مسلمانوں کاعالمی منظر نامہ

ملی و قومی ترقی کا ضامن اجتماعی زکوٰۃ

اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اور قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی وہ کتاب ہے، جو بنی نوع انسان کی تعمیر و تشکیل، ترقی و ادراک میں زبردست رول ادا کرتی ہے۔ اسلام میں جو بھی ہدایات ایک مسلمان کے لئے دی گئی ہیں، وہ ساری دنیا کے لئے بھی ایک مثال ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے فرشتے موجود ہیں، کائنات کا ہر ذرہ اس کی عبادت میں ہمہ تن گوش ہے لیکن انسان کی عبادت اللہ کے نزدیک سب پر مقدم ہے اور یہ بھی اللہ کی رحمت و فضیلت کا بے مثال منظر ہے کہ اس نے اسلام کے جو پانچ بنیادی ارکان طے کئے ہیں، اس میں بھی امت مسلمہ کی بھلائی مفقود ہے۔ ایک مسلمان کے لئے پانچ بنیادی ارکان توحید، نماز، روزہ، زکوۃ اور حج فرض قرار دیئے گئے ہیں لیکن یہ اللہ کی رحمت کا نادر نمونہ ہے کہ اس میں بھی اس نے حالات اور اہلیت کے پیش نظر ان رکان کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔ اسلام کے ان پانچ ارکانوں میں کوئی بھی رکن ایسا نہیں ہے جو اللہ کی عبادت کے ساتھ ساتھ انسانی بہبود کے لئے کار آمد نہ ہو۔ توحید اسلام کا وہ رکن ہے، جو اللہ کی وحدانیت، اس کی طاقت کی گواہی دیتا ہے اور بندے کو اللہ کی طرف رجوع کرنے کا محرک بنتا ہے۔ نماز انسان کو اللہ تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ اپنی طہارت، معاشرے کی اصلاح وغیرہ کا ذریعہ بنتی ہے۔ روزہ، جو جسمانی و نفسانی طہارت کا زینہ ہے وہ ہمیں مساوات کی بھی تلقین کرتا ہے۔ بھوک کیا چیز ہوتی ہے وہ اس کا گمان کراتا ہے اور یہ تلقین کرتا ہے کہ ہمیں دوسروں کی بھوک کا بھی خیال کرنا چاہیے۔ مساوات کی اتنی بہترین مثال کہیں اور نہیں ملتی ہے۔ روزے دار کو روزہ افطار کرانا ایک بہترین عبادت ہے۔ غرض کہ اللہ تعالیٰ سے رمضان میں ہی بندہ رجوع نہیں کرتا بلکہ معاشرے سے بھی اس کا لگاؤ ہو جاتا ہے۔ حج عالمی اتحاد کی نشانی ہے اور زکوٰۃ تو اللہ کی طرف سے مسلمانوں کو دیا گیا ایک ایسا رکن ہے، جو مساوات کے قیام میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ زکوٰۃ کی رقم کا استعمال انسانی فلاح کی وہ عظیم مثال ہے جو ہمیں کسی مذہب میں نظر نہیں آتی۔ اپنی آمدنی کا ڈھائی فیصد حصہ ناداروں، غریبوں اور مجبور رشتہ داروں پر خرچ کرنا صرف ایک عبادت ہی نہیں ہے بلکہ انسانیت کا وہ نادر نمونہ ہے، جو کسی بھی مذہب میں نظر نہیں آتا۔ زکوٰۃ کا تصور صرف اور صرف مذہب اسلام میں ہے۔ اسلام میں زکوٰۃ کو فرض قرار دے کر انسانی خدمت کی جو تلقین کی گئی ہے، وہ اسلامی عظمت کی ایسی مثال ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اگر دنیا کے مسلمان اسلام کے اس رکن کی صحیح طور پر پیروی کریں تو اللہ کی خوشنودی بھی حاصل کی جا سکتی ہے اور معاشرہ بھی بھوک، غریبی، بے روزگاری کی دلدل سے نکل سکتا ہے۔ زکوٰۃ کے ذریعہ بڑے بڑے منصوبے بنائے جا سکتے ہیں۔ نہ صرف مسلمانوں کی تعلیمی و اقتصادی پسماندگی دور ہو سکتی ہے بلکہ اس پیسے سے ہم ملک میں بھی انسانی خدمات کا مینار بلند کر سکتے ہیں۔ دنیا کے ملکوں میں سعودی عرب واحد ملک ہے، جس نے اپنی حکومت میں زکوٰۃ کی ادائیگی کو واجب قرار دیا ہے، اس کے لئے اس نے باقاعدہ نظام بنایا ہے۔ زکوٰۃ کے اسی نظم کے تحت ہر سال سعودی عرب کے زکوٰۃ کے فنڈ میں 60 ملین سے زائد ریال جمع ہوتے ہیں۔ اتنی خطیر رقم انسانی فلاح کے لئے خرچ کی جائے تو خوش حالی کا دریا بہہ سکتا ہے۔ زیر نظر مضمون میں سعودی عرب کے تعلق سے زکوٰۃ کی رقم کی وصولیابی کے لئے جدید تکنیک اپنائی جا رہی ہے اور زکوٰۃ کی رقم کو مستحقین کے علاوہ فلاحی مقاصد پر خرچ کرنے پر بھی غور ہو رہا ہے۔ قدیم اقتصادی نظام کے بجائے جدید نظام کو جدید روشنی میں دیکھنے کی سعی ہو رہی ہے تاکہ زکوٰۃ کے جو اصل مقاصد ہیں ان پر مؤثر انداز میں عمل درآمد ہو سکے۔ اس کے لئے القاسم یونیورسٹی کی شرعیہ فیکلٹی کے پروفیسروں کی ایک ٹیم کام کر رہی ہے۔ ڈاکٹر صالح وغیرہ اس میں خصوصی رول ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زکوٰۃ کی رقم سے مستحقین کو خود کفیل بنایا جائے اور اس کی اضافی رقم کا استعمال بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں کیا جائے۔ اس قدم سے نہ صرف مملکت میں ترقیاتی کام ہوں گے بلکہ مستحقین کو بھی زیادہ فائدہ ہوگا۔ پیش ہے زکوٰۃ کے تناظر میں آج کا خصوصی ضمیمہ:

