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور اترپردیش میں مظاہرین پر بربریت کا مظاہرہ کیا گیا ہے‘اس نے ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ شاہین باغ خاتون مظاہرین جہاں جے این یو پر طلبہ پرحملے کے بارے میں تشویش کا اظہا رکر رہی ہیں وہیں ان کا مطالبہ ہے کہ بھیم آرمی کے چیف چندر شیکھر کو جلد ازا جلدرہا کیا جائے۔اس کے علاوہ شاہین باغ میں پورے ہندوستان کا سنگم نظر آئے گا۔انہوں نے بتایا کہ شاہین باغ مظاہرین کی حمایت میں ہون بھی کیا گیا اور مسلم خواتین نے ٹیکے بھی لگائے۔ یہ اس بات ثبوت ہے کہ اس مظاہرہ میں صرف ایک فرقہ کے لوگ نہیں بلکہ ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی سب شامل ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ آکر شاہین باغ خواتین مظاہرین کی حمایت کررہے ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close