آپ کی آواز

قومی سیاست کا مرکز آج کا کسان

نظریہ ..............چرن سنگھ راجپوت

کہا جاتا ہے کہ جب تک اپنا وجود ثابت نہیں کروگے تب تک آپ کو کوئی توجہ دینے والا نہیں ہے۔ آج کا دور خود آگے بڑھ کر ثابت کرنے والے کو ہی ترجیح دیتا ہے۔ ایسا ہی وجود اس بار کسانوں نے ثابت کر دیا۔ کسان مہا سنگھ کے بینر تلے 43کسان تنظیمیں نئی دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا دیتی رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی خدمت گار یوگیندر یادو نے بھی سوراج ابھیان کے تحت کسانوں کے حق کی آواز بلند کی اور حکومت کو کسانوں کے تعلق سے آئینہ دکھایا۔

راکیش ٹکیت کی بھارتیہ کسان یونین، بھانو کسان یونین اور ہریانہ کسان یونین نے وقتاً فوقتاً دھرنے اور مظاہرے بھی کئے ہیں۔ پارلیمنٹ کا گھیرائو بھی ہوا ہے۔ کتنے کسان مزدور روز اپنا رونا روتے رہے۔ قرضوں کے بوجھ تلے دب کر ہر روز کسان خود کشی کرتے رہے لیکن مودی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ اپوزیشن میں بیٹھی سیاسی جماعتوں نے بھی کسانوں کے آندولن کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ایک طرح سے حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں نے کسانوں کو حاشیے پر رکھا۔ لیکن اب ماحول بدل رہا ہے۔ کسانوں کی اہمیت سیاسی جماعتوں کے سمجھ میں آنے لگی ہے۔ راجستھان، مدھیہ پردیش، تلنگانہ، چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات میں جب کسانوں نے اپنے ووٹو ں کی طاقت دکھائی تو نہ صرف مودی حکومت ہل گئی بلکہ شمالی ہند کے انتہائی اہم صوبوں کو جیتنے والی کانگریس نے کسانوں کے وجود کو سمجھ لیا۔ ان کی اہمیت کے پیش نظر تینوں ریاستوں کی کانگریسی سرکار نے حکومت سازی کے فوراً بعد کسانوں کا دو لاکھ تک کا قرضہ معاف کر دیا۔

بہر حال، یہ پہلا موقع ہے جب انتخابی وعدوں کو فوری طور پر پورا کیا گیا ہے۔ اس سے کانگریس کی معتبریت میں اضافہ ہوا ہے۔ کسانوں کو ہمیشہ نظر انداز کرنے والی مودی حکومت اب یو ٹرن لے رہی ہے۔ لوک سبھا انتخاب میں ماحول بنانے کے لئے مودی حکومت سبھی کسانوں کا قرض معاف کرنے کی حکمت عملی بنا رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو کسان سیاسی جماعتوں کے ایجنڈوں سے دور ہوتے جا رہے تھے اب وہ مین اسٹریم میں آ گئے۔ مودی حکومت سے قومی سطح پر قرض معاف کرا کر بی جے پی کے کسانوں کی ہمدردی لینے کے خدشہ کے تحت اب تو خود کانگریس کے صدر راہل گاندھی کہنے لگے ہیں کہ وہ مودی کو چین سے سونے نہیں دیں گے۔ کسانوں کا قرض معاف کرائے بغیر وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ جگ ظاہر ہے کہ پٹیل کے نام پر 37سو کروڑ روپے مورتی بنانے پر خرچ تو ہو گئے لیکن کسانوں کی فلاح کی بات کرنے والی مودی سرکار نے اپنے ساڑھے چار سال کے دور اقتدار میں کسانوں کے ایک پیسے کا قرض معاف نہیں کیا۔ یہاں تک کہ اتر پردیش میں کسانوں کا قرض معاف کرنے کے لئے جب یوگی حکومت نے مرکز سے اقتصادی مدد مانگی تو مرکزی وزیر خزانہ نے اس مدد سے انکار کر دیا۔ اب جب کہ ملک کی بڑی جماعتیں بی جے پی اور کانگریس کسانوں کو لے کر سنجیدہ ہو چکی ہیں تو پھر 2019 میں ہونے والے لوک سبھا الیکشن میں کسانوں کے ایشوز اور کسان بھرپور اہمیت کے حامل ہوں گے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سبھی جماعتوں نے سمجھ لیا ہے کہ چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان کے اسمبلی انتخابات میں ریاستوں میں بر سرا قتدار بی جے پی کی ہار کی سب سے بڑی وجہ کسانوں کا سرکار کے تئیں غم و غصہ ہے۔

یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ جو کسان ملک کی سیاست میں حاشیے پر دھکیلے جا رہے تھے، اب ان کی جد و جہد نے انہیں مرکزیت دے دی ہے۔ وہ قومی سیاست کی طاقت کا حصہ بن گئے ہیں مسلسل نظر انداز کئے جانے والے کسان اب ایسی سیاسی طاقت بن گئے ہیں جسے نظر اندزا نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ سیاسی جماعتیں ان انتخابات میں کسانوں کے طبقات کے آگے جھکی ہیں۔ کسان تو طویل عرصہ سے ان جماعتوں کو اپنے وجود کا احسا س کرا رہے تھے، مگر سیاسی جماعتوں پر بے حسی طاری تھی آندولن کر رہے تھے۔ دھرنے مظاہرے ہو رہے تھے حتی کہ دہلی کی سڑکوں پر کسانوں نے نیم برہنہ جلوس بھی نکالے۔ لیکن ان سیاسی جماعتوں کو احساس حالیہ تین ریاستوں کے الیکشن کے بعد ہوا ہے۔ کسانوں نے مہاراشٹر میں کانگریس کو تو اترپردیش میں سماج وادی پارٹی کو سبق سکھایا۔ بی جے پی کی سرکار بنوائی۔ 2004 میں آندھرا پردیش میں چندر بابو نائیڈو اور کرناٹک کو ایم کرشنا کی سرکار کو بھی کسانوں نے جھٹکا دیا۔ حالانکہ ملک کے کسانوں کے متحد نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی جماعتیں ان کو توجہ نہیں دے رہی تھیں۔ کسانوں کا انتخاب میں ذات اور دھرم کے نام پر تقسیم ہو جانا بھی ان کو نظر اندزا کئے جانے کا سبب بنا۔ لیکن اب کسان متحد بھی ہیں، متحرک بھی ہیں اور انہوں نے تین ریاستوں میں اپنی طاقت اور اتحاد کا ایسا کھیل دکھایا ہے جو سیاسی جماعتوں کے لئے ایک وارننگ بھی ہے کہ اگر ہمیں ٹھکرائو گے تو نقصان ہو گا۔ کسانوں نے سیاسی جماعتوں کو بخوبی سمجھا دیا ہے کہ اب وعدے نہیں عمل چاہیے۔

ویسے بھی کسانوں کا وجود گجرات اسمبلی انتخابات کے دوران ہی نظرا ٓنے لگاتھا، کسانوں کا علاقہ مانے جانے والے دیہی خطہ سوراشٹر میں بر سرا قتدار جماعت بری طرح سے ہار گئی تھی۔ یہ ملک کے مفاد میں ایک بڑی تبدیلی کا منظر ہے جو قومی سیاست میں ابھر رہا ہے۔ ایک طویل عرصہ کے بعد ملک میں بڑی سطح پر کسان متحد ہو ئے ہیں، انہوں نے اپنی موجودگی درج کرائی ہے، ان سے متعلق ایشوز اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ ہمارے زراعت پر مبنی ہندوستان کے لئے ضروری بھی ہے۔ سیاسی جماعتیں اب تک کسانوں کو ووٹ بینک اور لینڈ بینک ہی سمجھ رہی تھیں لیکن کسانوں نے اس الیکشن میں کنگ میکر کا رول ادا کیا ہے۔

(Writer: Charan Singh Rajput………………………..E-mail: [email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close