اسلام کے پانچ بنیادی ارکان توحید، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج، جو کہ اللہ تبارک و تعالی کی جانب سے لازم و ملزوم قرار دیئے گئے ہیں۔ مشرف بہ اسلام ہوتے ہی یہ پانچوں ارکان فرائض میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ توحید کے تحت دل و زبان سے اس بات کا اعتراف کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمدؐ، اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، اہل ایمان ہوتے ہی ہر بالغ، عاقل مرد وخواتین پر پنچ وقتہ نماز فرض ہو جاتی ہے۔ فرض نمازوں کے بعد سال میں ایک مہینہ، جوکہ ماہ رمضان کہا جاتا ہے اس میں پورے مہینے روزے رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے لیکن ماہ رمضان میں ہی لوگ زکوٰۃ ادا کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ حالانکہ صاحب نصاب کو اس مال پر زکوٰۃ دینی لازمی ہوتی ہے، جس پر ایک سال گزر چکا ہو تاہم حج صرف صاحب استطاعت پر فرض ہے اور زندگی میں ایک مرتبہ فریضۂ حج ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حالانکہ زکوٰۃ اسلام کا ایک اہم ترین رکن ہے، جس کے تحت زکوٰۃ وصول کی جاتی ہے اور مستحقین کو ادا کی جاتی ہے لیکن شریعت کی روشنی میں زکوٰۃ کی رقم کو وصول کرنے کے طریقۂ کار اور مستحقین کو ادا کئے جانے کے نظام سے علماء کرام مطمئن نہیں ہیں۔ ان کے نظریہ کے مطابق قرآن وحدیث کی روشنی میں زکوٰۃ کی رقم وصول کرنے او مستحقین کے درمیان اسے تقسیم کرنے کا ایک منظم نظام ہونا چاہیے۔ برصغیر ہندوپاک میں بہت سی رضاکار تنظیموں نے اس جانب توجہ دینی شروع کی ہے اور ان کے مثبت اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں لیکن 9 سال قبل سعودی عرب میں زکوٰۃ کی رقم وصول کرنے اور اسے مستحقین تک جلدازجلد پہنچانے کے تعلق سے مملکت کے اعلی عہدیداروں کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی تھی، جس میں زکوٰۃ کے نظام کو مزید متحرک بنانے کے لئے غور وخوض کیا گیا تھا۔ حالانکہ آج پوری دنیا میں زکوٰۃ کے نظام کو مزید فعال بنانے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے جبکہ سعودی عرب میں 9 سال قبل ہی اس اہم مسئلہ پر عمیق غور وخوض کیا گیا تھا۔

