مسلمانوں کاعالمی منظر نامہ

متوازی فتوے عصر حاضر کی ضرورت

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اسلام ہر دور کے لئے مشعل راہ ہے۔ اسلامی قوانین یعنی اسلامی شریعت بنی نوع انسان کے لئے باعث فلاح و رحمت ہیں۔ اسلام میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ اگر پڑوسی بھوکا ہے تو آپ پر کھانا حرام ہے، اس میں اس بات کی تفریق نہیں کی گئی ہے کہ پڑوسی مسلمان ہے یا غیر مسلم۔ بلا تفریق مذاہب اسلام بلاشبہ فلاح و آشتی کا پیغام دیتا ہے، اس کے یہاں ظلم وجبر، ناانصافی اور غیر انسانی اعمال کی اجازت نہیں ہے۔ اسلام کے قوانین پورے سماج کے لئے باعث رحمت ہیں۔ حضرت محمدؐ رحمت المسلمین نہیں بلکہ رحمت العالمیں بناکر بھیجے گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اسلام گیارہویں صدی تک اپنی مقبولیت کا پرچم بلند کرتا رہا۔ دنیا کے ہر گوشے میں اس کی پذیرائی ہوئی لیکن آج کی صورتحال یہ ہے کہ دنیا کو امن پسندی، انسانیت اور فلاح کی تلقین کرنے والا اسلام آج خود تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ اسلامی قوانین کٹہرے میں گھیرے جا رہے ہیں۔مسلمان معتوب زمانہ ہو چکا ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ مسلمان اپنے رسولؐ اور قرآن کی ہدایات کی راہ کو چھوڑ کر اپنی راہ خود بنانے چلا ہے اور زوال پذیر ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کی زوال پذیری کی سب سے بڑی وجہ آپسی نفاق اور اس کا کردار وعمل ہے۔ اسلامی معاشرہ جو کل تک غیر قوموں کے لئے باعث توقیر تھا آج باعث تحقیر ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت اسلامی کئی خانوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ مسالک اور فتووں نے مسلم معاشرہ کو تماشا بنا دیا ہے اور تضحیک کا موضوع بنا دیا ہے۔ آج کے اسلام دشمن دور میں مسلمانوں کے آپسی نفاق اور بات بات پر فتوی، خواتین پر مظالم و دیگر معاملات میڈیا کے نشانہ پر ہیں اور مسلمان دنیا کی نظروں میں خوار ہو رہا ہے اسی تشویش کے پیش نظر سعودی عرب نے دس سال قبل خواتین کے مسائل حل کرنے کے لئے کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کے تعلق سے عالمی مسائل پر بھی غور و خوض ہوا تھا۔ اس اجلاس میں دنیا کے کئی ممالک کے 170 اسکالرس شریک ہوئے تھے۔ اس اجلاس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ مسلمان معاشرے کو صالح کرنے کے لئے ایسے فتووں کا استعمال کریں گے، جن میں اعتدال پسندی ہو، جس کے منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ اس اجلاس میں طے کیا گیا تھا کہ اس کے لئے مستند علماء ہی فتوی دیں۔ اجلا س میں اس تشویش کا اظہار بھی کیا گیا تھا کہ جو فتوے جاری کئے جاتے ہیں ان میں بیشتر میں توازن کا فقدان ہوتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ دارالافتاء کے دروازے سب کے لئے نہ کھولے جائیں۔ فتوی جاری کرنے والے اعلی تعلیم یافتہ ہونے چاہیئں جو حالات اور معاشرے کی ضروریات کا احساس کرتے ہوئے فتوی جاری کریں، خاص کر خواتین کے مسائل حل کرنے کے لئے اعلی ظرفی کا بھی مظاہرہ کریں۔ زیر نظر شمارہ فتووں کے ذریعہ پیدا شدہ حالات اور میڈیا کے ذریعہ اسلامی قوانین کا مضحکہ اڑانا خاص کر خواتین کے ذاتی معاملات پر جو بہت پیچیدہ ہیں ان پر مفتیان کو نہایت عمیق غور وخوض کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ مملکت سعودی عرب کی کاوشوں خاص کر دنیا میں مسلمانوں کے تہذیب و تمدن کی ماضی کی طرح روشن کرنے کے لئے دس سال قبل منعقد کی گئی شوریٰ کونسل کے تناظر میں پیش کیاگیا ہے جو آج کے حالات میں بھی صد فیصد پورا اترتا ہے:

