اترپردیشتازہ ترین خبریں

مفاد عامہ میں مضبوط نہیں، مجبور حکومت کی ضرورت: مایاوتی

بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے سنچیر کو یہاں منعقد پارٹی کی جائزہ میٹنگ میں کہا کہ مفاد عامہ کے پیش نظر ‘مضبوط نہیں، مجبور حکومت’ کی ضرورت ہے۔ تاکہ حکومت کے دل و دماغ میں عوامی مفاد میں کام کرنے کا خوف لگا تار بنا رہے۔

محترمہ مایاوتی نے سنیچر کو یہاں اودھ و پوروانچل علاقے کے نوڈویژنس کے سینئر پارٹی ذمہ داران ساتھ ہونے والے ضمنی انتخابات میں پارٹی کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سالوں سے مرکز اور ریاست میں دونوں جگہ بی جے پی کی حکومت ہونے کے باوجود اترپردیش کی ترقی نہیں ہوئی ہے۔ عام عوام کے مفاد میں مضبوط نہیں بلکہ مجبور حکومت کی ضرورت ہے۔ تاکہ حکومت کے دل و دماغ میں عوام کی بھلائی کا خوف لگاتار بنا رہے۔ مجبور حکومت ہوگی تو حکومت بے لگام ہوکر من مانے فیصلے نہیں کرے گی۔ اور برسر اقتدار پارٹی کے لوگ اپنے آپ کو قانون سے اوپر نہیں سمجھیں گے۔

انہوں نے بی جے پی حکومت پر مخصوص سرمایہ کاروں، کاروباریوں اور دھنہ سیٹھوں کے مفاد میں زیادہ کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت عوام کے فلاح کے بجائے کمرشیل ذہنیت والی بنتی جارہی ہے۔ پوروانچل کا علاقہ جہاں سے وزیر اعظم اور اترپردیش کے وزیر اعلی آتے ہیں، کے گاؤں میں غریب،، کسان سبھی کا برا حال ہے۔ ان علاقوں میں رہنے والے افراد مجبوری میں اپنا علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ ان علاقوں میں بھی کروڑ غریب جرائم سے نجات و بہتر نظم ونسق و ترقی کے لئے ترس رہے ہیں۔جو بی جے پی حکومت کے تمام وعدوں و دعوں کو کھوکھلا ثابت کرتا ہے۔

بی ایس پی سپریمو نے کہا کہ ریاست میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ نظم ونسق کے ساتھ ساتھ بجلی، سڑک، پانی، میڈیکل، تعلیم، آمدو رفت وغیرہ کا بہت برا حال ہے۔ نئی نسل آنے والے چیلجنز کا سامنا کرنے میں نا اہل ثابت ہورہی ہے۔محترمہ مایاوتی نے کہا کہ بی جے پی حکومت ایک طرف تو دیہی روزگار کے بجٹ میں لگاتار کمی کر کے یومیہ مزدوروں کا حال بدتر سے بدتر کرر ہی ہے۔ سات لاکھ سے زیادہ سرکاری اسامیاں خالی ہیں۔ اس سے ایس سی/ ایس ٹی سماج کے لوگ زیادہ متأثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی 130 کروڑ عوام کے اصلی مفاد اورفلاح کی فکر کرکے اس کے عین مطابق پالیسی بنانے کے بجائے صرف کچھ مٹھی بھر سرمایہ کارروں، کاروباریوں اور پونجی پتیوں کے مفاد میں زیادہ کام کر رہی ہے۔ جبکہ ان کا مفاد صرف نفع کمانا ہی ہوتا ہے۔ صرف پرائیویٹ سیکٹر کو ہی ہر طرح سے فروغ دے کر ملک کے ترقی و مفاد عامہ کے معاملے میں حکومت اپنی آئینی ذمہ داری سے فرار اختیار کرنا چاہتی ہے۔ محترمہ مایاوتی نے کہا کہ 130 کروڑ کی آبادی والے ملک میں کچھ مٹھی بھر لوگو ں کو گیس، چولہا مکان وغیرہ مہیا کرا دینے سے کیا مرکزی حکومت کی ذمہ داری یہیں ختم ہو جاتی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close