تازہ ترین خبریںدلی نامہ

قول کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کا سب کو احترام کرنا چاہئے

آل انڈیا ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے قومی نائب صدر حاجی محمد مقیم احمد قریشی کا اظہارخیال

نئی دہلی(انور حسین جعفری)
عرصہ دراز سے تنازعہ کا شکار بابری مسجد ملکیت پر ملک کی عدالت عظمیٰ نے اپنا تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے۔ بابری مسجد کے حق ملکیت کے فیصلے کو ملک کے مسلمانوں کیلئے قابل احترام بتاتے ہوئے آل انڈیا ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے قومی نائب صدر حاجی محمد مقیم احمد قریشی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ہندوستان کا تاریخی فیصلہ بتایا۔

آج یہاں پرانی دہلی میں جامع مسجد علاقہ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں حاجی مقیم قریشی نے کہاکہ سپریم کورٹ میں کیس آ نے کے بعد سے ہی کہا جا رہا تھا کہ فیصلہ جو بھی آئے گا سب کو منظور ہو گا۔ لیکن اب فیصلہ آ نے پر ریویو پٹیشن کی بات کر نا اس وعدے کی بھی خلاف ورزی ہے جو مسلمان کہتے ا ٓرہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے مسلمان اب مندر مسجد کی سیاسست سے نکل کر ترقی کی جانب چلنا چا ہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تمام فریقین اور برادریوں کو متفقہ طور پر اس فیصلہ کو تسلیم کر نا چاہئے۔ انہوں نے واضح کہاکہ عدالت کے فیصلے کو ہندو، مسلم کی شکل میں نہیں دیکھا جا نا چاہئے،کیو نکہ آج ملک کو ایک اچھے انسانوں کی ضرورت ہے،تاکہ ہم ترقی کی راہ پر آگے بڑھ سکیں اور یہ آپسی بھائی چارہ سے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے صحافیوں سے بات کر تے ہوئے کہاکہ اجو دھیا معاملے پر سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ سبھی کو تسلیم کر نا چاہئے،ہم سب کو اس کا احترام کر نا چاہئے اور مختلف فرقوں کے درمیان بھائی چارہ کو مضبوط کر نے کی اجتماعی کوشش کر نی چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ چونکہ مسلمان کہتے آئے ہیں کہ انہیں عدالت کا ہر فیصلہ قبول ہو گا تو اب کھلے دل کے ساتھ اس فیصلہ کا خیر مقدم کرنا چاہئے، جس نے اتنا قدیمی تنازعہ ختم کر دیا۔
واضح رہے کہ 9نومبرکو عدالت عظمیٰ کی آئینی بینچ نے 5سو سال سے زائد قدیم اجودھیا بابری مسجد -رام جنم بھومی تنازعہ پر متفقہ فیصلہ بتاتے ہوئے 2,77 ایکڑ متنازعہ اراضی کو شری رام جنم بھومی ٹرسٹ کو سونپنے اور سنی وقف بورڈ کو مسجد تعمیر کیلئے اجو دھیا میں ہی 5ایکڑ اراضی دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔

حاجی مقیم قریشی کا یہ بھی کہناتھا کہ یہ وقت ہم سب ہندوستانیوں کے درمیان بھائی چارہ اعتماد اور پیار کا ہے، تمام شہریوں کو اس فیصلہ کو پوری طرح سے قبول کر نا چاہئے،ساتھ ہی ہماری صدیوں سے میل جول کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے باہمی خیر سگالی اور بھائی چارہ کو مضبوط کر ناچاہئے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں خوشی اس بات کی ہے کہ پورے ملک کے کہیں سے کوئی ناخوشگوار واقعہ اطلاع نہیں ملی، تمام طرح سے لاء اینڈ آرڈر برقرار رہا، اب آنے والے دنوں میں چاہئے کہ اپنی ہزاروں سال روایت کی پاسداری کر نی چاہئے،تبھی ملک اونچائیوں کی طرف پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے ریویو پٹیشن میں جا نے کی بات کر نے والوں کو بھی کہا کہ خدا کے واستے اب مسلمانوں کو اپنی تعلیم، روزگار اور ترقی کی جانب بڑھنے دیں ان کو ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ مسئلے میں نہ پھنسائیں۔ پریس کانفرنس میں مقیم قریشی کے ساتھ محمد جاوید، ساجد، ناظم مسعودی، منعین الدین انصاری، محمد گلفام سمیت دیگر معزز افراد موجود تھے۔

بتا دیں کہ با بری مسجد حق ملکیت معاملے میں عدالت عظمی کے فیصلے،جس میں زمین رام للا کو سونپ دی گئی ہے،کو قبول نہ کر تے ہوئے اب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی عرضی داخل کر نے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ حالانکہ دہلی کی شاہی جا مع مسجد کے امام سید احمد بخاری نے عدالت کا فیصلے کو قابل قبول بتاتے ہوئے ریویو پٹیشن کی مخالفت کی ہے۔ شاہی امام نے کہا تھا کہ ایک لمبے تنازعہ کا خاتمہ ہو گیا ہے، اب ریویو پٹیشن میں جانے سے ملک میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گا۔ انہوں نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی کار کردگی پر بھی سوال کھڑے کئے تھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close