مملکت سعودی عربیہ میں 10سال قبل شوریٰ کونسل میں خواتین کے مسائل حل کرنے کے لئے ایک کانفرنس کا انعقاد کرایا گیا تھا۔ خواتین کے علاوہ بھی دیگر معاشرتی اور مسلمانوں کے تعلق سے بین الاقوامی مسائل پر غوروخوض کیا گیا تھا اور اس کانفرنس میں دیگر چھوٹے چھوٹے مسائل پر فتوے جاری کرنے کی جو روش پیدا ہوگئی تھی، اس پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

سب سے پہلے اس کانفرنس میں یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ خواتین سے متعلق امور پر اسلامی فرمان یا فتوی جاری کرنے کے لئے الگ سے ایک شعبہ قائم کیا جائے۔ کونسل کے چیئرمین عبداللہ ال شیخ کی صدارت میں شوریٰ کے ایک رکن نے یہ تجویز پیش کی تھی۔ اس وقت شوریٰ کونسل کے سیکریٹری جنرل محمد ال غمادی نے اخباری نمائندوں کو یہ بتایا تھا کہ شوریٰ کونسل کی کمیٹی برائے اسلامی امور اور عدلیہ نے اس وقت یہ مشورہ دیا تھا، جب اس نے جرنل پریسیڈینسی برائے سائنٹفک ریسرچ اور فتویٰ جاری کرنے کے عمل پر اپنی سالانہ رپورٹ کانفرنس میں پیش کی تھی۔ اس وقت اس جانب اشارہ کیا گیا تھا اور اراکین مجلس کی توجہ مبذول کرائی تھی کہ ایک ایسا ڈپارٹمنٹ جو کہ خواتین کے امور اور مسائل سے متعلق فتوے جاری کرتے ہیں انہیں جنرل پریسیڈینسی برائے سائنٹفک ریسرچ کی اسٹینڈنگ کمیٹی سے وابستہ ہونا چاہیے۔ ال غمادی نے مزید کہا تھا کہ خواتین کے بہت سے ذاتی معاملات نہایت پیچیدہ ہوتے ہیں لہذا ان پر نہ صرف نہایت عمیق غوروخوض کیا جائے بلکہ ان کے مسائل اور ان کے حل کا ترجمہ کرایا جائے تاکہ حکومت بہتر سے بہتر اسلامی روشنی میں خدمات انجام دے سکے اور جو لوگ اسلام میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ بھی اس جانکاری سے مستفید ہو جائیں۔

شوریٰ کونسل کے اراکین نے اس بات کا بھی مشورہ دیا تھا کہ پریسیڈینسی کی ویب سائٹ میں دیگر زبانوں جیسے روسی، جرمنی اور چینی زبانوں کو شامل کیا جائے تاکہ انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والوں کو اس شعبہ میں کی جانے والی جدید پیش رفت کے تعلق سے وسیع پیمانہ پر جانکاری فراہم ہو جائے۔ ال غمادی نے اراکین کانفرنس کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلامی علماء اور محققین فقہ اور علم قوانین (Jurisprudence) کے تعلق سے وہ گرانقدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مجلس شوریٰ میں یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ اس موضوع پر تفصیلی جائزہ/ مطالعہ کے واسطے سرکاری ملازمین کو بھی شوریٰ کونسل میں غیر رسمی مباحثہ کے لئے مدعو کیا جائے۔

