اپنا دیشتازہ ترین خبریں

مرکزی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش

وزیر مالیات محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج پارلیمنٹ میں 20۔2019 کا مرکزی بجٹ پیش کرتے ہوئے جن متعدد ٹیکس تجاویز کا اعلان کیا، ان کا مقصد سن رائز ایڈوانسڈ ٹکنالوجی انڈسٹریز اور اسٹارٹس اپ میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

اقتصادی نمو اور میک ان انڈیا کو تقویت دینے کے لئے ایک اسکیم شروع کی جائے گی جس میں عالمی کمپنیوں کو ایک شفاف مسابقتی بولی کے ذریعہ دعوت دی جائے گی کہ وہ سن رائز اور ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق بڑے مینوفیکچرنگ پلانٹوں میں سرمایہ کاری کریں۔ ایسے شعبوں میں سیمی کنڈکٹر فیبریکیشن (ایف اے بی)، سولر فوٹو وولٹئک سیلس، لیتھئم اسٹوریج بیٹریز، سولر الیکٹرک چارنگ انفرا اسٹرکچر، کمپیوٹر سرور، لیپ ٹاپ وغیرہ شامل ہیں۔ ایسے کمپنیوں کو انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 35 اے ڈی اور دیگر بالواسطہ ٹیکس فوائد کے تحت سرمایہ کاری سے متعلق انکم ٹیکس میں چھوٹ دی جائے گی۔

وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتا رمن نے اپنا اولین بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ’انجیل ٹیکس‘کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے ایسے اسٹارٹ اپس اور ان میں سرمایہ کاری کرنے والے جو مطلوبہ ڈکلیریشن فائل کریں گگے اور اپنے رٹرن میں اطلاعات دستیاب کرائیں گے انہیں شیئر پریمیم کے ویلیویشن کے معاملے میں کسی طرح کی اسکروٹنی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ سرمایہ کار اور اس کے فنڈ کے ذریعہ کی شناخت کے تعین کامعاملہ ای۔ ویریفکیشن میکانزم کو عمل میں لاکر حل کیا جائے گا۔ اس طرح سے اسٹارٹس اپ کے ذریعہ اکٹھا کئے گئے فنڈز کے لئے محکمہ انکم ٹیکس کی طرف سے کسی طرح کی اسکروٹنی کی ضرورت نہیں ہوگی۔

