اترپردیشتازہ ترین خبریں

مدرسے کے بچوں پر ہجومی تشدد، لگوایا گیا ’جے شری رام‘ کا نعرہ

یوگی حکومت میں ہجومی تشدد کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ شرپسند عناصر کو قانون کا کوئی خوف رہ ہی نہیں گیا ہے۔ کچھ واقعات تو ایسے بھی پیش آئے جہاں پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور غنڈے قانون کی دھجیاں اڑاتے رہے۔ ایک ایسا ہی واقعہ اتر پردیش کے اناؤ میں پیش آیا جہاں ان شرپسند عناصر نے گراؤنڈ میں کرکٹ کھیل رہے مدرسے کے معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشا، بجرنگ دل سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ان معصوم بچوں سے ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے لیے کہا۔ لیکن جب بچوں نے ایسا کرنے سے منع کردیا تو انہوں نے بچوں کی زبردست پٹائی کر دی۔

خبروں کے مطابق جامع مسجد کے پاس ایک مدرسہ ہے جہاں کے بچے اکثر جی آئی سی گراؤنڈ (گورنمنٹ انٹر کالج گراؤنڈ) میں کھیلنے کے لئے جایا کرتے ہیں۔ جمعرات کے روز بھی وہ کرکٹ کھیل رہے تھے جب ہندوتوا ذہنیت والے کچھ لوگوں نے وہاں ہنگامہ پیدا کر دیا۔ ایسا بتایا جا رہا ہے کہ انھوں نے بچوں سے ان کا بلا چھین کر پٹائی شروع کر دی اور کئی بچوں کے کپڑے بھی پھاڑ ڈالے۔ جہاں کئی بچے زخمی ہوئے ہیں جن میں تین کو زبردست چوٹیں آئی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ بچوں کے سر پر بھی چوٹ لگی ہے۔

ایسا بتایا جا رہا ہے کہ تحریری شکایت کے بعد پولس نے کیس درج کر لیا ہے اور ساتھ ہی ایک ملزم کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ ملزمین کی پہچان فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ اناؤ کے پولس سپرنٹنڈنٹ ایم پی ورما نے واقعہ کے تعلق سے بتایا کہ پولس جبراً جے شری رام کا نعرہ لگوانے والے ملزمین کے بارے میں تفصیل پتہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور جانچ کے بعد حقیقت کا پتہ چل سکے گا۔

سوال یہ ہے کہ آخر شرپسند عناصر کو کیوں قانون کا ڈر نہیں ہے اور پولیس کیوں تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات سے بھی یوپی حکومت کی پیشانی پر شکن نہیں ہے۔ اس واقعہ کے انّاؤ کے مقامی مسلمانوں میں برہمی دیکھی جارہی ہے۔ مقامی لوگوں نے مدرسے بچوں کو نشانہ بنانے والے شرپسندوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close