شوریٰ کے اجلاس میں دو فریقی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے مملکت اور اتھوپیا (Eritrea) کے درمیان ہونے والے معاہدہ کے ڈرافٹ کو بھی منظور کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ال غمادی کا کہنا تھا کہ 9 دفعات پر مشتمل اس معاہدہ سے ثقافت، اطلاع، سائنسی تحقیق، ریسرچ اور سرمایہ کاری کے سیکٹر میں دو فریقی تعاون میں فروغ ہو گا۔ اسلامی علماء اور اسکالروں نے اس بات پر بھی توجہ مرکوز کی تھی کہ عصری مسائل کے تعلق سے فتوے جاری کرنے کے لئے میڈیا تک رسائی کرنے سے قبل وزارت برائے اسلامی امور یا دارالافتاء سے رابطہ قائم کیا جائے۔ وزیر برائے اسلامی امور صالح ال شیخ جنہوں نے یہ ہدایت دی تھی، انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ انفرادی طور پر اس وقت لوگوں کے ذریعہ جو فتوے جاری کئے جاتے ہیں ان میں توازن کا فقدان ہوتا ہے۔ اسی لئے انہوں نے کہا تھا کہ ’’جب تک دیگر علماء اور ماہرین سے مشورہ نہ کر لیا جائے تب تک فتووں کو شائع نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘ اجلاس کے اراکین کو وزیر موصوف نے یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ کسی بھی مسئلہ پر خصوصی طور پر خواتین کے تعلق سے کسی بھی مسئلہ پر فتوے تصدیق شدہ ذرائع سے اخذ کریں اور ’پریسیڈینسی فار اسکو لاسٹک ریسرچ اینڈ ریلی جیئس ایڈکس‘ (دارالافتاء) سے رابطہ قائم کریں جس کے سربراہ مفتیٔ اعظم شیخ عبد العزیز ال شیخ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسا دیکھنے میں آرہا ہے کہ کچھ لوگ غیر اہم موضوعات پر لاابالی فتوے جاری کرنے کی روش میں مصروف رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ایک اسلامی ریاست ہونے کی وجہ سے اس طرح کی روش سے مملکت کی شبیہ مجروح ہو جائے گی۔ مملکت میں ایسے بہت سے مسائل ہیں، جنہیں باضابطہ طور پر فتووں سے حل کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ہمیں دہشت گردی سے مقابلہ کرنا ہے جسے لاعلمی کی وجہ سے اسلام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ ہمیں دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہمارے نبی پیغمبر حضرت محمدؐ نے ہمیشہ کے لئے امن و آشتی کا پیغام دیتے ہوئے بقائے باہم کی تعلیمات دی ہیں۔

جب موسیقی کے تعلق سے حالیہ فتوے کے بارے میں پوچھا گیا جس میں اجازت دی گئی ہے تو وزیر موصوف نے کہا کہ ’’یہ ایک ذاتی معاملہ ہے۔‘‘ آپ کو یاد ہوگا کہ خادم حرمین وشریفین مرحوم شاہ عبداللہ نے یہ کہتے ہوئے مفتی کرام اور اسکالروں کو تربیت دیئے جانے پر زور دیا تھاکہ فتووں کی اپنی بھی کچھ ضروریات ہوتی ہیں چنانچہ جو لوگ فتوے جاری کرتے ہیں وہ اعلی تعلیم یافتہ ہونے چاہیئں اور ضروری شرائط پوری کرتے ہوئے انہیں اپنی خدمات انجام دینی چاہیئں۔ دارالافتاء کے دروازے ان لوگوں کے لئے کھلے نہیں رکھے جانے چاہیئں جو کہ نہ تو قابل اعتماد اسکالرہیں، نہ ہی جو شریعت سے بخوبی واقف ہیں اور نہ ہی جنہیں امت کے مسائل کی جانکاری ہے۔ اسی لئے شاہ عبداللہ نے میڈیا کو تلقین کی تھی کہ وہ لوگوں کے درمیان ان فتووں کی تشہیر نہ کریں، جو کہ دارالافتاء یا اسلامی اسکالروں کی جانب سے جاری نہ کئے گئے ہوں۔

اس وقت مرحوم شاہ عبداللہ نے یہ بھی کہا تھا کہ فتوے کی اہمیت اور ملت اسلامیہ میں مفتیان اکرام کے اہم رول پر مکہ معظمہ میں منعقد ہونے والی آئندہ چوٹی کانفرنس میں مزید غوروخوض کیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ اس کانفرنس میں مملکت کے اس وقت کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز ال شیخ ، مسلم ورلڈ لیگ کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر عبداللہ بن عبد المحسن الترکی اور شوریٰ کونسل کے پریسیڈینٹ صالح بن حمید نے شرکت کی تھی۔ اس پانچ روزہ کانفرنس میں دنیا کے مختلف ممالک کے 170 اسلامی اسکالروں نے شرکت کی تھی۔ پوری دنیا کے اسلامی اسکالروں اور فقہ کے ماہرین نے اس بات کی تائید کی تھی کہ اسلامی اقوام عالم میں مرد، خواتین یا دیگر دنیاوی مسائل کے تعلق سے جاری کئے جانے والے فتووں پر کسی بھی طرح کا اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ تمام علماء کا یہی خیال تھا کہ فتووں میں اعتدال پسندی ہونی چاہیے تاکہ کسی بھی طرح کا اشتعال اور تنازع پیدا نہ ہو اور مسلم نوجوانوں پر بھی ان کے منفی اثرات مرتب نہ ہوں اسی لئے مرحوم شاہ عبداللہ نے یہ شاہی فرمان جاری کیا تھا کہ صرف مستند علماء ہی فتوے جاری کریں۔

