اپنا دیشتازہ ترین خبریں

مسلم پرسنل لاء بورڈ کو نظر ثانی کی عرضی داخل نہیں کرنی چاہیے: مسلم مورچہ

آل انڈیا یونائیٹیڈ مسلم مورچہ نےآل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو نصیحت کرتے ہوئے کہاکہ اسے اجودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی عرضی داخل نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیاکہ نظرثانی کی عرضی دائر کرکے مسلم پرسنل لاء بورڈ اپنی شبیہ کو چمکا رہا ہے کیونکہ نظرثانی کی عرضی کا خارج ہونا بالکل طے ہے۔

مورچہ کے قومی ترجمان حافظ غلام سرور نے یہاں کہاکہ سپریم کورٹ نے 9 نومبر کو جو فیصلہ کیا ہے اسے ملک کے تمام شہریوں نے قبول کیا اور ملک میں غیر معلنہ تناؤ کے ماحول کے پیش نظر اس سے اچھا فیصلہ کچھ اور ہو نہیں سکتا۔ ترجمان نے میڈیا سے کہاکہ،’رہنماؤں کو مذہبی امور پر سیاست نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے پسماندہ اور متاثرہ طبقے کا ہی نقصان ہوتا ہے‘۔

انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر بحث کرتے ہوئے کہاکہ،’ کئی تنظیموں نے فیصلہ آنے سے قبل کہا تھاکہ جو بھی فیصلہ ہوگا ہم اسے قبول کریں گے لیکن اب وہ اِدھر اُدھر کا بیان دے رہے ہیں۔

حافظ سرور نے مسلم پرسنل لاء بورڈ پر سماعت کے دوران صحیح ڈھنگ سے پیروی نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ،’اگر فیصلہ بابری مسجد کے حق میں آتا تو ملک میں شاید امن قائم نہیں رہتا لیکن اس میں ہندو فرقے کی غلطی نہیں ہے کیونکہ کورٹ کا فیصلہ نہ ماننے کا آغاز مسلم تنظیموں نے شاہ بانو فیصلے سے کی تھی۔ کچھ تنظیموں کی حرکتوں سے ملک میں یہ پیغام گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت بھی کی جاسکتی ہے‘۔

مسٹر سرور نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم ) کے سربراہ اسد الدین اویسی کے ’مسجد واپس چاہیے‘ کے بیان کے سلسلے میں کہاکہ ان سے گزارش ہے کہ وہ فرقہ واریت کی بنیاد پر سیاست نہ کریں۔ انہوں نے سوال اٹھایاکہ مسٹر اویسی ملک کے عام مسائل کیوں نہیں اٹھاتے؟ وہ محض مسلمانوں کی باتیں کیوں کرتے ہیں۔ مسٹر سرور نے ایودھیا کے تنازعہ اور آئین کی دفعہ 370 کی طرح دفعہ 341 میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close