سی بی ڈی ٹی کی طرف سے اسٹارٹ اپس کے زیر التوا ایسسمنٹ اور ان کی مشکلات کے ازالے کے لئے خصوصی انتظامی بندوبست کئے جائیں گے۔ اس طرح کے معاملات میں اسسیسنگ افسر اپنے سپروائری افسر سے منظوری لئے بغیر ویری فکیشن سے متعلق کوئی پوچھ تاچھ نہیں کرے گا۔اسٹارٹ اپس کے لئے یہ ضروری نہیں ہوگا کہ وہ اپنے ان شیئروں کے تعلق سے جو کیٹگری۔2 کے متبادل سرمایہ کاری فنڈ ز کے لئے جاری کئے گئے ہیں، کے اصل بازار قیمت کا جواز پیش کریں۔ ان فنڈز کیلئے جاری کئے گئے حصص کی قدر کا تعین انکم ٹیکس اسکروٹنی کے دائرے سے باہر ہوگا۔ بجٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ اسٹارٹ اپس کے معاملے میں آگے بڑھنے اور خسارے کو دور کرنے کے لئے شرائط و ضوابط میں کچھ نرمی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تجویز بھی ہے کہ اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کیلئے رہائشی مکان کو فروخت کرنے سے حاصل ہونے والی سرمایہ جاتی آمدنی کے معاملے میں چھوٹ کی مدت بڑھاکر 31 مارچ 2021 کردی جائے۔ علاوہ ازیں اس بجٹ میں سستے مکانات کی خرید کی مزید حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اس کے لئے 45 لاکھ روپے تک کے سستے مکانات کی خرید کے لئے 31 مارچ 2020 تک قرضوں پر ادا کئے جانے والے دو لاکھ سے زیادہ کے سود پر ڈیڑھ لاکھ روپے کا ٹیکس ڈیڈکشن دیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اس طرح سے اس شخص کو جو 45 لاکھ روپے تک کا ایک سستا (افورڈیبل) مکان خریدتا ہے، اسے ساڑھے تین لاکھ روپے تک کا انٹریٹس ڈیڈکشن (سود میں رعایت) مل سکتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر متوسط طبقے کا کوئی شخص پندرہ سال کی مدت کے لئے قرض لیکر مکان خریدتا ہے تو اسے تقریباً سات لاکھ روپے تک کا فائدہ ہوگا۔ اپنا روزگار آپ کرنے والوں، چھوٹے تاجروں، تنخواہ داروں اور بزرگ شہریوں سمیت سبھی ٹیکس دہندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران راست ٹیکس سے حاصل ہونے والے مالیہ میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ 78 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ مالی سال 14۔2013 میں راست ٹیکس سے جہاں 6.38 لاکھ کروڑ روپے حاصل ہوئے تھے وہیں مالی سال 19۔2018 میں یہ بڑھ کر تقریباً 11.37 لاکھ تک پہنچ گیا۔ اس میں اب ہر سال دوہرے ہندسے کے حساب سے اضافہ ہورہا ہے۔ بلند ترین آمدنی کے دائرے میں آنے والے افراد کے ذریعہ ملک کی ترقی اور مالیہ کے حصول میں اپنا تعاون دینے کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے 2 کروڑ سے 5 کروڑ تک کی ٹیکس ادائیگی کے لائق آمدنی والے افراد پر لگنے والے سرچارج میں 3 فیصد اور پانچ کروڑ اور اس سے زیادہ ٹیکس ادائیگی کے لائق آمدنی والی افراد پر لگنے والے سرچارج 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا۔کارپوریٹ ٹیکس کے معاملے میں،

وزیرموصوفہ نے کہا کہ ہم شرحوں میں مرحلہ وار طریقے سے تخفیف لانے کا عمل جاری رکھیں گے۔ فی الحال 25 فیصد کی کم تر شرح صرف اُن کمپنیوں کو دستیاب ہے، جو 250 کروڑ روپے کا سالانہ کاروبار کرتی ہیں۔ اسے توسیع دینے کی تجویز ہے تاکہ 400 کروڑ روپے کے سالانہ کاروبار کرنے والی تمام کمپنیوں کو اس میں شامل کیا جاسکے۔ اس سے 99.3 فیصد کمپنیوں پر احاط کیا جاسکے گا۔ اب صرف 0.7 فیصد کمپنیاں اس شرح کے دائرے سے باہر رہیں گی۔ڈیجیٹل ادائیگیوں کے طریقہ کار کو ملک میں مزید روایت دینے کی غرض سے یا دوسرے لفظوں میں نقد ادائیگیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے وزیرموصوفہ نے متعدد اقدامات کا اعلان کیا، جن میں نقد کاروباری ادائیگیوں کے طریقہ کار کی حوصلہ شکنی، ایک سال میں کسی ایک بینک کھاتے سے ایک کروڑ روپے کی نقد رقم نکالنے پر دو فیصد ٹی ڈی ایس کی وصولی وغیرہ شامل ہیں۔

