دلی نامہ

معزز شخصیات کی عیدالفطر سادگی سے منانے کی پُرزور اپیل

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
عالمی وبا کورونا وائرس کے پیش نظر راجدھانی سمیت ملک بھر میں لاک ڈاؤن مسلسل جاری ہے، ایسے میں سوشل میڈیا پر ایک مہم چلائی گئی ہے اس مہم کے تحت یہ کہا جا رہا ہے کہ جب لاک ڈاؤن میں مساجد بند ہو سکتی ہے تو ہم عید پرخریداری بند کیوں نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ مسلم تنظیموں کے ذمہ داران کی جانب سے بھی یہ اپیل کی جا رہی ہے کہ عید پر اس بار خریداری نہیں کی جائے۔ لاک ڈاؤن کیوجہ سے مسجدوں میں تالے لگے ہوئے ہیں، تو ایسے حالات میں عید پر خریداری کیوں کریں، ہم نے انہیں حالات کے سبب رمضان میں مسجد یں خالی چھوڑی ہیں عید کی نماز بھی شائد چھوڑنی پڑے۔

پچھلے کچھ دنوں سے راجدھانی کی عوام اپنے واٹس ایپ پر شیئر اور فیس بک پر اپلوڈ کر رہی ہے کہ عید سادگی سے منائیںاور مسلم مذہبی تنظیموں کی جانب سے بھی عید پر خریداری نہیں کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے، حالانکہ لاک ڈاؤن 4بھی توسیع بھی کر دیا گیا ہے۔ ’نامہ نگار ‘ سے بات چیت کے دوران حاجی عبد الواحد قریشی اور ڈاکٹر شوکت مفتی نے مشترکہ طور پر مسلمانوں سے امسال عید سادگی سے منانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ابھی ہمارے ملک میں کورونا وائرس جیسی وباچل رہی ہے، لاک ڈاؤن بھی یہاں مسلسل جاری ہے، ایسے میں سبھی لوگوں کو چاہیے کہ وہ سادگی کے ساتھ عید الفطر کا تہوار منائیں۔ اُن کا یہ بھی کہناتھا کہ عید پر نئے کپڑے نئے جوتے وغیرہ خریدنے مارکیٹ جانے سے گریز کریں، کیو نکہ مارکیٹ میں جانے سے سماجی دوری کا اصول ٹوٹ سکتے ہیں۔

الحاج شیخ مفتی قاری جاوید علی نقشبند ی اور مولانا سید شکیل احمدنے تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں سے عید الفطر سادگی سے منا نے کی پُر زوراپیل کرتے ہوئے کہاکہ جب عید، عید کی طرح نہیں تو پھر خریداری کیسی، مارکیٹوں کا بائیکاٹ کریں،کورونا وائرس کے بڑھتے قہرکے سبب اس بار رمضان میں عید کی خریداری نہ کریں، پیسہ بہت قیمتی ہے غریبوں کی مدد کریں اور آگے کیلئے سنبھال کر رکھے لاک ڈاؤن نہ جانے کب ختم ہوگا’۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ ایسے حالات میں مستحق افراد کی مدد کی جائے تو دلی سکون بھی ملے گا اور اللہ تعالیٰ بھی اسکا بہتر سے بہتر اجر عطا کرے گا۔

ایڈوکیٹ چنگیزخان اور ڈاکٹر عشرت کفیل نے کہا کہ اس سال عید کے ممکنہ اخراجات کو بچا کر ان غریب بھائیوں کی مدد کی جائے جو لاک ڈاؤن کیوجہ سے پریشان حال ہے۔ ہمارا کپڑے اور دوسری چیزیں خریدنے سے زیادہ اہم ضروری ہے کہ ہم اپنے شہر اپنے گاؤں اور اپنی قوم و ملت کے مسائل کی طرف توجہ دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عید کی نماز کیلئے کپڑوں کا پاک صاف ہونا ضروری ہے جبکہ نئے کپڑے ہونا ضروری نہیں، اسلئے عید پر خرچ کرنے والی رقم سے اپنے پڑوسیوں کی مدد کریں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close