اپنا دیشتازہ ترین خبریں

محض فرد جرم کی بنیاد پر انتخاب لڑنے سے نہیں روکا جاسکتا: سپریم کورٹ

عدالت عظمی نے منگل کو التزام دیا کہ مجرمانہ معاملے میں محض فرد جرم عائد ہونے کی بنیاد پر کسی امیدوار کو انتخاب لڑنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ چیف جسٹس دیپک مشراکی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بینچ نے بھارتیہ جنتاپارٹی کے رہنما، اشونی کمار اپادھیائے، سابق مرکزی انتخابی کمشنر جی ایم لنگدوہ ا اور غیر سرکاری تنظیم ’ پبلک انٹرسٹ فاؤنڈیشن کی عرضی پر یہ سنایا۔

آئینی بینچ نے تاہم جرائم زدہ سیاست پر لگام لگانے کے لئے کئی رہنما ہدایات بھی جاری کئے ۔ عدالت نے کہا کہ چناوا لڑنے والے امیدواروں کو اپنےمجرمانہ پس منظر کی معلومات ’موٹے حروف‘ میں دینا چاہیئے ۔ عدالت نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے امیدواروں کی مجرمانہ پس منظر کی معلومات پر اپنی ویب سائٹ پر دینی چاہئے، ساتھ ہی میڈیا میں بھی اس کی تشہیر کی جانی چاہئے۔ آئینی بینچ نے نااہلی کے معاملےکو پارلیمنٹ کا ذمہ یہ کہتے ہوئے چھوڑ دیا کہ عدالت نااہلی کی شرائط میں اپنی طرف سے کچھ اضافہ کرنا نہیں چاہتی۔ آئینی بینچ میں جسٹس روہنگٹن ایف نریمان، جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس اندو ملہوترا بھی شامل ہیں۔

دراصل مارچ 2016 میں عدالت عظمی نے یہ معاملہ آئینی بینچ کے پاس غور خوض کے لئے بھیج دیا تھا۔عرضی گزار نے درخواست کی تھی کہ جن لوگوں کے خلاف فرد جرم داخل ہیں اور ان معاملات میں پانچ سال یا اس سے زائد کی سزا کا التزام ہے انہیں انتخاب لڑنے سے روکا جاۓ۔ سماعت کے دوران عدالت نے پوچھا تھا کہ کیا کمیشن ایساا نتظام کر سکتا ہے کہ جو لوگ مجرمانہ پس منظر کے ہیں ان کے بارے میں تفصیلات عام کیا جاۓ۔ اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک سزا سے پہلے ہی انتخابات لڑنے پر پابندی کا سوال ہے، تو کوئی بھی آدمی تب تک بے گناہے جب تک کہ عدالت اسے سزا نہ دے دے اور آئین کا التزام یہی کہتا ہے

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close