اپنا دیشتازہ ترین خبریں

ملک سرکاروں سے نہیں سنسکاروں سے بنتا ہے: پی ایم مودی

اپنے پارلیمانی حلقے کے دورے کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو کہاکہ ملک محض حکومت سے نہیں بلکہ ایک ایک شہری کے سنسکار (تہذیب) سے بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری کے تہذیب کو اس کا احساس ذمہ داری عظیم بناتا ہے۔ ایک شہری کے طور پر ہمارا طرز عمل ہی ہندوستان کے مستقبل اور اس کی سمت کو طے کرے گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی اپنے پارلیمانی حلقے کے دورے پر آنے کے بعد وہ سب سے پہلے جگد گرو وشوارادھیہ گروکل پہنچے اورجگد گرو وشوارادھیہ گروکل شتمانوتسو پروگرام میں ’سدھارتھ سيكھواني گرنتھ‘ کتاب کا 19 زبانوں میں تراجم کے ساتھ ہی ایپ بھی لانچ کیا۔ جگد گرو وشوارادھیہ میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سنسکرت اور ثقافت کے سنگم میں آپ سب کے درمیان آنا میرے لیے خوش قسمتی کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ رام مندر سے منسلک ایک اور بڑا فیصلہ حکومت نے کیا ہے۔ اجودھیا قانون کے تحت جو 67 ایکڑ تحویل اراضی کی گئی تھی، وہ بھی پوری کی پوری، نو تشکیل شری رام جنم بھومی تیرتھ علاقے کو منتقل کر دیا جائے گا۔ جب اتنی بڑی زمین ہوگی تو مندر کی شان و شوکت مزید اور بڑھے گی۔ کچھ دن پہلے ہی حکومت نے رام مندر کی تعمیر کے لیے ایک خود مختار ٹرسٹ۔ ’شری رام جنم بھومی تیرتھ علاقے‘ کی تشکیل کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ ٹرسٹ اجودھیا میں بھگوان رام کی جائے پیدائش پرشری رام مندر کی تعمیر کا کام دیکھے گا اور تمام فیصلے کرے گا۔ رام مندر کی تعمیر کا مقدمہ دہائیوں سے عدالت میں لٹکا تھا۔ اب اجودھیا میں شاندار رام مندر کا راستہ ہموار ہو چکا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ نمامی گنگے مہم کے تحت 07 ہزار کروڑ روپے کے منصوبے پر کام مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ 21 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے منصوبے پر کام ترقی پر ہے جن منصوبوں پر کام چل رہا ہے انھیں بھی تیزی سے مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں تمام کام حکومت کے بھروسے نہیں چلائے جا سکتے۔ مٹھوں کے دکھائے راستے پر چلتے ہوئے، سنتوں کی طرف سے دکھائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے ہمیں اپنی زندگی کے عزائم پورے کرنے ہیں اور ملک کی تعمیر میں بھی اپنا مکمل تعاون کرتے چلنا ہے۔ جس طرح کاشی اور ملک کے نوجوانوں نے ’سوچھ بھارت ابھیان‘ کو ملک کے کونے کونے میں پہنچایا ہے …ویسے ہی مزید عزائم کو بھی ہمیں پورے ملک میں پہنچانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لال قلعہ سے بھی انہوں نے یہ درخواست کی تھی کہ ہمیں وہ چیزیں خریدنے پرترجیح دینی چاہئے جو مقامی ہوں۔ ملک میں بڑے بڑے مہمات صرف حکومت کے بھروسے نہیں چلائی جا سکتیں، اس کے لیے عوامی شراکت داری بہت ضروری ہے۔ گزشتہ 5-6 سالوں میں اگر گنگا جل میں بے مثال بہتری دیکھنے کو مل رہی ہے تو اس کے پیچھے بھی عوامی حصہ داری کی بڑی اہمیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی بھی یہی کوشش ہے کہ سنسکرت سمیت تمام ہندوستانی زبانوں میں توسیع ہو۔ جنگمواڑی مٹھ کے مؤثر اور نفسیاتی طور پر پسماندہ ساتھیوں کے لیے ترغیب کا ذریعہ ہے۔ سنسکرت زبان اور دوسری ہندوستانی زبانوں کو علم کا ذریعہ بناتے ہوئے ٹیکنالوجی کی شمولیت آپ کر رہے ہیں، وہ بھی حیرت انگیز ہے۔ حکومت کی بھی یہی کوشش ہے کہ سنسکرت سمیت تمام ہندوستانی زبانوں میں توسیع ہو، نوجوان نسل کو اس کا فائدہ ہو۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close