بہت سے اسلامی اسکالروں اور ماہرین معاشیات نے یہ مشورہ دیا ہے کہ زکوٰۃ جمع کرنے اور اس کی تقسیم کاری کے نظام میں جدید ٹکنالوجی کا استعمال کرکے اس کے توسط سے غربت کو مزید کم کیا جانا چاہیے۔ مملکت کے اعلی افسروں نے یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ زکوٰۃ ڈپارٹمنٹ کو اپ گریڈ کیا جائے اور اس کی کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور بہتر تو یہ ہوگا کہ اسے ایک خودمختار محکمہ بناکر اس کے اختیارات میں اضافہ کر دیا جائے۔ ایسا کرنے سے زکوٰۃ کا نظام مزید بہتر اور زیادہ مفید ہو جائے گا۔ عربی روزنامہ ’الریاض‘ کے مطابق مملکت میں ہر سال زکوٰۃ کی مد میں تقریباً 60 ملین سعودی ریال جمع ہو جاتے ہیں۔ دنیا کے ممالک میں سعودی عرب ہی ایسا اولین ملک ہے، جس نے زکوٰۃ دینے کے نظام کو واجب قرار دیا تھا ۔اس وقت القاسم یو نیورسٹی میں فیکلٹی آف اکو نو مکس اینڈ ایڈمنسٹریشن کے ڈین ڈاکٹر ابراہیم بن صالح ال عمر نے روزنامہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مملکت میں زکوٰۃ کی رقم جمع کرنے کے موجودہ نظام کا جائزہ لیا جانا نہایت ضروری ہے۔ اسی لئے انہوں نے کہا تھا کہ ’’انسانی تاریخ میں زکوٰۃ ایک ایسا اولین معلوم شدہ نظام ہے، جس میں معاشرے کے لوگوں کے درمیان سماجی انصاف پیدا کرنے کی طاقت ہے۔ ہمیں ازسر نو اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ زکوٰۃ کی جمع شدہ رقم کو اس کے اصل مقاصد پورے کرنے کے لئے کس طرح سے صرف کیا جائے۔‘‘

ال عمر کے مطابق اس وقت مملکت میں زکوٰۃ کی رقم جمع کرنے کا جو طریقہ رائج تھا وہ ملک کے قدیم اقتصادی نظام کے مطابق تھا جوکہ 60 سال قبل متعارف کرایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جدید نظام کو جدید روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ زکوٰۃ کے جو اصل مقاصد ہیں ان پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا جا سکے۔ اسی لئے انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’’خصوصی طور پر یہ بات اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ زکوٰۃ ڈپارٹمنٹ وزارت خزانہ کی ہی ایک شاخ ہے۔ یہی وقت ہے جبکہ زکوٰۃ ڈپارٹمنٹ کی اہمیت پر مزید توجہ دی جائے اور مملکت میں اسے ایک اہم ترین ادارہ بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ زکوٰۃ کی یا تو ایک اتھارٹی قائم کی جائے یا پھر ایک کارپوریشن تشکیل دیا جائے، جس کو اعلی اختیارات حاصل ہوں اور ان کے توسط سے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انفرادی اکائیاں (Individuals Firms) اور دیگر بڑی کمپنیاں استثنیٰ کے بغیر زکوٰۃ ادا کریں۔ انہوں نے مزید انکشاف کیاکہ سعودی معیشت میں زبردست ترقی ہونے کے پیش نظر اس رقم میں زبردست اضافہ ہو سکتا ہے بشرطیہ کہ زکوٰۃ کی رقم مناسب طریقہ سے جمع کی جائے۔

