اپنا دیشتازہ ترین خبریں

مجھے بحیثیت گورنر یہ بات نہیں کرنی چاہئے تھی: ستیہ پال ملک

جموں کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے اپنے حالیہ متنازع بیان کہ جنگجوئوں کو چاہئے کہ وہ اپنے لوگوں کے بجائے بدعنوان لوگوں کو ماریں، پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے بحیثیت گورنر ایسا بیان دینے سے احتراز کرنا چاہئے تھا لیکن اگر میں گورنر نہیں ہوتا تو یہی بات کہتا۔

موصوف گورنر نے عمر عبداللہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ عمرعبداللہ ابھی سیاسی طور پر نابالغ ہیں وہ ہر چیز پر ٹویٹ کرتا ہے جبکہ نوے فیصد لوگ ان کو رد عمل میں گالیاں دیتے ہیں اور ان کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے ہیں۔ ستیہ پال ملک نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز یہاں میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا: ‘مجھے بحیثیت گورنر یہ بات کرنے سے احتراز کرنا چاہئے تھا لیکن اگر میں گورنر نہیں ہوتا تو یہی بات کرتا کیونکہ کشمیر کی تباہی کے لئے یہی لوگ ذمہ دار ہیں جنہوں نے اتنی لوٹ مچائی ہے کہ بھارت کی تاریخ میں کسی بھی ریاست میں کسی نے اتنی لوٹ نہیں مچائی ہے’۔ ملک نے کہا کہ یہاں یاترا کے دوران جو بچے گھوڑے لے جاتے ہیں ان کے پاس پہننے کو سویٹر نہیں ہیں لیکن یہ لوگ بادشاہوں جیسا برتائو کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا: ‘یہاں گھوڑے لے جانے والے بچوں کے پاس سویٹر نہیں ہیں، ساری تباہی ان ہی لوگوں کی ہے، یہ ابھی بھی بادشاہوں جیسا برتائو کررہے ہیں جیسے یہ ان کی ریاست ہے انہیں یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ وہ دن چلے گئے’۔

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ کے ٹویٹ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ آج کے بعد اگر یہاں کسی سیاسی لیڈر یا بیوروکریٹ کو مارا جائے گا تو اس کی ذمہ داری گورنر پر عائد ہوگی، کے حوالے سے ستیہ پال ملک نے کہا: ‘جہاں تک عمر کا سوال ہے وہ ابھی کم عمر بچہ ہے وہ ایک سیاسی طور نابالغ کی طرح برتائو کرتا ہے’۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close