تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

ماب لنچنگ کو روکنے کیلئے انسانیت کے پاسبان کمر بستہ

یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ نے جاری کیا متاثرین کیلئے ہیلپ لائن نمبر

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
ہجومی تشد، ماب لنچنگ کے واقعات کو روکنے اور ماب لنچنگ کے متاثرین کی موقع پر اور قانونی مدد کیلئے انسانیت کے پاسبان کمر بستہ ہو گئے ہیں۔ ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے سماجی تنظیم یونایٹیڈ اگینسٹ ہیٹ کے ساتھکا ندھا ملائے کھڑے ہوئے ملک کی مختلف سماجی تنظیموں اور امن کے پاسبانوں ماب لنچنگ کے واقعات سے نبٹنے اور ماب لنچنگ کے متاثرین کی مدد کیلئے ایک ہیلپ لائن نمبرجاری کیا ہے۔ دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقدہ کا نفرنس میں آج یہ ہیلپ لائن نمبر 1800313360000جاری کیا ہے۔ یہ ہیلپ لائن 24×7کام کرے گی۔ اس ہیلپ لائن نمبر کی لانچنگ کے موقع پر پروفیسر اپوروا نند، ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے، یونائٹیڈ کرسچن فورم کے سابق صدر فادر مائکل ولیم، ایڈوکیٹ احتشام،صحافی ارملیش، پروفیسر رتن لال، روی نائیر، ڈاکٹر کفیل خان، جمعۃ علماء کے سکریٹری مو لاناحکیم الدین، جماعت اسلامی کے سکریٹری ملک معتصم، مفتی عبدلرازق قاسمی جمعیۃ علماء ہند اور سماجی کارکن ندیم خان کے ہاتھو ں جاری کیاگیا۔ اس موقع پر پروفیسر غزالہ جمیل، عمر خالد، ایس آئی او کے اظہر الدین،حاجی خالد سیفی، ایڈوکیٹ انس تنویر، ایڈوکیٹ فضیل ایوبی ایڈوکیٹ سمیت مختلف سماجی تنظیموں کے کارکنان اور جے این یو، دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ بہت سے طلبہ لیڈران بھی موجود تھے۔

ندیم خان نے بتایا کہ اس ہیلپ لائن کا مقصد پورے ملک میں کہیں بھی ہونے والے ہجومی تشدد کے واقعہ کو پہلی نظر میں روکنے اور دوسرے قانونی مدد فراہم کرانا شامل ہے۔ ملک بھر میں مختلف جگہوں پر ہماری ٹیمیں موجود ہیں تاکہ ماب لنچنگ کے واقعات کو روکا جا سکے اور اگر واقعہ پیش آ گیا ہے تو اس متاثرین کی مدد کی جائے۔

پروفیسر اپوروا نند نے کہا کہ جس طرح کے واقعات رونما ہو رہے ہیں ان کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ نفرت کا ماحول مسلم دلت، عیسائی سبھی ایسے لوگوں کے خلاف قائم کیا جا رہا ہے جو آر ایس ایس کی فکر کے خلاف آواز بلند کر سکتے ہیں۔ اس سے قانونی طور پر لڑنے کی ضرورت ہے۔جس طرح کی ہیلپ لائن جاری کی گئی ہے۔ فادر مائکل کا کہنا تھا کہ اس وقت لوگوں کے درمیان ایسا خوف قائم کیا جا رہا تا کہ وہ اپنے آئینی حقوق کو لے کر بھی سوال نہ کر سکیں۔

پروفیسر رتن لال نے کہا کہ تشدد کا دائرہ بڑھ رہا ہے جو لوگ اس کے خلاف بھی بولے ہیں ان کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے اس کی مثال گوری لنکیش کی ہے۔ ڈاکٹر کفیل خان نے کہاکہ میں آر ایس ایس کی اس فکر کا مخالف ہوں جو انسان کو انسان سے لڑنا سکھاتی ہے۔ ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے نے کئی قانونی پہلوؤں کو بھی بیان کیا اور کہاکہ اب ضرورت ہے مل کر اس تشدد کی سوچ کا مقابلہ کریں۔ جمعۃ علماء ہندکے سکریٹری حکیم الدین نے پورے ملک میں ہجومی تشدد کے خلاف کی جانے والی قانونی و سماجی ہر طرح کی چارہ جوئی کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی۔

مفتی عبدالرازق نے کہاکہ آج جو ماحول بنایا گیا ہے اگر یہ حالات کنٹرول نہیں کئے گئے تو ملک تباہی کی طرف چلا جا ئیگا۔ وزیر اعظم کا صرف ایک ببیان دینا کافی نہیں ہے ان کو ماب لنچنگ پر کاروائی کرنی ہوگی، پولیس اور حکومت کو جوابدہ بنایا جائے۔ صحافی ارملیش نے کہا کہ ایسا کہیں نظر نہیں آتا کہ جہاں بھگوان کا نام اپنے طریقہ سے لینے کے لئے لوگوں پر تشدد ڈھایا جاتا ہویہ افسوس ناک بات ہے۔ اس طرح کی ہیلپ لائن سول سوسائٹی میں ایک پیغام دے گی جس سے لوگوں میں اعتماد پیدا ہوگا کہ اب ان کی حفاظت یقینی ہے۔ اس موقع پر ایڈوکیٹ روی نائیر،پور فیسر غزالہ جمیل، فضیل ایوبی، ملک معتصم، ایڈوکیٹ احتشام نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر عمر خالد، ایس آئی او کے اظہر الدین، حاجی خالد سیفی وغیرہ سمیت دیگر انسانیت کے پاسبان موجود تھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close