ال عمر نے یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ زکوٰۃ کے محکمہ کو مزید اختیارات تفویض کئے جائیں تاکہ اس رقم کو واجب طور پر مستحقین تک پہنچایا جائے اور اس سے اس طرح کی سرمایۂ کاری بھی کی جائے تاکہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اس قدر اضافہ ہو جائے کہ ضرورت مندوں کو نقدی دے کر ان کی معاونت کی جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ اس ادارہ کو اس زمرہ میں تسلیم کیا جانا چاہیے کہ وہ تمام باشندوں، غیر ملکی شہریوں اور مملکت میں واقع تمام کمپنیوں کے اکائونٹوں کا جائزہ لے سکے۔ اس کے بعد زکوٰۃ کی جمع شدہ رقم کا اس طرح سے جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ انفرادی اور فرموں دونوں کے اکاؤنٹوں کی اقتصای حالت کی جانکاری حاصل ہو سکے۔ اسی نظریہ کی توثیق کرتے ہوئے داکٹر عبدالعزیز ال شاوی جوکہ ال قاسم یونیورسٹی میں شرعیہ فیکلٹی کے ایسو شیئٹ پروفیسر ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ نئے نظام میں زکوٰۃ کی رقم جمع کرنے یا تقسیم کرنے کے نظام میں عملی اقدام طے کرنے کے لئے جدید ٹکنالوجی کے استعمال سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔ اس مشورہ سے نئے نظام میں جدید ٹکنالوجی سے املاک و جائیداد کے تعلق سے تخمینہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ماہرین معاشیات، اسکالروں، کانفرنسوں اور سیمیناروں کے توسط سے مشورہ بھی کیا جا سکتا ہے یا پھر یونیورسٹیوں کے اشتراک سے ورکشاپوں کا انعقاد بھی کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں مملکت اور بیرون ملک واقع ریسرچ سینٹروں سے بھی اس سلسلے میں تعاون لیا جا سکتا ہے۔

ال شاوی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مملکت میں باشندوں کے معیار زندگی اور ان کی معاشی حالت کے بارے میں اعدادوشمار (Statical Report) کی رپورٹ شائع کرنا بھی ضروری ہے اور ان لوگوں کی فہرست شائع کرنا نہایت ضروی ہے جوکہ زکوٰۃ کی رقم لینے کے حقدار ہیں۔ زکوٰۃ کا اولین مقصد یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ زکوٰۃ کی رقم وصول کرنے والے خود کفیل ہو جائیں۔ زکوٰۃ کی رقم جمع کرنے والے ادارہ کو یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اضافی رقم کی بڑے بڑے ترقیاتی پروجیکٹوں میں سرمایہ کاری کر دینی چاہیے۔ اس اقدام سے نہ صرف مملکت میں ترقیاتی کام ہوں گے بلکہ ان سے ہونے والی آمدنی سے مستحقین کو زیادہ فائدہ ہوگا۔

ڈاکٹر صالح ال تو یجری جو کہ القاسم یونیورسٹی میں ایک لیکچرر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے بھی زکوٰۃ ڈپارٹمنٹ میں تبدیلی کئے جانے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا اور ساتھ ہی یہ مشورہ دیا تھا کہ اسے مزید اختیارات کے ساتھ ایک خودمختار ادارہ بنا دیا جائے جوکہ راست طور پر مملکت کے حکمرانوں کے تئیں جواب دہ ہوگا۔ اسی یونیورسٹی کے ایک دیگر پروفیسر ال مشعجعہ (Ibrahim Al-Meshaigeh)کا کہنا تھا کہ ’’زکوٰۃ انفرادی طور پر تقسم نہیں کی جانی چاہیے بلکہ اس کی تقسیم کاری مملکت کے حکمرانوں کے اشتراک سے کی جانی چاہیے کیونکہ زکوٰۃ تقسیم کرنے کے مناسب نفاذ سے مملکت میں نہ صرف خوشحالی آئے گی بلکہ غربت کا خاتمہ بھی ہو جائے گا۔ ‘‘ال مشعجعہ نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ تمام رئیل اسٹیٹ کے مالکان کو زکوٰۃ نظام کے دائرے کے تحت لانا چاہیے۔ اسی لئے انہوں نے کہا تھا کہ ’’رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں زبردست اچھال دیکھنے کو مل رہا ہے تاہم مملکت میں رئیل اسٹیٹ مالکان زکوٰۃ کی واجب رقم ادا نہیں کر رہے ہیں۔‘‘ القاسم ریجن میں زکوٰۃ اور مالیات محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل صالح بن ابراہیم الصریح نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ یہ محکمہ اس ضمن میں جدید ٹکنالوجی متعارف کرانے کے لئے جانفشانی سے کام کر رہا ہے۔ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’’’پوری مملکت میں واقع اس محکمہ کی برانچوں میں ای۔گورنیس (e -Governance) سسٹم متعارف کرا دیا گیا ہے۔ ہم ایسا نظام قائم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں تاکہ ہر شخص زکوٰۃ کی رقم ڈپارٹمنٹ میں جمع کرنے کے لئے برقی نظام کے توسط سے ہم سے رابطہ کر سکے۔‘‘

