تازہ ترین خبریںدلی نامہ

لوک سبھا انتخابات میں دہلی سے ایک مسلم امیدوار بنائے جانے کا مطالبہ

4سابق مسلم ارکان اسمبلی کا راہل گاندھی کو مکتوب، چاندنی چوک یا شمال مشرقی دہلی سے دیا جائے ٹکٹ

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
2019 کے پارلیمانی انتخابات میں جہاں کانگریس ابھی راجدھانی دہلی میں عام آدمی پارٹی کے ساتھ اتحاد کے معاملے میں پش وپیش میں مبتلہ ہے، وہیں دہلی میں ایک مسلم پارلیمانی امیدوار بنائے جانے کا بھی مطالبہ کانگریس کے سامنے نیا مسئلہ بن کر آ گیا ہے۔ ابھی تک کانگریس اسی کشمکش میں تھی کہ اگر ’آپ‘ سے اتحاد کیا جاتا ہے تو کس کا ٹکٹ کاٹا جائے اور کس کو دیا جائے گا؟ لیکن اب ایک نیا مسئلہ جس کو جائز مطالبہ کہا جا سکتا ہے کانگریس کے سامنے منہ بائے کھڑا ہو گیا ہے۔

دہلی کے چار سابق مسلم ممبران اسمبلی نے کانگریس صدر راہل گاندھی کو خط لکھ کر ان سے دہلی کی 7 لوک سبھا سیٹوں میں سے چاندنی چوک لوک سبھا علاقے اور شمال مشرقی لوک سبھا حلقہ سے کسی ایک سیٹ سے سابق وزیر ہارون یوسف، شعیب اقبال، چودھری متین احمد، حسن احمد اور آصف محمد خان میں سے کسی ایک کو ٹکٹ دے کر انتخابات لڑانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مٹیا محل اسمبلی حلقہ سے پانچ بار رکن اسمبلی رہے شعیب اقبال کے لیٹر ہیڈپر ان کے دستخط کے ساتھ تین دیگر سابق ارکان اسمبلی چودھری متین احمد، حسن احمد اور آصف محمد خان نے اپنے دستخط کئے ہیں جو راہل گاندھی کو بھیجا گیا ہے۔ راہل گاندھی کو مکتوب ارسال کرنے کی اطلاع خود ان چاروں سابق ممبران اسمبلی نے پریس کانفرنس کرکے اس کی اطلاع دی ہے۔ پریس کانفرنس میں کانگریس کے ایگزیکٹو چیئرمین ہارون یوسف کو بھی حصہ لینا تھا، لیکن وہ کسی وجہ سے حصہ نہیں لے سکے اور نہ ہی انہوں نے شعیب اقبال کے لیٹر ہیڈ پر کانگریس صدر راہل گاندھی کے نام جاری خط پر بھی اپنے دستخط کئے ہیں۔


شعیب اقبال کے لیٹر ہیڈ پر راہل گاندھی کو لکھا گیا ہے کہ ’ہم آپ کی توجہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات کی اس جانب مبذول کرانا چا ہتے ہیں۔ جس میں کسی بھی مسلم کو دہلی سے ٹکٹ نہیں دیا گیا ہے جبکہ یہاں 5 ایسے سینئر لیڈران ہیں جو 5مرتبہ اسمبلی الیکشن جیت کر ایم ایل اے بنے ہیں اور وہ لوگ مسلم سمیت دیگر کمیونٹی میں بھی بیحد مقبول ہیں۔ ہم سب لوگ ہمیشہ کانگریس کی آئڈیو لوجی اور اس کی پالیسیوں کے حامی رہے ہیں۔ اس لئے ان پانچوں سینئر لیڈر شیعیب اقبال، ہارون یوسف، حسن احمد، چودھری متین احمد اور آصف محمد خان، پانچوں مسلم سابق ممبران اسمبلی ہیں، جو اپنے اپنے اسمبلی حلقوں کی متحرک سیاست میں سرگرم ہیں اور مسلم طبقے کے مسائل سے واقف ہیں۔ ان کے ساتھ بڑی تعداد میں مسلم ووٹرس ہیں اور ان کا الیکشن جیتنے کا ریکارڈ ہے۔ اس لئے ان مذکورہ لیڈران میں سے کسی ایک کو بھی چاندنی چوک پارلیمانی حلقہ یا شمال مشرقی دہلی پارلیمانی حلقہ سے ٹکٹ دیا جائے۔ کیوں کہ کسی بھی مسلم لیڈر کو دہلی میں ٹکٹ نہیں دیا گیا ہے۔ خط میں راہل گاندھی سے امید ظاہر کی گئی کہ’ ہمیں امید قوی ہے کہ آپ اس معاملے پر عمیق غور وخوص کرتے ہوئے مزکورہ پانچوں سینئر مسلم لیڈران میں سے کسی ایک کو ٹکٹ دینے کی مہربانی کریں گے‘۔

