تازہ ترین خبریںدلی نامہ

لال کنواں علاقہ میں زندگی معمول پر لیکن کشیدگی برقرار

مندر توڑ پھڑو معاملے میں کئی نابالغوں سمیت 17 افراد حراست میں.......9جو لائی کو مورتی نسب کرنے کی شوبھا یاترا نکالنے کا اعلان سے بدلہ ماحول، جگہ جگہ لگائے جا رہے ہیں پوسٹر، بھگوا تنظیموں کی مداخلت سے عوام میں فکر کا ماحول

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
پرانی دہلی کے حوض قاضی تھانہ کے لال کنواں علاقہ میں کئی دنوں تک فرقہ وارانہ ماحول رہنے کے بعد دونوں فرقوں میں صلح سے یہاں کی زندگی تو معمول پر آ رہی ہے لیکن کشیدگی ختم نہیں ہوئی ہے۔ گزشتہ اتوار کی رات اسکوٹی کھڑے کر نے کے جھگڑے نے فرقہ وارانہ رنگ لے لیا تھا، جہاں کچھ شرارتی لوگوں نے لال کنواں پر واقع درگا مندر کو نقصان پہنچایا تھا۔ جس کے بعد یہاں فرقہ وارانہ ماحول بن گیا تھا اور کشیدگی پھیل گئی تھی۔ اس معاملے میں پولیس ویڈیو فوٹیج سے گرفتاریاں کر رہی ہے جس میں کئی نا بالغوں سمیت17 افراد پولیس کی گرفت میں ہیں، جبکہ ہفتہ کی رات میں پولیس نے 4 نابالغوں سمیت ایک نوجوان کو پکڑا ہے۔

وہیں ایک خاص طبقہ کی جانب سے درگا مندر لال کنواں میں ’مو رتی نسب‘ کرنے کیلئے شوبھا یاترا نکالے جانے اور اس کیلئے وی ایچ پی اور دیگر بھگوا تنظیموں کی جانب سے شوبھایاترا میں شامل ہونے کی اپیل کئے جانے کے اعلان نے علاقہ میں پھر سے کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ یہ شوبھا یاترا قاضی حوض چوک، لال کنواں، نیا بانس، کھاری باؤلی، فتح پوری مسجد، کٹڑا بڑیان ہو تے ہوئے واپس لال کنواں درگا مندر ا ٓئے گی جہاں ہندو فرقہ کے مذہبی طریقہ کار سے مورتیاں نسب کی جائیں گی۔ 9جو لائی مو رتیاں نسب کر نے کیلئے نکالے جانے والی یہ شوبھا یاترا کی تاریخ بدل کر آج اتوار کے روز کر دی گئی تھی، لیکن پھر اس کو تبدیل کیا گیا اور واپس 9جولائی کیا گیا ہے، یوں تو مندر انتظامیہ کی جانب سے بھی مورتی نسب کرنے اور یاترا کیلئے پوسٹر شہر کی دیواروں پر چسپاں کئے گئے ہیں، لیکن بھگوا تنظیموں کی جانب سے اس یاترا میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ جس سے ماحول ایک دم سے بدلنا شروع ہو گیا ہے اور لوگ شہر کے پر امن ماحول کو لیکر فکر مند ہو گئے ہیں۔ حالانکہ پو لیس افسران کا کہنا ہے کہ اگر سب کچھ اور ماحول ٹھیک رہا تو ہی شوبھایاترا کی اجازت دی جائے گی۔ پولیس افسران مسلسل دونوں کمیونٹیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ویڈیوں فوٹیج کی بنیاد پر گرفتاریاں بھی کی جارہی ہیں۔

بتا دیں کہ دونوں فرقہ کے رہنماؤں کے ایک ساتھ بیٹھ کر مسئلے کو حل کرنے اور فرقہ وارانہ ماحول کا خاتمہ کئے جانے بعد پرانی دہلی لال کنواں کی معمول پر آگئی تھی اور کاروبار بھی شروع ہو گیا تھا لیکن مورتی استھاپنا کیلئے نکالی جا رہی شوبھا یاترا میں بھگوا تنظیموں کی مداخلت سے ماحول میں کشیدگی آ گئی ہے لوگ فکر مند ہیں کہ کہیں علاقہ کا پر امن ماحول خراب نہ ہو جائے۔ جس نے لوگوں کو شک و شبہ میں ڈال دیا ہے اور علاقہ میں کانا پھوسیاں شروع ہو گئی ہیں۔

ادھردہلی کے ہی شاستری پارک علاقہ میں پولیس نے دو نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ جھاڑ کھنڈ میں ماب لنچنگ کا شکار ہوئے تبریز کا بدلہ لینے کی اپیل اور ریلی نکالے جانے کے پرچے تقسیم کر رہے تھے۔ پولیس کو جیسے ہی اطلاع ملی پولیس نے ان دونوں کو حراست میں لے لیا اور ان سے تفتیش شروع کر دی ہے۔ اطلاع کے مطابق حراست میں لئے گئے دونوں نو جوانوں سے پو لیس اسٹیشن میں دیر رات تک تفتیش کی جا رہی تھی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close