بہار- جھارکھنڈتازہ ترین خبریں

مظفر پور شیلٹر ہوم: سی بی آئی نے کہا بچوں کے قتل کے ثبوت نہیں

مظفر پور شیلٹر ہوم معاملے میں سی بی آئی کی چونکانے والی رپورٹ آئی ہے۔ سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں سونپی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کسی لڑکی کا قتل شیلٹر ہوم میں نہیں ہوا۔ جو انسانی ڈھانچے اور ہڈیاں ملی تھیں، وہ کنہی اور بالغ لوگوں کی تھیں۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سی بی آئی جانچ میں صاف ہوا ہے کہ کسی نابالغ کا شیلٹر ہوم میں قتل نہیں ہوا ہے۔ سی بی آئی کو تحقیقات میں قتل کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ جن کا قتل ہونے کا شبہ تھا، وہ تمام 35 لڑکیاں زندہ ملیں۔ گیارہ ستمبر، 2018 کو ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز نے لڑکیوں کی باز آبادکاری کے امکانات کو لے کر سپریم کورٹ میں اسٹیٹس رپورٹ سونپی تھی۔ پچھلی 18 جولائی کو سپریم نے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کو ہدایت دی تھی کہ وہ شیلٹر ہوم کی آزاد کرائی گئی تمام 44 لڑکیوں کی بحالی کا منصوبہ تیار کرے۔ کورٹ نے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس کے بارے میں رپورٹ داخل کریں۔

اس سے پہلے 3 جون کو عدالت نے سی بی آئی کو ہدایت دی تھی کہ وہ بچیوں کے قتل، غیر فطری جنسی استحصال، شیلٹر ہوم میں آنے والے باہر کے لوگوں کے کردار جیسے پہلوؤں کی تفتیش مکمل کریں۔ کورٹ نے سی بی آئی سے کہا تھا کہ تعزیرات کوڈ کے تحت ریپ کے الزامات اور جنسی استحصال کی ویڈیو ریکارڈنگ کی بھی جانچ کرے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close