ایسے کاروباری ادارے جن کا سالانہ ٹرن اوور 50 کروڑ روپے سے زائد ہے وہ اپنے صارفین کو کم لاگت والی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے طریقہ کار کی پیش کریں گے اور صارفین، نیز تاجروں پر اس کے لئے اس طرح کے محصولات یا مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ نافذ نہیں ہوں گے۔ آر بی آئی اور بینک ان لاگتوں کو اُن بچتوں کے ذریعے برداشت کریں گے، جو انہیں کم سے کم نقدی سنبھالنے کی شکل میں حاصل ہوگی۔ انکم ٹیکس ایکٹ اور ادائیگیوں اور دعووں کو نمٹانے سے متعلق نظام سے متعلق ایکٹ 2007 میں مذکورہ تجاویز کو شامل کرنے کے لئے ضروری ترامیم فراہم کی جارہی ہیں۔ملک میں برقی موٹر گاڑیوں کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے کیلئے، براہ راست اور بالواسطہ دونوں قسم کی ٹیکس ترغیبات کا اعلان کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بھارت میں صارفین کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارا مقصد یہ ہے کہ بھارت کو برقی موٹر گاڑیوں کی مینو فیکچرنگ کا عالمی مرکز بنادیا جائے۔ شمسی قوت جذب کرنے والی بیٹریوں کی شمولیت اور مذکورہ اسکیم کے تحت انہیں چارج کرنے کے لیے ایک بنیادی ڈھانچے کی فراہمی سے ہماری کوشش کو تقویت حاصل ہوگی۔ وزیرخزانہ نے اعلان کیا کہ حکومت پہلے ہی جی ایس ٹی کونسل کے روبرو برقی موٹر گاڑیوں کے سلسلے میں جی ایس ٹی شرحوں کو 12 فیصد سے گھٹاکر پانچ فیصد کرنے کی تجویز پیش کرچکی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ تجویز بھی رکھی گئی ہے کہ برقی موٹر گاڑیوں کو صارفین کے لیے قابل استطاعت بنایا جائے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ ہماری حکومت برقی موٹر گاڑیوں کو خریدنے کے لئے لئے گئے قرضوں پر عائد ہونے والے سود میں 1.5 لاکھ روپے کی کٹوتی کی سہولت اضافی آمدنی ٹیکس کے طور پر فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں ٹیکس دہندگان کو جو برقی موٹر گاڑیوں کو خریدنے کے لئے قرضے حاصل کریں گے، انہیں قرض کی ادائیگی کی مدت پر 2.5 لاکھ روپے کا فائدہ حاصل ہوگا۔ وزیر موصوفہ نے موٹر گاڑیوں اور موٹر گاڑیوں کے پرزوں پر عائد ٹیکس اور محصولات کو بڑھانے کی تجویز رکھتے ہوئے برقی موٹر گاڑیوں کے چند پرزوں پر کسٹم محصولات میں رعایت دینے کی بات بھی کہی۔ عام طور پر دیگر کسٹم محصولات کا مقصد میک ان انڈیا کو فروغ دینا، برآمدات پر انحصار کم کرنا، ایم ایس ایم ای شعبے کا تحفظ، صاف ستھری توانائی کو فروغ دینا، غیر ضروری درآمدات پر قدغن لگانا اور اس طرح کے دیگر امور کا سدباب کرنا ہے۔ گھریلو صنعت کو آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کرنے کے لئے 36 اشیا پر کسٹم محصولات میں اضافہ کیا گیا ہے، جن میں درج ذیل اشیا شامل ہیں۔

کاجو کے ٹکڑے: چکنائی سے تیار ہونے والے تیزاب، تیزاب پر مبنی تیل، جنہیں اولیو کیمیکل اشیا اور صابن وغیرہ بنانے کے لئے ریفائن کیا جاتا ہے۔
اولی وینائل گلورائیڈ: پلاسٹک کے فلور کور، دیوار یا چھت پر چپکائے جانے والے پلاسٹک کور

پلاسٹک کے سامان:
بُٹل ربر
کلوروبٹل ربر یا بروموبٹل ربر
اخبار اور میگزین کے کاغذ
طبع شدہ کتابیں (چھپی ہوئی کتابوں کے گرد پوش سمیت) اور مطبوعہ کتابچے
آپٹیکل کیبل فائبر بنانے کے لئے واٹر بلاکنگ ٹیپ
چینی مٹی کی چھت کے ٹائل اور چینی مٹی سے تیار فرش اور دیگر سازو سامان، دیوار کی ٹائلیں وغیرہ

