تازہ ترین خبریںمسلمانوں کاعالمی منظر نامہ

مغربی خواتین میں حجاب کی کشش

اتر پردیش کے ایک وزیر نے نقاب پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے وزیر موصوف کی منطق ہے کہ نقاب راکشسوں کا لباس ہے۔ راون کی بہن کی جب لکشمن نے ناک، کان کاٹ لئے تھے تو راون کی بہن سپورن ریکھا نے نقاب کا استعمال کیا تھا۔ وزیر نے صرف اتنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ بھی کہہ دیا کہ نقاب سے دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یوں تو نقاب، حجاب ہمیشہ اسلام دشمنوں کے نشانہ پر رہا ہے۔ مگر 9/11 کے بعد تو نقاب اس قدر معتوب زمانہ ہوا کہ اس کے خلاف مہم چلائی جانے لگی۔ یوروپ اور امریکہ میں نقاب کے خلاف ذہنیت اتنی خراب رہی کہ آج بھی وہاں اسکولوں و دیگر سرکاری اداروں میں نقاب پہن کر سروس کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ بعض ممالک نے نقاب پر با ضابطہ پابندی عائد کر دی ہے۔ مسلم طالبات نقاب پہن کر اسکول کالج نہیں جا سکتیں۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشت گردانہ حملے کے بعد اسلام کی شبیہ مجروح کی گئی خاص طور پر نقاب جس طرح نفرت کا شکار ہوا وہ بھی ایک المیہ ہے اور آج بھی ہوائی اڈوں پر نقاب پوش خواتین کی گھنٹوں چیکنگ ہوتی ہے حالانکہ حجاب کا استعمال چرچ میں نن کرتی ہیں مگر راحباؤں کے حجاب پر کوئی سوال نہیں اٹھتا جبکہ پردہ اسلام کے تقدس کو برقرار رکھنے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ حیا ایمان کا حصہ ہے۔ مسلم خواتین محض اپنی حفاظت اور نسوانی وقار کی خاطر ہی نقاب کا استعمال نہیں کرتی ہیں بلکہ اپنے ایمان کو بھی جلا بخشتی ہیں۔ آج کے دور میں تو نقاب عورتوں کے لئے تحفظ ہی نہیں بلکہ نسوانی تقدس کی علامت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج نقاب اور حجاب کی حمایت میں خواتین کی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے۔ یوروپ اور امریکہ میں خاتون فوجی افسران سے لے کر دیگر اہم شعبہ حیات میں کام کرنے والی عورتیں اب حجاب پہن کر خود کو پر وقار محسوس کرتی ہیں اور اس کی وجہ سے معاشرہ میں بھی ان کو قدر ومنزلت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ بہرحال، نقاب پر تمام تر اعتراضات اور پابندی کے باوجود یہ مسلم لباس غیر مسلم خواتین کے لئے کافی اہمیت اور نسوانی وقار کی علامت بن چکا ہے۔ زیر نظر مضمون دنیا میں نقاب پر ہو رہے اعتراضات اور پابندی کے باوجود نقاب کی مقبولیت، افادیت اور اہمیت کو اجاگر کرتا ہے:

پوری دنیا میں خصوصی طور پر یوروپ اور امریکہ میں مسلم خواتین کے نقاب پر نہ صرف اعتراضات کئے جا رہے ہیں بلکہ کئی ممالک نے تو نقاب پر پابندی عائد کر دی ہے۔ نقاب زیب تن کرکے طالبات کو اسکولوں میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے۔ کہیں یہ جواز دیا جاتا ہے کہ نقاب یا پردے سے ملک کی سیکورٹی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے، کہیں یہ کہا جاتا ہے کہ نقاب سے دہشت گردی کو فروغ ملتا ہے۔ دہشت گرد نقاب پہن کر یا شناخت چھپا کر دہشت گردانہ حملے انجام دیتے ہیں۔ اسی جواز کی آڑ میں خواتین کو نقاب زیب تن کرنے پر اسی زمرہ میں شامل کر لیا گیا۔ امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد سے تو اس مفروضہ میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ہوائی اڈوں پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کر دیئے گئے۔ ہمارے ملک میں بہت سے سرکاری اور پرائیوٹ اسکولوں میں طالبات کے ذریعہ برقع زیب تن کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ تعلیمی اداروں نے اس سلسلے میں سخت اقدامات کئے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کلاس میں نقاب پہننے سے تفریق پیدا ہوتی ہے اور حصول تعلیم کے دوران اس طرح کی روش مناسب نہیں ہے جبکہ مشنری اسکولوں میں راحباؤں کے لباس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا ہے۔ مسلم خواتین یا طالبات اسلامی ضابطہ کے تحت نقاب پہنتی ہیں اور پردہ کرتی ہیں انہیں کوئی مجبور نہیں کرتا ہے، اس لئے یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ پوری میں مذہب اسلام کے ضابطے، رسم و رواج اور تہذیب و تمدن کو بدنام کرنے کے لئے منظوم سازش کی گئی جس کا آغاز امریکہ اور یوروپ سے ہوا تھا لیکن اب رفتہ رفتہ ان کی غلط فہمی دور ہوتی جا رہی ہے۔

