تازہ ترین خبریںدلی نامہ

قومی یکجہتی کی علامت بن چکا ہے شاہین باغ-جامعہ ملیہ

مظاہرین سے پولیس کی گفتگو مسلسل ہو رہی ناکام، کالا قانون ختم نہ ہونے تک ہٹنے کو تیار نہیں خواتین

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
شہریت ترمیمی قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف دہلی کے شاہین باغ اور جامعہ ملیہ پر گزشتہ 36 دن سے دن رات احتجاجی مظاہرہ و دھرنا جاری ہے۔ بارش اور سردی کی پرواہ کئے بغیر ہر عمر کی اور ہر مذہب کی خواتین یہاں دھرنے پر بیٹھی ہیں۔ سب کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح تقسیم کرنے والا یہ کالا قانون ختم ہو۔

36 روز سے شاہین باغ، سریتا وہار کالندی کنج کا یہ ڈی این ڈی کا روڈ بند ہونے سے ٹریفک بند ہے، پولیس کی کوشش ہے کہ دھرنا ختم کراکے یا یہاں سے منتقل کرکے اس روڈ کو کھلوایا جائے۔ اس کیلئے پولیس نے مظاہرین اور آر ڈبلیو ایز سے کئی مرتبہ بات کرکے دھرنا منتقل کرنے اور راستہ کھلوانے کی کوشش کی، لیکن ان کے مابین گفتگو کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکی۔ گزشتہ روز بھی پولیس نے مظاہرین خواتین کو یہ جگہ خالی کرکے دوسری جگہ احتجاج کرنے کی اپیل اور پورا تحفظ دینے کا یقین دلایا تھا، لیکن خاتون مظاہرین اس جگہ سے اٹھنے کو تیار نہیں ہیں۔ بارش اور سردی کی پرواہ کئے بغیر یہاں 36 روز سے رات و دن جمی ہوئی ان خواتین کا واضح کہنا ہے کہ ہم اسی وقت یہاں سے اٹھیں گے جب حکومت اس کالے قانون کو واپس لے گی۔

اس احتجاجی مظاہرہ میں بلا تفریق مختلف مذہاب کے لوگ شامل ہیں، یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ سی اے اے، این آر سی کے خلاف بین المذاہب احتجاج جاری ہے۔ یہاں ہندووں کر رہے ہیں اور گیتا و رامائن کا پاٹھ کر رہے ہیں۔ عیسائی بائبل کا اور سکھ گرو گرنتھ صاحب پڑھ رہے ہیں تو مسلمان قرآن مجید کی آیت کریمہ کا ورد کر رہے ہیں۔ ملک بھر سے جتھے کے جتھے ان خواتین کی حمایت میں آرہے ہیں وہیں سیاسی سماجی افراد سمیت سلیبریٹیز اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد شرکت کر رہے ہیں۔ جامعہ سے شاہین باغ کی خاتون مظاہرین کی حمایت میں جلوس کی شکل میں طلبا او مقامی افراد آتے ہیں۔ شاہین باغ میں جہاں آرٹس کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں نے انڈیا گیٹ کا ماڈل اور دیگر تصاویر اور پلے کارڈ تیار کئے ہیں وہیں لوہے سے بنا ہندوستان کا نقشہ بھی تیار کیا گیا ہے، جس کے چارو طرف لوگ کھڑے ہو کر ہندوستان کا نقشہ بناتے ہیں۔

وہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ پر بھی ’وی آر پیوپل‘ کے عنوان سے دھرنا جاری ہے، جس میں مختلف شعبوں سے وابستہ افراد شامل ہو رہے ہیں۔ کانگریس اور مختلف پارٹیوں کے کے سینئر لیڈران، وکلاء، سماجی کارکنان، رائٹرس، دانشوران اور شاعروں سمیت فلم اداکار اور مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا و طلبات یہاں اس کالے قانون کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا مقصد حکومت کو متبنہ کرنا ہے کہ وہ اپنا سی اے اے قانون واپس لے اور این آر سی، این آر پی کو ختم کرے۔ طلبا و طا لبات نے کہاکہ حکومت کو ہم یہ پیغام دینا چا ہتے ہیں ہے کہ ملک کے نوجوان اور عوام بیدار ہیں وہ کسی کالے قانون کو جو ملک کے آئین کے خلاف ہوگا اس کو برداشت نہیں کریں گے۔

حاجی محمد زاہد نے کہاکہ ہمارا مقصد آئین کا تحفظ ہے، آئین محفوط ہوگا تو یہ ملک اور ہم محفوظ ہو گا۔ لیکن آج تو آئین کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جسے ہم برداشت نہیں کریں گے۔ آئین کی روح پر ہوئے حملے کو برداشت نہیں کریں گے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close