اپنا دیشتازہ ترین خبریں

مودی حکومت کو واہ واہی لوٹنے کی لت لگ گئی: کانگریس

اپوزیشن پارٹی کانگریس نے مودی حکومت پر پیر کو الزام لگایا ہے کہ اسے ‘واہ واہی’ لوٹنے کی لت لگ گئی ہے اور وہ حقائق کو توڑ مروڑ کر یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ سال 2014 سے پہلے ملک میں کوئی ترقی نہیں ہوئی تھی جو صحیح نہیں ہے۔

صدرجمہوریہ کے خطاب پر شکریہ تجویز پر لوک سبھا میں بحث کے دوران کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا،‘صدر جمہوریہ کے خطاب کے پیرا سات میں کہا گیا ہے ‘سال 2014 میں شروع ہوئے ترقی کے سفر’ہمیں اس پر اعتراح ہے۔ہندوستان کی ترقی کی تاریخ آزادی کے بعد ہی شروع گئی تھی۔”

انہوں نے الزام لگایا کہ خطاب کا یہ حصہ تاریخ کو جان بوجھ کر بدلنے کی کوشش ہے۔پہلے پانچ سالہ منصوبے کا کل الاٹ 2069کروڑ روپے تھا جو 11ویں پانچ سالہ منصوبے میں بڑھکر 36لاکھ کروڑ روپے ہوگیا۔ ملک کے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی)کی ترقی کی شرح سال 1901 سے 1951کے درمیان ایک فیصد سے بھی کم تھی جو 2007سے 2012 کے دوران 7.5فیصد سے زیادہ رہی،سال 2003 سے 2012 تک دس سال کی اوسط ترقی کی شرح 7.6فیصد سے بھی زیادہ رہی اور 10-2009میں تو یہ 8.6 فیصد پر پہنچ گئی۔کیا یہ ترقی نہیں ہے۔مالی سال 48-1947 کے بجٹ میں محصولات کی حصول یابی 171کروڑ روپے اور کل خرچ 197کروڑ روپے تھا جو 14-2013 میں بڑھکر تقریباً 10.56لاکھ کروڑ اور 14.36لاکھ کروڑ پر پہنچ گیا۔کیا یہ ترقی نہیں ہے۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ اگر کوئی ایک دن اچانک صبح اٹھ کر کہے کہ اب تک کچھ بھی نہیں ہوا اور آج سے ہی سب کچھ شروع ہورہا ہے تو یہ‘سچائی کو غلط طریقے سے پیش کرنا ہے ’۔

انہوں نے کہا،“اس حکومت کو واہ واہی لوٹنے کی لت لگ گئی ہے۔وہ حقائق کو توڑ مروڑ کر واہ واہی لوٹنا چاہتی ہے۔مسٹر چودھری نے کانگریس کی حکومتوں کے دوران ہوئے ترقیاتی کاموں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سبز انقلات کانگریس کے وقت ہوا تھا جس نے ملک کو اناج کی پیداوار میں خودمختار بنایا۔سفید انقلات کانگریس کے وقت میں ہوا تھا جس نے ہندوستان کو دودھ کی پیداوار میں 50ویں نمبر سے پہلے نمبر پر پہنچا دیا۔نیلا انقلات کانگریس کے وقت میں ہی ہوا تھا۔

انہوں نے کہا“کانگریس اس ملک کی روح ہے،اس ملک کی شناخت ہے۔”کانگریس لیڈر نے کہا کہ آزادی کے وقت ملک میں 300باندھ تھے جن کی تعداد سال 2000تک بڑھ کر چار ہزار کے پار پہنچ گئی اور ہندوستان باندھ کی تعمیر میں امریکہ اور چین کے بعد تیسرے نمبر پر پہنچ گیا۔ انڈین آئل، او این جی سی،بھارت پیٹرولیم،ہندوستان پٹرولیم،این ٹی پی سی اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا جیسے عوامی ادارے کانگریس کے وقت میں قائم ہوئے۔ جبکہ مودی حکومت نے عوامی ادارے بنانے کے بجائے انہیں بیچنے کا کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں نیوکلیائی توانائی کی ترقی کا سہرا بھی کانگریس کے سر جاتا ہے۔پہلے نیوکلیائی دھماکے کا سہرا اندرا گاندھی کی کانگریس حکومت کو اور دوسرے نیوکلیائی دھماکے کا سہرا اٹل بہاری واجپئی کی قومی جمہوری اتحادی حکومت کو جاتا ہے۔میزائل کے ترقی کا سہرا کانگریس کے سر جاتا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ اگر کانگریس نے سیٹلائٹ نہیں بنائی ہوتیں اور خلائی ٹیکنولوجی کی ترقی نہیں ہوتی تو آج مودی حکومت چندر یان 2کا منصوبہ نہیں بنا پاتی۔

مسٹر چودھری نے کہا کہ مودی حکومت نے کانگریس کے 23منصوبوں میں سے 19کو نام بدل کر واہ واہی لوٹنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں جن دھن کھاتا یوجنا، پردھان منتری جن اوشدھی یوجنا،پہل اور سوچھ بھارت یوجنا بھی شامل ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close