ابھی اسی ماہ میں اخبارات کی شہہ سرخیوں میں یہ رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ جرمنی نے اپنے ملک میں واقع اسکولوں میں برقع پر عائد پابندی کو ختم کر دیا ہے ہیمبرگ میں محکمہ تعلیم کے حکام کی انتظامی عدالت نے نقاب پہن کر اسکول آنے پر محکمہ تعلیم کے اعتراض کو خارج کر دیا ہے اور اپنا فیصلہ سناتے ہوئے فاضل عدالت نے یہ کہا ہے کہ ریاستی قانون کے تحت حکام اس قسم کی پابندی عائد نہیں کرسکتے ہیں۔ قابل غور بات یہ بھی ہے کہ فاضل عدالت کے اس فیصلہ کے خلاف فی الحال اپیل بھی نہیں کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک خوش آئند فیصلہ ہے لیکن اس سے بھی زیادہ خوش کن بات تب ہوتی جب کوئی غیر مسلم خاتون مسلم خواتین کے جذبات کا احترام کرتے ہو ئے نقاب زیب تن کرنا شروع کردے۔ 12 سال قبل اسی طرح کی ایک مثال سامنے آئی تھی۔

اقوام متحدہ کی امن و امان قائم کرنے والی فورس جب شورش زدہ لبنان میں تعینات کی گئی تھی تو اس میں شامل ایک فوجی خاتون نے فوجی ٹوپی اتار کر حجاب پہننا شروع کر دیا تھا۔ فوجی خاتون سلویا مونیکا وسزومرسکا (Sylvia Monika Wyezomirska) پولینڈ نژاد عیسائی فوجی خاتون تھیں۔ چونکہ اس وقت لبنان میں ماہ رمضان چل رہا تھا، اس لئے مونیکا نے لبنان کے جنوبی معاشرے میں وہاں سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کی تھی۔ اس سلسلے میں وسزومرسکا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”اس ملک کے ماحول جہاں میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہوں، چنانچہ ماہ رمضان کے دوران مجھے بھی یکجہتی اظہار کرنا چاہئے۔“ 37 سالہ وہ فوجی خاتون اس ملک میں چار ماہ سے تعینات تھی۔ اس بات کا انکشاف پہلی مرتبہ اے ایف پی نیوز نے کیا تھا۔وسزومرسکا نے وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی بتایا تھا کہ ”جب سے میرے فوجی دستہ کو ایک مسلم ملک میں تعینات کیا گیا تب سے ہی میں نے فوجی وردی پر حجاب پہننے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ”انہوں نے مزید کہا تھا کہ ”نقاب پہننے کا جذبہ خود بخود ان کے دل میں پیدا ہوا تھا اور یہ مجھ پر کسی کے ذریعہ تھو پا نہیں گیا تھا۔“ بلکہ ان کے سینئر افسران نے ان کے اس فیصلہ کی ستائش بھی کی تھی کہ وہ ماہ رمضان کے تقدس کے پیش نظر حجاب زیب تن کر سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ ”انہوں نے مجھے یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ میں رمضان المبارک کے رسم و رواج سے دیگر فوجیوں کو بھی واقف کراؤں تاکہ وہ بھی ماہ رمضان کی روایت کا حترام کریں۔ روزہ کے دوران ختم سحر سے افطار تک عوام کے درمیان کھانے پہننے سے گریز کریں۔“ پولینڈ کی اس فورس میں تعینات ایک دیگر 36 سالہ فوجی خاتون نے وسزومرسکا کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ یہ سوچتی ہیں کہ ”حجاب پہننا ایک خوش آئند اقدام ہے کیوںکہ اس کی وجہ سے مقامی باشندوں کی قربت حاصل ہو جاتی ہے۔“ لیکن خود دوسری فوجی خاتون نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ وہ وسزومرسکا کی طرح حجاب زیب تن نہیں کریں گی کیونکہ ”اس کی وجہ سے میری وضع مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گی اور میں ایسا نہیں چاہتی ہوں۔“

