اپنا دیشتازہ ترین خبریں

مدھیہ پردیش حکومت کو ہائی کورٹ نے دیا جھٹکا، اوبی سی کے 27 فیصد ریزرویشن پر لگائی روک

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کی طرف سے پسماندہ طبقے کو14 سے بڑھا کر 27 فیصد ریزرویشن دیئے جانے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے آج اس حکم کے نفاذ پر روک لگانے کے ساتھ ہی متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا۔

درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج آر ایس جھا اور جج سنجے دویدی کی دو رکنی بنچ نے سرکاری حکم کے نفاذ پر روک لگاتے ہوئے حکام کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگا ہے۔ جبل پور کے باشندے ارپتا دوبے، بھوپال کی سمن سنگھ اور ایک دیگر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ وہ نيٹ امتحان 2019 شامل ہوئی تھی اور اگلے ہفتے سے ان کی کاؤنسلنگ شروع ہونے والی ہے۔

ریاستی حکومت نے 8 مارچ 2019 کو درج فہرست ذات و قبائل اور دیگر پسماندہ طبقے کے لئے ریزرویشن سے متعلق ایک آرڈیننس جاری کیا ہے۔ جس کے مطابق پسماندہ طبقے کے لئے مقرر 14 فیصد ریزرویشن کو بڑھا کر 27 فیصد کر دیا گياہے۔پسماندہ طبقہ کے لئے مقررہ ریزرویشن میں اضافے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مذکورہ عرضیاں دائر کی گئی تھیں۔

درخواست گزاروں کی جانب سے پیروی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ آدتیہ سنگھی نے بنچ کو بتایا کہ فی الحال ایس سی طبقے کے لئے 16 فیصد اور ایس ٹی طبقہ کے لئے 20 فیصد ریزرویشن ہے۔ او بی سی طبقہ کے لئے 14 فیصد ریزرویشن تھا، جسے ریاستی حکومت نے بڑھا کر 27 فیصد کر دیا ہے۔ اس طرح کل ریزرویشن کا فیصد 63 فیصد پهنچ جائے گا۔ سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کسی بھی صورت حال میں مجموعی ریزرویشن 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔

عرضی میں چیف سکریٹری اور طبی تعلیمی محکمہ کے آپریٹر کو فریق بنایا گیا تھا۔ درخواست کی سماعت کے بعد دو رکنی بنچ نے او بی سی طبقہ کے لئے ریزرویشن بڑھائے جانے کے حکم پر روک لگاتے ہوئے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر کےجواب مانگا ہے۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close