اترپردیشتازہ ترین خبریں

مسلم پرسنل لاء بورڈ کی میٹنگ میں شامل نہیں ہوں گے اقبال انصاری

ایودھیا میں رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ میں فریق رہے اقبال انصاری نے اتوار کو لکھنؤ میں ہونے جا رہی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس پر غوروخوض کے لئے اب مسلم فریقین کی میٹنگ لکھنؤ میں منعقد ہونے جا رہی ہے۔ بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے تمام مسلم فریقین کو لکھنؤ میں اجلاس کے لئے مدعو کیا تھا۔

اقبال انصاری نے ایک ہندی پورٹل سے بات چیت میں کہاکہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ عدالت کے فیصلے کو مانیں گے۔ اس کا احترام کریں گے اور اس کے خلاف کوئی اپیل نہیں کریں گے۔ سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے، اس نے جو فیصلہ دیا وہ ملک کے مفاد میں ہے۔ اس سے ملک ترقی کرے گا۔ ملک میں امن قائم رکھنے کے لئے کوششیں ہونی چاہئے۔ اب مندر مسجد کے لئے بہت کچھ ہو گیا۔ عدالت کے فیصلے کے ساتھ اسے ختم کر دینا چاہئے۔ انصاری نے کہا کہ میں اس طرح کی میٹنگوں میں اب حصہ نہیں لینا چاہتا اور امن کی زندگی جینا چاہتا ہوں، کیونکہ اب میں اس کیس کو لے کر آگے کسی بھی لڑائی کے حق میں نہیں ہوں۔

بورڈ کی میٹنگ کے بارے میں اقبال انصاری نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ پورے ملک میں امن وامان رہے۔ ہم اس معاملے کو آگے نہیں بڑھانا چاہتے۔ کمیٹی کی میٹنگ بلائی گئی ہے، ہم اپنے گھر میں ہیں۔ کمیٹی میں 5 فریق ہیں میں وہاں نہیں گیا۔عدالت نے جو فیصلہ کیا ہے، تمام اس کو مان لیں۔ کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے کہ ملک میں بدامنی ہو۔ میں ذمہ دار شہری ہوں اور ملک میں امن کا پیغام دیتا رہا ہوں۔

بتا دیں کہ ایودھیا کیس میں سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ سناتے وقت حکومت کو ہدایت دی تھی کہ نئی مسجد کی تعمیر کے لئے سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی پانچ ایکڑ زمین مختص کیا جائے۔ اب زمین لینے یا نہ لینے کے حوالے سے اترپردیش سنی سینٹرل وقف بورڈ قانونی رائے لے رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اتوار کو لکھنؤ میں ہو رہی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس میں اس سلسلے میں لئے جانے والے فیصلے کو ’خاص‘ اہمیت دے گا۔

پرسنل لاء بورڈ کی میٹنگ پر سب کی نظر:
وقف بورڈ کے چیئرمین ظفرفاروقی نے ایک سوال پر کہا کہ زمین لینے کو لے کر لوگوں کی الگ الگ رائے ہے اور اس زمین پر کوئی تخلیقی کام کرکے پوری دنیا کو پیغام دینے کی خواہش رکھنے والے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ بہرحال، بورڈ 26 نومبر کو ہونے والی اپنی میٹنگ میں اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرے گا۔ اجلاس میں آئندہ اتوار کو ندوہ میں ہونے والی مسلم پرسنل لاء بورڈ کی میٹنگ میں زمین لینے یا نہ لینے کے سلسلے میں لئے گئے فیصلے پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
دریں اثنا، بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر سینئر وکیل ظفریاب جیلانی نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اجودھیا معاملے میں مسلم فریق کی رہنمائی کی تھی۔ لہٰذا مسجد تعمیر کے لئے زمین لینے یا نہ لینے کے بارے میں اس کے فیصلے کو سب سے زیادہ ترجیح دی جانی چاہئے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close