ڈیبین (Debbine) موضع کی حجاب زیب تن کرنے والی ایک طالبہ ظاہرہ حجازی کا کہنا ہے کہ ”میں نے جب سلویا (Sylviya) کو حجاب پہنے ہوئے دیکھا تو مجھے بہت تعجب ہوا تھا کیونکہ میں جانتی ہوں کہ وہ مسلمان نہیں ہے لیکن راحبائیں نقاب لگاتی ہیں کیونکہ وہ عیسائی ہوتی ہیں“ لیکن دوسری جانب ڈیبن کے میئر محمد شریف ابراہیم نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ”وسزومرسکا کے نقاب پہننے کے فیصلہ سے ان کے بہت سے اراکین کو تعجب ہوا تھا کیونکہ یہ ایک غیر معمولی قدم ہے“۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ ”یہ ایک خوشگوار علامت ہے جوکہ لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی عبوری امن فورس اور مقامی باشندوں کے درمیان تمام رکاوٹوں کو دور کر دے گی۔

ایک تین سالہ بیٹی کی والدہ وسزو مرسکا نے یہ بھی بتایا تھا کہ انہوں نے اسی ہلکے نیلے رنگ کے حجاب کا انتخاب کیا تھا جس رنگ کی فوجی کیپ اقوام متحدہ کے 13000 مضبوط فوجی پہنتے ہیں۔ کراکوو (KaraKaw) کی رہنے والی وسزو مرسکا اقوام متحدہ کے 200 پولش فوجیوں کے لئے مترجم کے فرائض بھی انجام دیتی تھیں اور اس کام سے وہ براہ راست ان لوگوں کے رابطہ میں آگئی تھیں جوکہ مارجایون (Marjayoun) خطے کے مواضعات میں رہتے تھے۔ جنوبی لبنان میں تعینات ہونے پر اسلامی روایات سے واقف ہونے کا وسزومرسکا کے لئے یہ پہلا موقع نہیں تھا۔ اس سے قبل وہ کویت، عراق اور شام میں بھی تعینات رہی تھیں جس کی وجہ سے انہیں عربی زبان پر عبور حاصل ہو گیا تھا۔ اسی تعلق سے انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا تھاکہ ”جب میں جیگی لونسکی (Jagiellonski) یونیورسٹی میں مشرقی زبانوں کی تعلیم حاصل کر رہی تھی تو وطن واپس آنے کے بعد میں نے ان ممالک جیسے لبنان، عراق، شام اور کویت جہاں پر ہمارا کام ختم ہو گیا تھا وہاں کے رسم ورواج کی تاریخ اور جغرافیہ کی جانکاری حاصل کر لی تھی جس کی وجہ سے مجھے عرب ممالک کے کسی بھی خطہ میں رابطہ کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی۔“ ماہ رمضان کے دوران وسزومرسکا کے حجاب زیب تن کرنے کی وجہ سے مقامی دیہی باشندوں کے ساتھ نہ صرف ان کے تعلقات خوشگوار ہوگئے تھے بلکہ ان کے دیگر ساتھیوں کے ساتھ بھی اچھے ہو گئے تھے اور دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے مواقع پیدا ہونے کے مزید دروازے وا ہو گئے تھے۔ وہاں کے باشندوں نے کافی اور مٹھائیاں پیش کرنے کے لئے انہیں اپنے گھروں میں مدعو کرنا شروع کر دیا تھا اور جب وہ کسی کے گھر جاتے تھے تو مسکراہٹ کے ساتھ بچے ہاتھ ہلا کر ہمارا استقبال کرتے تھے۔اسی برتاؤ کی وجہ سے شاید وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئی تھیں کہ ”آج میں یہ محسوس کرتی ہوں کہ ڈیبن(Debbine) بلاٹ (Blat) اور ایرڈ(Arid) جیسے مقامات میرے دوسرے خاندان ہیں۔“ انہوں نے اس علاقہ کے مواضعات میں یہ جملے ادا کئے تھے۔

