تازہ ترین خبریںکھیل کھلاڑی

محمد عامر نے ٹیسٹ کرکٹ سے لیا ریٹائرمنٹ

پاکستان کے فاسٹ بولر محمد عامر نے جمعہ کو ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا تاکہ وہ ون ڈے اور ٹوئنٹی 20 بین الاقوامی کرکٹ پر توجہ مرکوز کر سکیں۔

27 سال کے فاسٹ بولر نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ذریعے بیان جاری کرکے اس کا اعلان کیا۔ عامر نے سفید گیند کرکٹ پر توجہ لگانے کے ارادے سے ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ون ڈے اور ٹوئنٹی 20 کرکٹ ٹیم کے لیے دستیاب ہوں گے۔ عامر نے کہا کہ ان کا مقصد اگلے سال آسٹریلیا میں ہونے والے ٹوئنٹی 20 عالمی کپ سے پہلے خود کو فٹ رکھنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میرے لئے پاکستان کی ٹیسٹ فارمیٹ میں نمائندگی کرنا اعزاز کی بات رہی ہے۔ لیکن میں نے اس فارمیٹ کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سفید گیند کرکٹ پر توجہ لگا سکوں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کے لیے کھیلنا میرا واحد مقصد ہے اور اس لیے میں اپنی طرف سے پوری طرح فٹ رہنا چاہتا ہوں تاکہ آئندہ چیلنجوں کے لیے خود کو تیار رکھ سکوں جس میں اگلا ٹوئنٹی 20 عالمی کپ بھی اہم ہے۔ عامر نے پاکستان کی جانب سے سال 2009 میں 17 سال کی عمر میں ڈیبو کے بعد سے 36 ٹیسٹ کھیلے ہیں جس میں 30.47 کے اوسط سے ان کے نام 119 وکٹ ہیں۔

عامر کا کریئر تقریبا ایک دہائی تک پابندی اور جیل کی وجہ سے متاثر رہا۔ سال 2011 میں لارڈس ٹسٹ میں اسپاٹ فکسنگ کی وجہ سے اپنے دو دیگر ٹیم کے ساتھیوں محمد آصف اور سلمان بٹ کے ساتھ ان پر تا حیات پابنی عائد کی گئی تھی۔ لیکن بعد میں ان پر سے پابندی ہٹالی گئی تھی اور انہوں نے پاکستانی ٹیم میں کامیاب واپسی کرلی۔

بتا دیں کہ سال 2016 میں عامر نے پابندی اور مختصر وقت جیل میں گزارنے کے بعد بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کی اور 2017 چمپئنز ٹرافی جیت میں پاکستانی ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کیا۔

پی سی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان نے عامر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت نے انہیں مضبوط کرکٹر کے ساتھ بہتر انسان بنایا ہے۔ خان نے کہاکہ عامر فی الحال ٹیسٹ کرکٹ کے مایہ ناز تیز گیندبازوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے کم عمر میں ہی کافی پریشانیاں دیکھی ہیں اور مضبوط بن کر واپس لوٹے۔ طویل فارمیٹ میں ان کی غیر موجودگی کافی محسوس کی جائے گی۔

عامر نے اگرچہ مانا کہ ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا یہ صحیح وقت ہے کیونکہ اگلے ماہ سے عالمی ٹیسٹ چمپئن شپ شروع ہو رہی ہے اور پاکستان کے نوجوان تیز گیند بازوں کو موقع دینے کے لیے انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کو حمایت کے لئے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہاکہ میں اپنی ٹیم کے ساتھیوں کو شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ محدود شکل میں ہم دوبارہ ملیں گے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close