اسٹینلیس اسٹیل کی اشیا:
دیگر دھاتی اسٹیل کے تار (آئی این وی اے آر) کے علاوہ
بنیادی سطح پر کام آنے والی دھاتی فٹنگ، فرنیچر میں کام آنے والے مماثل آرٹیکل، دروازے، سیڑھیاں، کھڑکیاں، مکمل پردہ داری کے لئے پردے، قبضے یا موٹر گاڑیاں

انڈور یا آؤٹ ڈور یونٹ، جس کا تعلق سسٹم ائیر کنڈیشنر سے ہو
پتھر کو کاٹنے یا پیسنے والے (کون ٹائپ) پلانٹس، جو سڑک بنانے میں کام آتے ہیں
سی سی ٹی وی کیمرہ کے لئے چارجر / پاور اڈاپٹر/ آئی پی کیمرہ اور ڈی وی آر / این وی آر
لاؤڈاسپیکر

ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر (ڈی وی آر) اور نیٹ ورک ویڈیو ریکارڈر(این وی آر)
سی سی ٹی وی کیمرہ اور آئی پی کیمرہ

آپٹیکل فائبر، آپٹیکل فائبر کے بنڈل اور کیبل:
فریکشن کے ساز و سامان یا ان سے متعلق ساز و سامان (مثلاً شیٹ، رول، پٹیاں، ٹکڑے، ڈسک، واشر، پیڈ)، جو لگے ہوئے نہ ہوں، بریکس کے لئے استعمال ہوں، کلچ میں استعمال ہوں یا ایسے ہی دیگر مقاصد کے لئے استعمال ہوں، جن کی بنیاد ایس بیسٹس ہو اور ان میں معدنیاتی یا پلاسٹک عناصر استعمال نہ کئے گئے ہوں۔

شیسے کے آئینے، چاہے وہ فریم کئے ہوئے ہوں یا بغیر فریم والے، عقب نما آئینے بھی اس میں شامل ہیں
اس نوعیت کے تالے ججو موٹر گاڑیوں میں استعمال ہوتے ہوں

کیٹالائٹک کنورٹر:
داخلی کمبسٹن انجنوں کے لئے تیل یا پٹرول کے فلٹر
داخلی کمبسٹن انجنوں کے لئے انٹیک ائیر فلٹر
بائسکل یا موٹر سائیکلوں میں استعمال ہونے والی لائٹنگ یا ویژول سگنل دینے والے سازو سامان
ونڈ اسکرین صاف کرنے والے وائپر، برف کو جمنے سے روکنے والے سازو سامان، پیک شدہ مخصوص قسم کے لیمپ اور موٹر گاڑیوں میں استعمال ہونے والے لیمپ

8702,8704 کے مد میں آنے والی موٹر گاڑیوں میں استعمال ہونے والے مکمل طور پر تیار شدہ یونٹ (سی بی یو)
انجنوں میں فٹ کی گئی چیسس جو 8701 سے 8705 کے مد میں آنے والی موٹر گاڑیوں میں لگتی ہیں
8701 سے 8705 کی مد میں آنے والی موٹر گاڑیوں کے ڈھانچے (کیب سمیت)

بجٹ میں گھریلو صنعت کو تقویت فراہم کرنے کے مقصد سے چند خام اشیا اور اہم سازو سامان پر کسٹم محصولات میں تخفیف کرنے کی تجویز ہے، جن میں درج ذیل اشیا شامل ہیں:
نیپتھا
میتھیلوزیرین (پروپلین آکسائیڈ)
انتھلین ڈائی کلورائیڈ (ای ڈی سی)
پرفارم آف سلیکا مینو فیکچر کرنے میں کام آنے والی خام اشیا یعنی
سلیکون ٹیٹر اکلورائیڈ
جرمینیم ٹیٹرا کلورائیڈ
ریفریجریٹڈ ہیلیم رقیق
سلیکا کی سلاخیں
سلیکا کے ٹیوب
اون کے ریشے، اون ٹاپس
سی آر جی او اسٹیل بنانے کے لئے سازوسامان یعنی
اپاپولیٹڈ پی سی بی اے
سیلولر موبائل فون کے لیے کیمرہ ماڈیول
سیلولر موبائل فون کے لیے چارجر / اڈاپٹر
لیتھیم ایان سیل
ڈسپل ماڈیول
سیٹ ٹاپ باکس
کیم پیکٹ کیمرہ ماڈیول