دریں اثناء غیر مسلم طالبات جوکہ کناڈا میں منعقد معاشرتی تجربات کی ایک کانفرنس میں شرکت کر رہی تھیں، انہوں نے وہاں کی مسلم خواتین سے حجاب کے تعلق ان کے تجربات پر مباحثے کئے تھے۔”پردے کے پیچھے“ (Behind the Veil) عنوان سے منعقد اس کانفرنس میں 28 غیر مسلم طالبات نے ان مسلم خواتین کی زندگی کے بارے میں جانکاری حاصل کی تھی جوکہ حجاب زیب تن کرتی تھیں۔ اس تجرباتی کانفرنس کا تصور ٹیکسٹائل اور اپرل منیجمنٹ کی ایک جونیئر سارہ یسین کے ذہن میں آیا تھا۔ انہوں نے مسلم خواتین کے لباس راست طور پر دکھانے کے لئے طالبات کو اس کانفرنس میں مدعو کیا تھا۔ اس تقریب کے منتظمین نے مسلم طالبات کے ایک پینل کے ہمراہ شرکت کرنے والی طالبات سے بات چیت کی تھی اور ان سے ماضی کے تجربات اور اس وقت کے تاثرات کے بارے میں معلومات کی تھیں۔ جبکہ ایک دیگر طالبہ نے یہ کہا تھا کہ ”میں نے محض تجسس کی وجہ سے اس کانفرنس میں شرکت کی ہے۔“ گرافک ڈیزائن کی ایک جونیئر نے بتایا تھا کہ انہوں نے اس کانفرنس میں اس وجہ سے شرکت کی ہے کہ”میں نے یہ سوچا تھا کہ یہ ایک دلچسپ نظریہ کو پیش کرتا ہے“ اور یہ بھی بتایا تھا کہ ”جب میں حجاب زیب تن کرتی ہوں تو مجھے عجیب نہیں لگتا بلکہ خیر سگالی کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔“ وٹز کے(Witzke) نے بتایا کہ جب ان کے گیسو کھلے ہوئے ہوتے ہیں تو اس وقت کے مقابلے میں لوگ ان کی جانب کم دیکھتے ہیں جبکہ وہ حجاب میں ہوتی ہیں اور اس سے احترام کے جذبہ کی ترجمانی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ روزانہ معمول کے مطابق جو مسلم خواتین حجاب زیب تن کرتی ہیں اس کو اس وقت تک نہیں سمجھا جا سکتا جب تک کہ کسی کو بذات خود اس کا تجربہ نہ ہو۔ چنانچہ اس تعلق سے انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ آپ خود کو چھپا رہی ہیں اور اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ آپ خود کو شرمندہ محسوس کر رہی ہوں، حجاب کی وجہ سے آپ کو فخر کا احساس ہوتا ہے۔“

پرائمری ایجوکشین کی ایک سنیئر اور پینل کی رکن عائشہ علی نے اس بات کو نوٹ کیا تھا کہ لوگوں کو ان خواتین کے بارے میں بتایا جائے جو ظاہری زیبائش کے بجائے اپنی شخصیت کو پروقار بنانے کے لئے حجاب زیب تن کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ”جب کبھی میں باہر نکلتی ہوں تو مجھے کسی بھی قسم کا شک و شبہ یا ڈر اور خوف نہیں محسوس ہوتا کیونکہ میں نے یہ دیکھا ہے کہ کیمپس میں مسلمان طلبا کس طرح سے مجھے خوش آمدید کہتے ہیں۔“ ایک ماہی گیر کی بیٹی کیتھرین سمس (Katherine Sammis) نے ان خیالات کا اظہار کیا تھا اور انہوں نے ”پردے کے پیچھے“ کانفرنس میں شرکت بھی کی تھی۔ انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا تھا کہ ان کے حجاب پہننے پر کسی نے ریمارک نہیں کیا لیکن کلاس کے کچھ طلبا ساتھیوں کا ردعمل ضرور دیکھا تھا کہ ”جب میں کلاس میں تاخیر سے پہنچتی تھی تو ہر ایک مڑ کر میری جانب دیکھتا تھا۔ بایو میڈیکل انجینئرنگ کی ایک جونیئر اور پینل کی رکن سارا اوریبی (Sarah Oraby) نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ”میں ایسا محسوس کرتی ہوں کہ میں بھی اس کمیونٹی کا ایک حصہ ہوں۔“
انڈسٹریل ڈیزائن کی ایک دیگر جونیئر علیسہ اسمتھ (Alyssa Smith) نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”حجاب زیب تن کرنے سے اپنی شخصیت کی عکاسی ہوتی ہے اور عمومی طور پر میں اپنے عوامل میں معمول کے مقابلے بہت زیادہ ہی محتاط رہتی ہوں۔ میں ایسا محسوس کرتی ہوں کہ میں ایک پورے طبقہ کی نمائندگی کرتی ہوں اور اس لئے اس پر آنچ نہیں آنے دینا چاہتی ہوں۔“

