اپنا دیشتازہ ترین خبریں

ملک کے 47 ویں چیف جسٹس بنے شرد اروند بوبڈے

سپریم کورٹ کے سینئر جسٹس شرد اروند بوبڈے نے پیر کے روز ملک کے 47 ویں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا۔ صدر جمہوریہ رام ناتھ كووند نے راشٹر بھون کے تاریخی دربار ہال میں منعقد ایک مختصر تقریب میں جسٹس بوبڈے کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔

یاد رہے کہ 63 سالہ جسٹس بوبڈے نے جسٹس رنجن گوگوئی کی جگہ لی، جن کی مدت کار گزشتہ روز پوری ہوگئی۔ اس حلف برداری کی تقریب میں نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو، وزیر اعظم نریندرمودی، سابق نائب صدر محمد حامد انصاری، سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کےعلاوہ کابینہ وزراء سپریم کورٹ اور دہلی ہائی کورٹ کے جج، کئی سابق وزیر اور اراکین پارلیمنٹ موجود تھے۔

جسٹس بوبڈے 17 ماہ تک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر رہیں گے اور 23 اپریل 2021 کو سبکدوش ہوں گے۔ وہ مہاراشٹر کے وکیل خاندان سے آتے ہیں۔ ان کے والد اروند شری نواس بوبڈے بھی معروف وکیل تھے۔ چوبیس اپریل 1956 کو مہاراشٹر کے ناگپور میں پیدا ہوئے جسٹس بوبڈے نے ناگپور یونیورسٹی سے آرٹ اور قانون میں گریجویشن کی۔

سنہ 1978 میں مہاراشٹر بار کونسل میں انہوں نے بطور ایڈووکیٹ اپنا رجسٹریشن کرایا۔ بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بینچ میں 21 برس تک اپنی خدمات انجام دینے والے جسٹس بوبڈے سنہ 1998 میں سینئر وکیل بنے۔ وہ 29 مارچ 2000 کو بامبے ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج مقرر ہوئے۔ وہ 16 اکتوبر 2012 کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنائے گئے، چھ ماہ کے اندر اندر ہی انہیں 12 اپریل 2013 کو سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ترقی دی گئی۔

جسٹس بوبڈے نے کئی تاریخی فیصلوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ ایودھیا تنازعہ پر تاریخی فیصلہ دینے والی آئین بینچ کے بھی وہ رکن ہیں۔ وہ پرائیویسی کے بنیادی حقوق کے معاملے میں اگست 2017 میں فیصلہ دینے والی نو رکنی آئینی بنچ کے رکن بھی رہے ہیں۔ اس بینچ کی صدارت اس وقت کے چیف جسٹس جے ایس کھیرا نے کی تھی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close