چاروں ممبران اسمبلی کے مطابق انہوں نے اپنے خط میں راہل گاندھی سے کہا ہے کہ دہلی میں بڑی تعداد میں مسلمان رہتے ہیں اور ہمیشہ سے مسلمان کانگریس پارٹی کے ساتھ ہی رہے ہیں۔ دہلی کی عام آدمی پارٹی کے دور حکومت کے ذریعہ اور عام آدمی پارٹی کی طرف سے مسلمانوں کو نظر انداز کئے جانے سے ایک بار پھر مسلمان کانگریس پارٹی کی طرف واپس آ رہے ہیں۔ ایسے میں کانگریس پارٹی کو مسلمانوں کو اپنی طرف لانے کےلئے کسی مسلم کانگریسی لیڈر کو لوک سبھا کا امیدوار بنائے جانے کی انتہائی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلمانوں کو عام آدمی پارٹی سے دور کرنا ہے تو کانگریس پارٹی کو مسلمانوں کو خوش کرنے کےلئے کچھ بڑا قدم اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی کی طرف سے کسی مسلمان کو لوک سبھا کا امیدوار بنایا جاتا ہے تو اس سے پورے دہلی کے مسلمانوں میں ایک اچھا پیغام جائے گا اور اس کا ملک بھر کے لوک سبھا انتخابات پر بہت ہی اچھا اثر پڑے گا۔

قابل ذکر ہے کہ دہلی میں بڑی تعداد میں مسلمان آباد ہیں۔ مردم شماری کے مطابق دہلی میں 18 فیصد مسلمان رہتے ہیں۔ لوک سبھا کی 7سیٹوں میں سے چاندنی چوک اور شمال مشرقی لوک سبھا حلقہ میں مسلمانوں کی آبادی کافی بڑی تعداد میں موجود ہے۔ مسلمانوں کی آبادی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیشہ سے کانگریس میں موجود مسلم رہنماؤں کی جانب سے کسی مسلم لیڈر کو لوک سبھا انتخابات لڑانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ حال ہی میں کانگریس کی ریاستی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت نے کانگریس کے ایگزیکٹو چیئرمین ہارون یوسف کو لوک سبھا انتخابات لڑانے کی بات کہی تھی۔ لیکن ادھر کانگریس پارٹی کے ذریعہ جن کو ٹکٹ دینے کے نام ظاہر ہو رہے ہیں ان میں کہیں بھی کسی مسلمان لیڈر کا نام شامل نہیں ہے۔ چار امیدواروں کے نام ظاہر ہو نے اور دیگر تین امیدواروں کے ناموں پر غور کئے جانے کے درمیان آج کانگریس کے قد آور مسلم لیڈر، 4سابق ممبران اسمبلی نے کانگریس صدر راہل گاندھی کو خط لکھ کر ان سے ایک بار پھر کسی مسلمان کو چاندنی چوک یاشمال مشرقی لوک سبھا حلقہ سے ٹکٹ دیئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close