اس کانفرنس میں ایسی مسلم طالبات نے بھی شرکت کی تھی جو کہ اپنے روزانہ معمول میں حجاب زیب تن کرتی تھیں یا نہیں کرتی تھیں لیکن وہ سب اس بات سے اتفاق کرتی تھیں کہ نقاب پہننا ذاتی پسند ہے اور جو طالبات حجاب پہنتی ہیں یا نہیں پہنتی ہیں ان پر عائد کی گئی اور نہ عائد کی گئی پابندی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں اوریبی کا کہنا تھا کہ حجاب پہننے سے حالانکہ کچھ خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔ تاہم وہ اسے نظر انداز نہیں کرتی ہیں۔اس کی مناسب تشریح کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ”اگر وہیل چیئر میں بیٹھا ہوا ایک شخص اتھلیٹک ریکارڈ قائم کر سکتا ہے تو حجاب بھی کوئی کام کرنے میں ہمارے لئے رکاوٹ پیدا نہیں کرے گا۔“ پینل کی دیگر اراکین کے ہمراہ عائشہ علی (Ayesha Ali) نے اپنے ان اولین دنوں کی یاد تازہ کی تھی جب انہوں نے عوامی طور پر حجاب زیب تن کرنا شروع کیا تھا۔ ”انہوں نے بتایا تھا کہ جب وہ پہلی مرتبہ حجاب پہن کر اسکول گئی تھیں تو انہیں کچھ عجیب سا محسوس ہوا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اس بات سے بھی واقف تھیں کہ ان کی سہیلیاں ان کی حوصلہ افزائی کریں گی۔“

مذکورہ بالا سطور کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ اسلام میں حجاب کی جو ہدایت کی گئی ہے وہ خواتین کے لئے نہایت مفید ہے۔ اس سے نہ صرف ان کی شخصیت پر وقار ہوتی ہے بلکہ معاشرہ میں بھی ان کو قدر و منزلت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ یوروپ اور امریکہ میں حجاب کے خلاف جو مہم چلائی گئی وہ موجودہ وقت کی سیاست کا مذہب اسلام کو بدنام کرنے کا ایک شگوفہ ہے۔ حجاب کسی بھی طرح نقصان دہ نہیں ہے۔ رفتہ رفتہ غیر مسلم ممالک خصوصی طور پر یوروپ اور امریکہ میں اس تعلق سے بیداری پیدا ہونی شروع ہو گئی ہے اور اب دیگر مذاہب کے معاشرے میں بھی حجاب کے تعلق سے جو خدشات رہے ہیں اب آہستہ آہستہ وہ دور ہونے لگے ہیں جس کی وجہ سے حجاب زیب تن کرنے والی مسلم خواتین دیگر غیر مسلم خواتین کے ساتھ نہ صرف مل جل کر رہنے لگی ہیں بلکہ بہت سی غیر مسلم خواتین بھی وسزو مرسکا کی مانند ان کی تقلید کرنے لگی ہیں جس کی وجہ سے یکجہتی اور میل جول کو تقویت ملنے لگی ہے۔ اس مضمون کاما ٓخذ یہ نکلتا ہے کہ وسزومرسکا کی مانند لبنان میں جس رواداری کا مظاہرہ کیا گیا تھا اگر عمومی طور پر روادار ی کی اسی طرح تقلید کی جائے تو سنسکرت کے اس اشلوک ’وسو دیو کٹمب کمب‘ یعنی پوری دنیا ایک کنبہ ہے کے مترادف ہو جائے گی اور پورے عالم سے رفتہ رفتہ مذہبی تفریق کا خاتمہ ہو جائے گا اور ایک دوسرے کے لئے رواداری کا جذبہ پیدا ہو جائے گا۔

([email protected])

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close