اپنا دیشتازہ ترین خبریں

مشروط اور 30 فیصد مزید مہنگا ہو سکتا ہے حج 2020

مختلف شرائط کے ساتھ زیارتوں کی بھی ہو سکتی ہے ممانعت ٭29 شوال تک آنے والے حتمی فیصلے پر نظریں مرکوز ٭حکومت کے حکم کی منتظر ریاستی حج کمیٹیاں

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کورونا وائرس کے پیش نظر حج مشن 2020 پر بھی تذبذب برقرار ہے۔ سعودی حکومت کی وزارت حج و عمرہ بھی کوئی مثبت فیصلہ ابھی نہیں کر پا رہی ہے، لیکن 29 شوال تک اس پر حتمی فیصلہ اور گائڈ لائن جاری ہونے کے امکانات ہیں کہ فریضہ حج 2020 کس طرح اور کن شرائط پر ادا کرایا جائے گا۔ لیکن اب حج مشن 2020 کی جو ممکنہ تصویر نکل کر سامنے آ رہی ہیں اس میں ذرائع کی اطلاع کے مطابق 2020 کا سفر حج نہ صرف مشروط بلکہ 30 فیصد مزید مہنگا بھی ہو سکتا ہے۔ جو ہندوستان کے عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوگا۔ حالانکہ ہندوستانی حکومت ابھی اس سلسلے میں کوئی اعلان نہیں کیا ہے وہ سعودی حکومت کے حتمی فیصلے کی منتظر ہے۔

دنیا بھر کو اپنے شکنجے میں جکڑے ہوئے کورونا وائرس کے پیش نظر یہ تو تقریباً پوری طرح صاف ہو چلا ہے کہ اس مرتبہ سعودی حکومت دنیا بھر سے کم سے کم محض 20فیصد حاجی ہی بلائے گی۔ جس میں محض 20 فیصد حاجیوں کے سفر کی شرط ہوگی۔ ذرائع کے مطابق مختلف شرائط کے علاوہ جو بڑی شرط حج 2020 کیلئے ہوسکتی ہے، وہ یہ کہ سعودی حکومت فریضہ حج کی تو ادائیگی کرائے گی لیکن حاجی زیارتوں پر نہیں جا سکیں گے۔ ان کو مکہ مکرمہ سے ہی حج مکمل کر وطن واپس لوٹنا ہوگا۔ دیگر کسی بھی زیارت کیلئے ان کو جانے نہیں دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ جو شرائط ہوں گی ان میں مکہ مکرمہ کی رہائشوں میں پہلے کے مقابلے آدھے لوگ ہی قیام کریں گے۔ اگر ایک کمرے میں چار لوگ ہوتے تھے تو اب دو ہی لوگ قیام کریں گے۔

اسی طرح منیٰ میں ایک خیمے میں صرف چار حاجی ہی عازمین کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے۔ حج پروازوں میں بھی سوشل ڈسٹینسنگ پر عمل کیا جائے گا اور ایک سیٹ چھوڑ کر مسافر بٹھایا جائے گا۔ حج پرواز کا کرایا بھی ڈبل ہو گا، جس کے سبب حج مزید مہنگا ہوگا اور ہندوستانی عازمین حج کو 30 فیصد زیادہ رقم ادا کرنی پڑے گی۔ جس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ غریب اور مالی بحران کے شکار لوگ حج نہیں کر پائیں کیونکہ یہ سفر پرائیوٹ ٹور آپریٹرس کے ذریعہ جانے جتنا یا اس سے بھی مہنگا ہو سکتا ہے۔ اس برس ہندوستان سے حج کمیٹی کے ذریعہ ایک لاکھ 40 ہزار عازمین جانے ہیں۔ گزشتہ سال گرین کیٹیگری میں 2لاکھ 78ہزار 650روپے اور عزیزیہ کیلئے 2لاکھ 41ہزار 6سو روپے فی عازم لئے گئے تھے، لیکن اگر 30فیصد حج مہنگا ہوتا ہے تو عازمین کو گرین کیلئے تقریباً 3لاکھ 60ہزار اور عزیزیہ کیلئے سوا تین لاکھ تقریباً اد ا کرنے پڑیں گے۔

وہیں سعودی حکومت کی جانب سے مارچ سے کوئی اطلاع حج کی نہ ملنے پر حج کمیٹی آف انڈیا نے سرکلر جاری کرکے عازمین کو کہا ہے کہ جو عازمین اپنا سفر حج کینسل کرنا چاہیں ان کو پورا سو فیصد پیسہ ریفنڈ کر دیا جائے گا۔ اس کیلئے انہوں آن لائن درخواست فارم بھی جاری کیا ہے۔ لیکن وہ منتظر ہے کہ سعودی حکومت کوئی اشارہ دیتی ہے تو حج کمیٹی آف انڈیا کو حج مشن 2020کیلئے ہدایات جاری کی جائیں۔ جبکہ انڈونیشیا حکومت نے تو اس برس اپنے شہریوں سفر حج پر بھیجنے سے روک دیا ہے۔ لیکن جن شرائط پر حج 2020 ہونے کے امکانات ہیں اس سے 30فیصد حج مہنگا ہونے سے یہ واضح ہے کہ ہندوستان کے عام عوام کے بس سے باہر سفر حج کا خرچ ہوگا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close