بہار- جھارکھنڈتازہ ترین خبریں

معروف ادیب طارق جمیلی کا انتقال، ادبی حلقوں میں غم کی لہر

سیمانچل کے مشہورو معروف ادیب، دانشور، شاعر، افسانہ، ڈرامہ اور مضمون نگار پروفیسر طارق جمیلی کا آج رات گیارہ بجے پٹنہ کے ایک اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ وہ سانس کی بیماری میں کئی ماہ سے مبتلا تھے۔

بتا دیں کہ یہ اطلاع خاندانی ذرائع کے حوالے سے سیمانچل کے ادیب قسیم اختر نے دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پسماندگان میں اہلیہ نزہت طارق ظہیری کے علاوہ تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ ان کی نماز جنازہ آج ہی پورنیہ میں ادا کی جائے گی۔ ان کی سانس کی بیماری کا علاج کئی ماہ سے پٹنہ میں چل رہا تھا اور جس میں کچھ افاقہ بھی ہوا تھا لیکن گزشتہ رات ان کی طبیعت بگڑ گئی اور جانبر نہ ہوسکے۔

انہوں نے کہاکہ وہ تقریباً 34برس تک پورنیہ کالج پورنیہ میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے اور وہ اپنے شعبے کے صدر بھی رہے۔ ان کا آبائی وطن مہرتھا۔ تھانہ کانٹی ضلع مظفر پور تھا لیکن انہوں نے پورنیہ کو ہی اپنا وطن اصلی بنالیا تھا۔مسٹرقسیم اختر نے بتایا کہ ان کی پیدائش یکم اکتوبر 1933کو ہوئی تھی۔ ان کا اصل ابواجمل طارق جمیلی تھا۔ انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی تعلیم حاصل کی تھی اور اسی کے ساتھ بی ایل بھی وہیں سے کیا تھا۔

طارق جمیلی کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ جن میں جذب دروں (شعربی مجموعہ)، پورنیہ (طویل نظم)،سورہ یسین (منظوم ترجمہ)، آگ اور پانی (تمثیل)، شکست کی آواز (ڈرامہ)، آزاد شرارے (انشائیوں کا مجموعہ) قلم جاگ رہا ہے (افسانوی مجموعہ).عرش گیاوی (حیات و خدمات)، غیر مطبوعہ میں وادی کی واپسی (ناولٹ)، متفرق مضامین کا مجموعہ) وغیرہ شامل ہیں۔ مسٹر قسیم اختر نے بتایا کہ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں بہار اردو اکیڈمی نے ادبی ایوارڈ سے نوازا تھا۔ اس کے لئے علاوہ انہیں تعلیمی اور ادبی خدمات کے اعتراف متعدد اعزازات مل چکے ہیں۔

طارق جمیلی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مشہور نقاد اور صاحب طرز ادیب حقانی القاسمی نے کہاکہ ان کے انتقال کی وجہ سے سیمانچل کے ادبی گہوارے کو جہاں نقصان پہنچا ہے وہیں سیمانچل کے ادب میں ایک خلا بھی پیدا ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ا ن کے انتقال کی وجہ سے ان کو ذاتی صدمہ پہنچا ہے اور وہ جب بھی دہلی آتے تھے ملاقات کرنے ضرور آیا کرتے تھے اورادب اور شاعری اور سیمانچل کےْ حالات پر گھنٹوں تبادلہ خیال کرتے تھے۔ مسٹر قسیم اختر نے ان کے انتقال کو ایک بڑا خسارہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہم لوگ ان پر 9جون کو سیمنار کرنے والے ہیں لیکن افسوس کی جن پر سیمنار ہونا ہے وہی ہمارے درمیان نہیں رہے۔ انہوں نے کہاکہ ان پر 9جون کو سیمنار ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ سیمانچل نے ایک بڑے ادیب، شاعر، ڈرامہ نگار، افسانہ نگار کو کھو دیا۔ ہمارے لئے یہ غم کی گھڑی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کی وجہ سے علاقہ میں ادب کا ماحول تھا اور ادبی محفلیں جما کرتی تھیں۔ اظہار تعزیت کرنے والوں میں افسانہ نگار اور شاعر احسان قاسمی ڈاکٹر توقیر راہی، ڈاکٹر فیروز عالم، عابد انور اور سیمانچل میڈیا منچ کے دیگر عہدیدار اور اراکین شامل ہیں۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close