تازہ ترین خبریںمسلم دنیا

محمد بن سلمان کو بے دخل کرنے کی سازش! شاہی خاندان کے 3 اراکین حراست میں

امریکی جریدوں میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق سعودی حکومت نے شاہی خاندان کے تین سینیئر اراکین کو حراست میں لے لیا ہے۔ حراست میں لیے گئے اراکین میں سعودی بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے چھوٹے بھائی بھی شامل ہیں تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان افراد کو کن وجوہات کی بنا پر حراست میں لیا گیا ہے۔

بتا دن کہ امریکی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی شاہی عدالت نے ملزمان پر شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے خلاف سازش اور تختہ پلٹ کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے کہا ہے کہ جن لوگوں پر یہ الزام لگایا گیا ہے ان میں سے ایک تخت کا دعویدار ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو ملزمان کو عمر قید یا سزائے موت بھی سنائی جا سکتی ہے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں سے دو سلطنت میں انتہائی بااثر شخصیات تھیں جبکہ ان حراستوں کو سعودی ولی احد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ 2017 میں محمد بن سلمان کے احکامات پر سعودی شاہی خاندان کے درجنوں اراکین، وزرا اور کاروباری شخصیات کو گرفتار کرکے ’رٹز-کارلٹن ہوٹل‘ تک محدود کر دیا گیا تھا۔ محمد بن سلمان کو سنہ 2016 میں ولی احد کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد سے درحقیقیت سلطنت کا سربراہ سمجھا جاتا ہے۔ امریکی جریدے نیویارک ٹائمز اور وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یہ گرفتاریاں جمعہ کی صبح کی گئیں۔ حراست میں لیے جانے والے ارکین میں شاہ سلمان کے چھوٹے بھائی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز، سابق ولی احد محمد بن نائف اور شاہی کزن شہزادہ نواف بن نائف شامل ہیں۔

یاد رہے کہ 2017 میں محمد بن سلمان نے اس وقت کے وزیر داخلہ محمد بن نائف کو عہدے سے ہٹا کر نظر بند کر دیا تھا۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق جمعہ کے روز شاہی اراکین کو ان کے گھروں سے سعودی گارڈز نے حراست میں لیا۔ انھوں نے چہرے پر ماسک اور سیاہ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا۔ محمد بن سلمان کو 2016 میں اس وقت عالمی پذیرائی ملی جب انھوں نے قدامت پسند ملک سعودی عرب میں متعدد اقتصادی اور سماجی اصلاحات کرنے کا عزم کیا۔ تاہم وہ اب تک متعدد تنازعات کی زد میں بھی آ چکے ہیں جن میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کا ترکی کے شہر استنبول میں موجود سعودی سفارت خانے میں قتل شامل ہے۔

حالیہ دنوں میں سعودی عرب کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بھی متعدد اقدامات کر رہا ہے۔ اس حوالے سے کیے جانے والے اقدامات میں عمرے پر پابندی لگانا بھی شامل ہیں اور اب بھی رواں برس حج کے منعقد ہونے پر سوالیہ نشان موجود ہیں۔ سعودی عرب نے پہلے ہی مسلمانوں کے مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن کورونا وائرس سے متعلق خدشات کے پیشِ نظر اب اس پابندی میں سعودی شہریوں اور رہائشیوں کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز سعودی عرب میں مسجد الحرام کے مطاف اور مسجد نبوی کو کورونا وائرس کے انفکیشن سے بچاؤ کے لیے صفائی کی غرض سے بند کر دیا تھا لیکن اب اسے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close