جہاں ایک طرف کچھ الیکٹرانک اشیا پر کسٹم محصول عائد کیا گیا ہے، جو بھارت میں گھریلو صنعت کو فروغ دینے کے لیے اب یہیں تیارکی جارہی ہیں وہیں اس کے برعکس کچھ دیگر اہم سازو سامان جو مخصوص الیکٹرانک سازو سامان بنانے کے لئے درکار ہیں، ان پر کسٹم محصولات ختم کردئیے گئے ہیں۔کھیل کود کے سازو سامان کی برآمدات کو فروغ دینے کے لئے، کچھ اشیا کو، ایک حد تک مثلاً فوم اور پائن ووڈ، محصولات سے مبرا درآمدات کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے اسی طریقے سے اس شعبے کو راحت فراہم کرنے کی غرض سے نیم کمائے ہوئے چمڑے پر یا خام اور نیم کمائے ہوئے چمڑے کے سلسلے میں برآمداتی محصول کو معقول بنادیا گیا ہے۔

وزیرموصوفہ نے کہا کہ دفاع کو فوری طور پر جدت طرازی اور تازہ کاری درکار ہے۔ یہ ایک قومی ترجیح ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ایسے دفاعی سازو سامان، جنہیں بھارت میں نہیں بنایا جارہا ہے، انہیں بنیادی کسٹم محصول سے مبرا کردیا گیا ہے۔

جی ایس ٹی متعارف کرائے جانے سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے، وزیرموصوفہ نے 17 ٹیکسوں اور 13 محصولات کو یکجا کرنے کا ذکر کیا اور کہا کہ اس نے بھی مختلف امور میں تغیر پیدا کیا ہے، جس کے تحت نقل و حمل کے ٹرک نے ایک ہی وقت میں دو پھیرے لگانے شروع کردئیے ہیں، جو اس طرح کے عمل کو آسان بنانے سے پہلے واحد پھیرے ہی لگایا کرتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کی شرحوں میں تخفیف کے نتیجے میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 92 ہزار کروڑ روپے کی راحت حاصل ہوئی ہے۔

وزیر موصوفہ نے کہا کہ ٹیکس ریٹرن بھرنے کے لئے مفت اکاؤنٹنگ سافٹ وئیر تمام چھوٹے کاروبار کے لئے فراہم کرایا جارہا ہے اور ایک کلی طور پر خودکار جی ایس ٹی ریفنڈ ماڈیول کے بارے میں توقع کی جاتی ہے کہ جلد ہی اس کا نفاذ عمل میں آئے گا۔ انھوں نے کہا کہ ایسے ٹیکس دہندگان، جن کا سالانہ ٹرن اوور پانچ کروڑ روپے سے کم کا ہے، وہ سہ ماہی ریٹرن داخل کرسکیں گے۔

الیکٹرانک بیجک تفصیلات کو مرکزی نظام کے تحت لایا جارہا ہے تاکہ پہلے سے بھرے ہوئے ٹیکس دہندگان ریٹرن تیار کئے جاسکیں اور ساتھ ہی ساتھ ای وے بل بھی تیا رکرائے جاسکیں۔ توقع کی جاتی ہے کہ ان اقدامات کا سلسلہ جنوری 2020 سے شروع ہوجائے گا اور نفاذ کے معاملے میں عائد وزن میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔

وزیر موصوفہ نے ایک ایسی ورثہ جاتی تنازعہ کا حل کرنے والی اسکیم کی تجویز رکھی ہے، جس کے نتیجے میں مقدمے بازی کا تیز رفتاری سے خاتمہ ہوسکے گا۔ انھوں نے کہا کہ 3.75 لاکھ کروڑ روپے کی رقم سروس ٹیکس اور آبکاری محصولات کے شعبے میں ماقبل جی ایس ٹی نفاذ کے وقت سے مقدمے بازی میں پھنسی ہوئی ہے۔

