اپنا دیشتازہ ترین خبریں

مدھیہ پردیش: پولیس نے وکیل کو پیٹا- بعد میں مانگی معافی، کہا ’مسلمان سمجھ کر پیٹ دیا تھا‘

جس طرح سے ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز معاملے سامنے آ رہے ہیں وہ نہایت تشویش ناک ہیں، ایسے معاملے جو نہ صرف ہماری قومی یکجہتی کو شرمسار کرنے والے ہے بلکہ پوری انسانیت کے لئے ایک بدنما دھبہ ہیں. ایسا ہی ایک واقعہ مدھیہ پردیش کے بیتول میں سامنے آیا ہے، جو سماج میں موجود مسلمانوں کے خلاف نفرت اور پولیس کی من مانی اور استحصال کو دکھاتا ہے کہ، کس طرح سے پولیس حکام نے بندیلے نامی ایک شخص کی پٹائی کر دی کیونکہ پولیس کو لگا کہ وہ مسلمان ہیں۔

خبروں کے مطابق یہ معاملہ 23 مارچ کا بتایا جا رہا ہے. جہاں دیپک بندیلے نام کے ایک وکیل کو ریاست کی پولیس نے بے رحمی سے پیٹا تھا، جب وہ علاج کے لیے سرکاری ہاسپٹل جا رہے تھے۔ لیکن اب ایک مہینے کے بعد پولیس ان پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اپنی شکایت واپس لے لیں۔ دیپک بندیلے اس بارے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’جب ملک میں لاک ڈاؤن نافذ نہیں ہوا تھا، لیکن بیتول میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی۔ میں پچھلے 15 برسوں سے شوگر اور بلڈ پریشر کا مریض ہوں۔ چونکہ میں ٹھیک محسوس نہیں کر رہا تھا، تو میں نے سوچا کہ ہاسپٹل جاکر کچھ دوائیاں لے لوں۔ جب وہ شام 5.30 سے 6 بجے کے بیچ ہاسپٹل جا رہے تھے تو انہیں پولیس نے بیچ میں ہی روک لیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ میں نے پولیس کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ دوائیاں لینی بہت ضروری ہیں، لیکن پولیس نے ان کی بات کو نہیں سنا اور انہیں تھپڑ مارا دیا۔ بندیلے نے کہا، ‘میں نے ان سے کہا کہ انہیں آئین کی حدوں کے اندر رہ کر کام کرنا چاہیے اور اگر پولیس کو ٹھیک لگتا ہے تو وہ دفعہ 188 کے تحت حراست میں لیے جانے کو تیار ہیں۔ یہ سن کر پولیس اہلکاروں نے اپنا آپا کھو دیا اور مجھے اور ہندوستان کے آئین کو گالی دینے لگے۔ کچھ ہی وقت میں کئی پولیس والے آ گئے اور مجھے لاٹھی سے پیٹنا شروع کر دیا۔’ لیکن جب انہوں نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ ایک وکیل ہیں، جس کے بعد پولیس نے انہیں پیٹنا بند کیا۔ بندیلے کا کہنا ہے کہ، ‘تب تک میرے کان سے کافی خون بہنے لگا تھا۔ ’انہوں نے اپنے دوست اور بھائی کو بلایا اور بعد میں وہ ہاسپٹل گئے۔ وہاں پر انہوں نے اپنی میڈکو لیگل کیس (ایم ایل سی) بنوایا۔ اس واقعہ کے دوسرے دن یعنی 24 مارچ کو بندیلے نے ایس پی ڈی ایس اور ریاست کےڈی جی پی کے پاس شکایت درج کرائی۔

وکیل دیپک بندیلے نے اپنی شکایت میں یہ مانگ کی کہ معاملے میں ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔ جس کے بعد ان کا بیان درج کرنے کے لئے کچھ پولیس والے ان کے گھر پر آئے، اس دوران پولیس نے ان سے کہا کہ پولیس حکام کو پہچان کرنے میں غلط ہو گئی، پولیس والوں کو لگا کہ وہ مسلمان ہیں کیونکہ ان کی بڑی داڑھی تھی۔ بتا دیں کہ دیپک بندیلے بھوپال میں تقریباً 10 سال تک بطور صحافی کام کیا ہے اور لاء کی پریکٹس کرنے کے لیے سال 2017 میں وہ بیتول آ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ‘ویسے تو پولیس نے مجھ سے معافی مانگ لی ہے۔ لیکن اگر میں مسلمان ہوتا بھی، تو پولیس کو کس نے اجازت دی ہے کہ بنا کسی وجہ سے وہ ظلم کریں۔’ لیکن ابھی تک پولیس حکام کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close