مکہ معظمہ کے شاہی امام وخطیب شیخ صالح بن عبداللہ بن حمید نے بھی اس وقت اس بات کی تعریف کی تھی کہ شاہی فرمان کی رو سے غیر مجاز لوگوں کے ذریعہ فتوے جاری کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ درحقیقت دیکھا جائے تو شریعت میں کسی بھی قسم کی دخل اندازی یا خلاف ورزی کو روکنے کے لئے فتوے جاری کرنے کے عمل کو تحفظ فراہم کیاگیا ہے تاکہ کوئی بھی شخص پیغمبر اسلام ؐ یا آپؐ کے مقلدین کے بتائے ہوئے راستہ سے بھٹک نہ جائے۔ دہشت گردی کے تعلق سے کئی ممالک میں فتوے جاری کئے گئے ہیں لیکن اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ غیر اسلامی ممالک میں ان کی کیا اہمیت ہے۔ فتوے ہمیشہ قرآن کریم اور احادیث رسولؐ کی روشنی میں دیئے جاتے ہیں اور ان پر عمل کرنا بھی لازمی ہوتا ہے لیکن ایسے فتوے جن کو غیر مسلم ریاستیں نظر انداز کر دیتی ہیں اور اپنے اپنے قوانین کے مطابق مسائل کا حل کرتی ہیں ان سے فتووں کی اہمیت زائل ہو جاتی ہے ایسے میں مصالحت اور اعتدال پسندی سے بہت سے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ اسلامی پیغام ہے جس کا ذکر مرحوم شاہ عبداللہ نے شوریٰ کونسل میں اپنے خطاب میں کیا تھا اور اسی پیغام کو خادمین حرمین شریفین شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان عام کر رہے ہیں۔

ہر معاملے میں فتوی صادر کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ فتوی اسلامی فقہ کا ایک ضابطہ ہے جو کہ قرآن کریم اور احادیث رسولؐ کی روشنی میں دیا جاتا ہے۔ قطر کی میزبانی میں 2022 میں دوحہ میں ہونے والے بین الاقوامی فٹ بال چیمیئن شپ مقابلوں کا اعلان کیا جا چکا ہے اور اس دور میں کھیل عالمی رشتوں کو استوار کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں جبکہ پوری دنیا دہشت گردی اور دہشت گردانہ حملوں سے پریشان ہے، قطر کے ایک مذہبی رہنما نے فٹ بال کے تعلق سے ایک فتوی جاری کر دیا ہے۔ ایک امریکی اخبار کے مطابق دوحہ کے ایک مذہبی رہنما یوسف القرضاوی کی جانب سے جاری کئے گئے فتوے سے فٹ بال ورلڈ کپ کا انعقاد متاثر ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے مغربی ممالک کو اسلام کے آفاقی ضابطوں پر نازیبا تبصرے کرنے کا ایک موقع مل سکتا ہے اور اس طرح کا موقع ہرگز نہیں دیا جانا چاہیے۔ کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کو قرآن کریم اور احادیث نبوی ؐ کی روشنی میں اجتہاد سے حل کیا جاتا ہے۔ اسی لئے مملکت کی شوریٰ کو نسل اجتہاد کو برقرار رکھنے کے لئے کام کر رہی ہے۔

شاہ عبد اللہ نے شوریٰ کونسل میں اپنے خطاب کے دوران جن ایشوز پر روشنی ڈالی تھی وہ موجودہ صورتحال کے ضمن میں آج بھی اہمیت کے حامل ہیں، اسی لئے اعلی تعلیم یافتہ علمائے دین اور اسلامی اسکالروں کی انجمن نہ صرف اسلامی ضابطوں کی ترسیل کر رہی ہے بلکہ اقوام عالم کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی ترغیب بھی دے رہی ہے۔

([email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close