تازہ ترین خبریںدلی نامہ

لال کنواں معاملہ: امن قائم کرنے کے لئے دہلی پولیس کا استقبالیہ

امن کا ماحول بنانے میں پولیس کے ساتھ عوام نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے: ڈی سی پی

نئی دہلی (انور حسین جعفری)

پرانی دہلی کے لال کنواں علاقہ میں فرقہ وارانہ ماحول ختم کرنے اور دہلی کی گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھتے ہوئے امن کا ماحول قائم کرنے میں دہلی پولیس کے اہم اور قابل ستائش کر دارادا کرنے پر ’شہری شیتر سمسّیا سمادھان سمیتی‘ کی جانب سے سیتارام بازار پنچایتی دھرم شالہ میں دہلی پولیس کے افسران کے اعزاز میں استقبال تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں وسطی ضلع کے ڈی سی پی مندیپ سنگھ، اے سی پیامت کو شک اور حوض قاضی تھانہ کے ایس ایچ اوسنیل کمار کوتقریب کی صدارت کر رہے سابق میونسپل کونسلر اشوک جین اور تنظیم کے صدر دیش راج شرما سمیت تنظیم کے دیگر عہدیداران نے شال اور پھولوں کے ہار پہناکر والہانہ استقبال کیا گیا۔

اس موقع پر ڈی سی پی مندیپ سنگھ رندھاوا نے تمام لوگوں کو شکریہ ادا کیاکہ دہلی پولیس کی فرض شناسی کیلئے ان کی ستائش اور عزت افزائی کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ لال کنواں علاقہ میں جو ماحول بنا اس میں والڈ سٹی کے لوگوں نے اپنے بھائی چارے سے یہ ثابت کر دیا کہ دنیا میں کچھ بھی ہوتا رہے یہاں کے بھائی چارے اور یکجہتی کو جو یہاں کی گنگا جمنی تہذیب سے اس پر اس ماحول کا کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں کہاکہ پرانی دہلی ملک بھر میں بھائی چارے کی مثال بنی ہے، لال کنواں حوض قاضی کی دنیا میں 8 سے 10 گھنٹے جو ٹاپ نیوز رہی ہے لیکن آپ لوگوں نے آپسی بھائی چارے کی مثال پیش کرتے ہوئے بتا دیا کہ ہم بھائی بھائی ہیں۔ امن کا ماحول بنانے میں پولیس کے ساتھ عوام نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جتنا جلدی پرانی دہلی کے حالات معمول پر آئے وہ اپنے آپ میں اپنی ایک مثال ہے، لوگوں نے پیار محبت سے بیٹھ کر صلح کی اور ماحول کو فرقہ وارانہ ہو نے سے بچایا یہ بھی ایک مثال ہے۔ اس کیلئے سبھی لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں۔

انہوں نے کہاکہ والڈ سٹی دنیا میں پہچانی جاتی ہے کہ یہاں مختلف مذاہب کے لوگ امن و امان سے رہتے ہیں۔ دہلی پولیس میں پرانی دہلی کی مثال دی جاتی ہے کہ یہاں بھائی چارے کو کوئی نقصان نہیں، یہاں سب ایک دوسرے کو بہتر پہچانتے ہیں، سماجی اور مذہبی کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ ڈی سی پی نے کہاکہ یہ قابل مذمت اور افسوسناک تھا کہ ایک معمولی جھگڑے نے یہ صورت اختیار کی، لیکن ہم نے یہاں آنے والوں کو آنے دیا کہ کہیں یہ پیغام نہ جائے کہ نہ نجانے وہاں کیا ہو رہا ہے وہاں جانے نہیں دیا جا رہا۔ اس حکمت عملی سے بھی حالات جلدی معمول پر آئے۔ یہ پرانی دہلی کے لوگوں کے بھائی چارے کا ایک ٹیسٹ بھی کہا جا سکتا ہے جس میں یہاں کے لوگوں نے اہم کردار ادا کرتے ہوئے بھائی چارے کو قائم کرنے کی مثال پیش کی۔ اس کیلئے سبھی لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اس موقع پر تقریب کے صدر اشوک جین، اسٹیل چیمبر کے صدر راجندر گپتام، دیش راج شرما، ایم نفیس، نانک چند ملاح، عباد الحق بادو بھائی، ابرار احمد وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دہلی پولیس کا امن برقرا رکھنے پر شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر پون چند بھگت، چودھری کالی چرن، سنجے کھنڈیلوال، انوج کمار، سریش جندل، کرن کمار، دنیش سکسینا، راکیش ڈابلہ وجیندر دھانک، افسر خان، پپو بھائی، اکببر علی، گلزار خان، شیر سنگھ، راج کنوجیا، ڈاکٹر آر بی سنگھ، عبدالحمید، انکت بھگت ارشد سہیل وغیرہ سمیت تنظیم کے ذمہ داران اور دیگر معزز افراد موجود تھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close