تازہ ترین خبریںدلی نامہ

لال کنواں پر ہندتو وا نماد پھیلانے اور مسلمانوں کو دہشت زدہ کرنے والی تھی شوبھا یاترا: راکیش کمار

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
لال کنواں پر مورتی پران پرتشٹھا یاترا کے سلسلے میں دہلی گیٹ وارڈ سے عام آدمی پارٹی کے کونسلر راکیش کمار نے کہاکہ ہمیں یہ یاترا مورتی پران پرتشٹھا شوبھا یاترا نہیں بلکہ ’ہندو توو کا انماد پھیلانے اور مسلم سماج کو دہشت زدہ کر نے والی یاترا‘ نظر ا ٓرہی تھی۔ کیوں کہ جس طرح نہ جانے کہاں کہاں سے وشو ہندو پریشد اور دیگر بھگوا تنظیموں کے لوگ جمع ہوئے اور ایک فرقہ کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بازی کر رہے تھے وہ صرف ہندوتو کا انماد پھیلانے کی اور مسلمانوں کو دہشت زدہ کرنے کی ہی کوشش تھی۔

را کیش کمار نے کہا کہ بی جے پی کے جتنے بھی لیڈران وہاں آئے کسی نے وہاں امن کی بات نہیں کی۔ بلکہ وہاں صرف شری رام کے نعرے لگتے رہے۔ راکیش کمار نے کہاکہ حالانکہ ہم خود حوض قاضی، سرکی والان میں دہلی اسٹیل ٹولس اینڈ ہارڈ ویر ٹریڈرس مارکیٹ ایسو سی ایشن کے اسٹیج سے اس یاترا کا استقبال کر ہے تھے، جہاں ہم نے کہا بھی کہ یہ صرف شوبھا یاترا نہیں گنگا جمنی تہذیب کو قائم رکھنے اور امن بنائے رکھنے کی بھی یاترا ہے۔لیکن یہ قابل تشویش تھا کہ کسی بھی بی جے پی کے لیڈر نے امن اور بھائی چارے کی بات نہیں کی۔جو ان کی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔

را کیش کمار نے دہلی کے پولیس کے کردار اور مسلمانوں کے بھائی چارے کی جم کر تعریف کی۔ انہوں نے کہاکہ قابل مبارک باد ہے دہلی پولیس کہ جس کی فرض شناسی، مستعدی اور سوجھ بوجھ سے ہی یہ پرو گرام کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے بغیر مکمل ہوا۔ ورنہ یاترا میں شر پسند وں کی جانب سے تو بھڑکانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہاکہ مسلم سماج کے لوگوں نے بھی گنگا جمنی تہذیب کی مثال پیش کرتے ہوئے فرقہ پرستی کے منہ پر تمانچہ مارا ہے۔ جس طرح یاترا کے عقیدت مندوں کیلئے مسلمانوں نے سبیلیں لگائیں اور بھنڈارے کا اہتمام کیا وہ قابل تعریف ہے اور فرقہ پرستوں کو دکھا دیا ہے پرا نی دہلی کے لوگ امن اور بھائی چارہ پسند لوگ ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close