انھوں نے کاروباری برادری سے کہا کہ وہ تنازعات کا حل نکالنے کے لئے مذکورہ اسکیم سے فائدہ اٹھائیں، جس کا نام سب کا وشواس، لیگیسی ڈسپیوٹ ریزولیوشن اسکیم 2019 ہے۔ یہ اسکیم جلد ہی مشتہر کی جائے گی اور اس اسکیم کے تحت جن افراد کو باقاعدہ طور پر مستثنیٰ کیا جائے گا، ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

وزیر موصوفہ نے چند فرضی اور جعلی اداروں کو بدعنوانی کے طریقوں کو اپنانے سے روکنے اور برآمدات کی ترغیبات کے فوائد نہ حاصل کرنے دینے کے لیے کسٹم ایکٹ میں چند ترامیم کی تجویز بھی رکھی ہے۔جہاں کہیں محصولات سے مبرا کوئی فائدہ حاصل کرنے کے سلسلے میں خلاف ورزی کی گئی ہو یا 50 لاکھ روپے سے زائد ڈرا بیک سہولت حاصل کی گئی ہو جو قابل دست اندازی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ غیر ضمانتی جرائم کے زمرے میں آتا ہے، انہیں کسٹم ایکٹ میں شامل کیا جارہا ہے۔ کسٹم ایکٹ 1962 میں ترمیم کی تجویز کا مقصد آدھار کی تصدیق کی تجویز یا کسی دیگر شناخت کی سہولت کو شامل کرنا ہے تاکہ اسمگلنگ کی روک تھام ممکن ہوسکے۔اس کے ذریعے کسٹم حکام کو ایسے اختیارات حاصل ہوں گے، جن کے تحت وہ بیرون ملک خطاکار شخص کو گرفتار کرسکیں گے۔

تمام تر غیر بینکنگ مالی کمپنیوں کو یہ سہولت فراہم کرنے کی غرض سے کہ وہ اس سال کے دوران سود پر دستیاب اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جسے اسی سال ادا کیا جانا ہے، جس سال میں انھوں نے اصلاً وہ سود حاصل کیا ہے۔ مثلا درج فہرست بینکوں کو یہ سہولت فراہم کی جائے گی۔ یہ اعلان وزیر خزانہ نے اپنی بجٹی تقریر میں کیا ہے۔

15 برسوں کی مدت کے اندر کسی بھی دس سال کے بلاک میں دفعہ 80LA کے تحت 100 فیصدمنافع سے مربوط تخفیف سمیت متعدد براہ راست ٹیکس ترغیبات کا اعلان بین الاقوامی مالی خدمات مرکز (آئی ایف ایس سی) جی آئی ایف ٹی سٹی میں کیا گیا ہے۔ چالو اور جمع کی گئی آمدنی سے ڈیویڈنڈ ٹیکس کو مستثنیٰ کرنے کی سہولت، جو کمپنیوں اور میوچیول فنڈ کو دی گئی ہے، زمرہ تین کے متبادل سرمایہ کاری فنڈ (اے آئی ایف) پر اہم فائدے کے سلسلے میں استثنائی اور غیر مقیم افراد سے حاصل کئے گئے قرض پر سود کی ادائیگی کا اعلان بھی آئی ایف سی کے لئے کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ قومی آفات اور کونٹی جینٹ ڈیوٹی، تمباکو مصنوعات اور کروڈ سے متصادم ہے، کیونکہ ان دونوں اشیا پر بنیادی آبکاری محصول کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اب ان اشیا پر برائے نام آبکاری محصول عائد کرنے کی تجویز ہے۔ اس طرح کے بنیادی محصولات کی شرحوں کا اعلان مرکزی آبکاری ایکٹ 1944 کے چوتھے شیڈیول میں موجود ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close