اپنا دیشتازہ ترین خبریں

متنازعہ اراضی پر مسجد نہیں بنائی جاسکتی: پنرودھار سمیتی

سپریم کورٹ میں اجودھیا تنازعہ کی جمعرات کو پندرھویں دن بھی سماعت ہوئی، جس میں رام جنم بھومی پنرودھار سمیتی نے استدلال کیا کہ متنازعہ اراضی پر مسجد تعمیر نہیں کی جاسکتی۔

کمیٹی کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ پی این مشرا نے چیف جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبد النظیر کی آئینی بنچ کے روبرو استدلال کیا کہ اسلام میں مساجد کی تعمیر کا ایک قانون ہے اور ایک مسجد اسی جگہ پر بنانئی جاسکتی ہے جب اس کا مالک مسجد بنانے کی اجازت دے۔ وقف کو دی گئی زمین مالک کی ہونی چاہئے۔

انہوں نے دوپہر کے کھانے کے بعد جرح جاری رکھتے ہوئے کہاکہ اسلام کے مطابق دوسرے کی عبادت گاہ کو منہدم یا مسمار کرکے اس جگہ پر مسجد نہیں بنائی جاسکتی۔ ایسی زمین جس پر دو افراد کا قبضہ ہو اور ایک مسجد کی تعمیر کی مخالفت کرے، تو اس زمین پر مسجد نہیں بنائی سکتی۔ مسٹر مشرا کے دلائل پر سنی وقف بورڈ کے وکیل راجیو دھون نے اعتراض کیا اور کہاکہ اب تک 24 مرتبہ مسٹر مشرا سیاق و سباق سے باہر کی کہانیاں سنا چکے ہیں۔

اس پر مسٹر مشرا نے کہا ، ’’صرف عدالت ہی میری رہنمائی کر سکتی ہے، میرے ساتھی وکیل نہیں۔‘‘ جسٹس گگوئی نے مسٹر مشرا سے کہا کہ وہ اپنے حقائق پر قائم رہنے کے لئے آزاد ہیں۔ قبل ازیں، وقفہ طعام سے پہلے مسٹر مشرا نے دلیل دی تھی کہ متنازعہ زمین مسلم پارٹی کو نہیں دی جاسکتی، کیونکہ وہ یہ ثابت نہیں کرسکے کہ بابر نے ہی مسجد تعمیر کرائی تھی۔

مسٹر مشرا نے استدلال کیا کہ یہ بات تو واضح ہے کہ یہ مسجد مندر کے اوپری حصے پر بنی تھی، کیوں کہ اس جگہ سے مندر کی باقیات پائی گئی ہیں، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ اس مندر کو منہدم کرکے ایک مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ انہوں نے دلیل پیش کی کہ بابر نے مسجد تعمیر نہیں کی اور نہ ہی وہ متنازعہ اراضی کے مالک تھے۔ جب وہ زمین کا مالک نہیں تھے، تو سنی وقف بورڈ کا اس معاملے میں کوئی دعوی نہیں بنتا۔ مسلم فریق یہ ثابت نہیں کرسکے کہ بابر نے مسجد بنوائی تھی۔

مسٹر مشرا نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ بابر یا اورنگ زیب نے متنازعہ اراضی پر مندر کو توڑ کر مسجد بنائی۔ انہوں نے کہا، ’’بابر متنازعہ اراضی کا مالک نہیں تھے۔ ایسی صورتحال میں، میں یہ کہتا ہوں کہ جب کوئی ثبوت موجود نہیں ہے، تو مسلم پارٹی کو متنازعہ اراضی کا قبضہ یا حصہ نہیں دیا جاسکتا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close