اپنا دیشتازہ ترین خبریں

لوک سبھا میں 58 پرانے قوانین منسوخ

لوک سبھا نے دور حاضر سے مطابقت نہ رکھنے والے برطانوی دور اقتدار کے 58 قوانین کو رد کیے جانے سے متعلق منسوخ اور ترمیمی بل 2019 کو اتفاق رائے سے پاس کر دیا۔

قانون اور انصاف کے وزیر روی شنکر پرساد نے ان قوانین کو ختم کرنے کے لیے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت 16 ویں لوک سبھا کے دوران چھ بلوں کے ذریعے 1428 قوانین پہلے ہی رد کر چکی ہے۔ یہ تمام قوانین انگریزوں کے دور اقتدار میں بنائے گئے تھے اور اب دور حاضر سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بلاوجہ عوام کے لیے پریشانی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

کانگریس کے رہنما ششی تھرور نے کہا کہ ان کی پارٹی بل کے ہدف اور مقاصد سے متفق ہے لیکن حکومت کے کام کرنے کے طریقے پر اسے اعتراض ہے۔ اس بل کے بار ے میں کم از کم تین دن پہلے نوٹس ملنا چاہیے تھا جو نہیں ملا۔ بل میں کئی ایسے قوانین کو ختم کیا جا رہا ہے جنھیں حکومت نے 2014 کے بعد بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعذیرات ہند (آئی پی سی) کو انگریزوں نے 1835 میں بنایا تھا جنھیں آج تک نہیں بدلا گیا ہے۔ آئی پی سی میں خواتین اور دلتوں سے متعلق کئی ایسے قوانین ہیں جنھیں بدلنے کی ضرورت ہے۔ آئی پی سی میں خواتین کے خلاف تفریق کو ختم کیا جانا چاہیے۔ دفعہ 124 (غداریٔ وطن کے قانون) کو انگریزوں نے مجاہدین آزادی کو دبانے اور کچلنے کے لیے بنایا تھا۔ اس قانون کا استعمال انگریزوں نے بھگت سنگھ اور راج گرو جیسے مجاہدین آزادی کے خلاف کیا تھا جس کا استعمال حکومت اب جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طلبہ کے خلاف کر رہی ہے۔ غداریٔ وطن قانون کا استعمال غلط طریقے سے کیا جا رہا ہے۔

مسٹر پرساد نے مسٹر تھرور کے غداریٔ وطن قانون پر سوال اٹھانے پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک کے خلاف آواز بلند کرنے والوں سے سختی سے نمٹے گی۔ حکومت ’دیش کے ہوں گے ٹکڑے ٹکڑے‘ جیسے نعرے لگانے والوں کو کسی بھی حال میں نہیں بخشے گی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close