انٹرنیشنل زکوۃ آرگنائزیشن (آئی زیڈ او ) کے مینجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او محمد حسن عیسیٰ کے مطابق 3 بلین ڈالر کے فنڈ سے جدہ میں آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس (او آئی سی ) نام سے ایک نیا ادارہ قائم کر دیا گیا ہے۔ اس ادارہ کا تصور اور نظریہ یہ ہے کہ نہ صرف زکوٰۃ کی رقم سے اسلامی ممالک میں غربت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے بلکہ پوری دنیا سے غربت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری بات یہ ہے کہ’’ہم رقومات مناسب طرح سے جمع کرکے ان کی صحیح طرح سے ہی تقسیم کاری کریں۔‘‘ اس ضمن میں اس وقت کے ملیشیا کے وزیراعظم اور آئی زیڈاو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئر مین ڈاکٹر احمد زاہد حمیدی نے کہا تھا کہ ’’ہر مسلمان کی یہ اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ پوری دنیا میں غربت، بدعنوانی اور عدم مساوات میں مبتلا مسلمانوں کی دشواریوں کا ازالہ کریں۔‘‘

اس سے قبل سعودی عرب کی صف اول کی پیشہ وارانہ خدمات فراہم کرنے والی ایک فرم ڈیلوئیٹ اینڈ ٹچ بکر ابو الخیر اینڈ کمپنی (Deloitte & Touch Bakr Abul Khir & Co.) نے کثیر جہتی ٹیکس اور زکوٰۃ امور کے اعلی ترین ماہرین کا جدہ میں ایک سیمینار منعقد کیا تھا۔ اس سیمینار میں سعودی اور غیر سعودی تجارتوں کے تعلق سے ٹیکس اور زکوٰۃ کی موجودہ روایت پر روشنی ڈالی گئی تھی اور دیگر امکانات تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ اسی تسلسل میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’یہ نہایت اہم بات ہے کہ سعودی عرب کی کمپنیاں اور تاجران ٹیکس اور زکوٰۃ کی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور مناسب نیز واجب رقم ادا کرتے ہیں۔

بہر کیف، زکوٰۃ کی رقم ادا کرنا صاحب نصاب مسلمانوں کے لئے لازمی (Mandatory) ہے لیکن اس کے نظام کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق مربوط کرنے کی جانب توجہ دی گئی اور سعودی عرب نے اس کی پہل کرتے ہوئے اجتماعی زکوٰۃ کی رقم جمع کرنے کے لئے اسے e-governance سے منضبط کر دیا ہے، جس کی وجہ سے جمع شدہ رقم کو جلد از جلد مستحقین تک پہنچانے کے لئے جدید ٹکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا ہے، جس میں کسی بھی طرح کی لغزش نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نظام پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے قابل تقلید بن گیا ہے اور بہت سے ممالک نے اجتماعی طور پر زکوٰۃ ادا کرنے کے اس نظام پر عمل کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ یقینی طور پر اجتماعی زکوٰۃ نکالنے سے ملت کو زبردست فائدہ ہوگا۔

([email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close