تازہ ترین خبریںمسلم دنیا

قطر اپنے شہریوں کو حج کی اجازت دے

سعودی وزارت حج اور عمرہ نے ایک نیا ویب پیج ان قطری شہریوں کے لئے شروع کیا ہے جو اس سال حج پر جانا چاہتے ہیں، سعودی سفیر برائے ہند ڈاکٹر سعود الساطی نے بتایا ہے کہ اس سے قبل قطری شہریوں کے لئے ایک ویب پیج بنایا گیا تھا لیکن قطری حکومت نے اسے بلاک کر دیا۔ تاکہ کوئی بھی قطری فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے درخواست نہ دے سکے اور حج سے محروم رہے۔ قطر یہ چاہتا ہے کہ حج جیسے پاک مقدس اور اسلام کی پانچویں ستون کے موضوع پر سیاست کی جائے، لیکن سعودی عرب ایسا نہیں چاہتا۔

قطریہ غلط الزام لگا رہا ہے کہ سعودی عرب نے اس پیج کو بلاک کیا ہے، اگر ایسا ہوتا تو دوبارہ ویب پیج شروع نہیں کیا جاتا۔ سعودی سفیر نے بتایا کہ جب پہلے ویب پیج کو بلاک کیا گیا تو ازسر نو دوسرا ویب پیج https://qh1440.haj.gov.sa بنایا گیا ہے۔ تاکہ قطری عازمین بلا کسی قباحت اور آسانی سے فریضہ حج کی ادائیگی کر سکیں۔ سعودی سفیر الساطی نے کہا کہ ہم قطر سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کرے۔ تاکہ ان کے شہری آسانی سے حج ادا کرسکیں۔

واضح ہو کہ پچھلے سال 100 قطریوں نےفرائض حج ادا کیاتھا۔اور ان تمام حجاج کا سعودی بادشاہ ، خادم حرمین شریفین ملک سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے مہمان کے طور پر ان کا خیر مقدم کیا تھا۔ جیسا کہ ہر سال سعودی مملکت اور ہر ممالک اپنے عازمین حج کے حوالے سے حج ایگریمینٹ پر سائن کرتے ہیں اس بار حج ایگریمنٹ قطر اور سعودی عرب کے درمیان ہونا تھا۔ لیکن قطری حج وفد حج ایگریمینٹ پر سائن کئے بغیر سعودی عرب سے واپس چلا گیا جس سے یہ صورت حال پیدا ہوئی۔

ڈاکٹر الساطی نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان حسب دستور حج ایگریمینٹ ہوا ہے۔ جس کے تحت ایرانی عازمین کا سعودی عرب آنا شروع ہوگیا ہے، ان کا پہلا قافلہ سعودی عرب پہنچ چکا ہے۔ ایرانی عازمین کے حوالے سے کسی طرح کی کوئی پریشانی دونوں ملکوں کے درمیان نہیں ہے۔ حج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر الساطی نے کہا کہ مملکت کا یہ منصوبہ ہے کہ ویژن 20-30 کے تحت پانچ ملین عازمین 2030 تک ہر سال حج کے لئے آئیں۔ فی الحال تقریبا30لاکھ عازمین حج کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں عازمین حج کو ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے مملکت پر عزم ہے، اسی عزم کے تحت مکہ- مدینہ میں بلٹ ٹرین شروع کی گئی ہے۔ جو اس سال سے عازمین حج کو مکہ سے مدینہ (430کلو میٹر) صرف دو گھنٹے پندرہ منٹ میں پہنچائے گی۔ اس سے حاجیوں کو طویل سفر سے نجات ملے گی، اسی کڑی میں حرم مکہ کی توسیع کا کام بھی جاری ہے اور اب تقریبا دو ملین (20لاکھ) افراد ایک ساتھ حرم مکہ میں نماز ادا کرسکتے ہیں۔ اسی طرح مطاف یعنی طواف کی جگہ میں بھی توسیع کی گئی ہے۔ جس سے ہر گھنٹے ایک لاکھ لوگ طواف کر سکتے ہیں، پہلے صرف 48 ہزار افراد ہی ایک گھنٹے میں طواف کر پاتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ مکہ روڈ انیشیٹو (طریق مکہ پہل) کے تحت مزید شروعات یہ ہوئی ہے کہ کچھ ملکوں جن میں انڈونیشیا، پاکستان اور ٹیونیشیا شامل ہیں، جہاں عازمین کا ایمیگریشن بھی اب انھیں کی ملکوں میں ہوگا، جہاں سے وہ پرواز کریں گے اور عازمین کا سامان سیدھے ان کے ہوٹل کے کمروں میں پہنچایا جائے گا اس سے عازمین کو جدہ ائیرپورٹ پر ایمیگریشن کے تحت جو تین چار گھنٹے لگتے تھے اور سامان کو لیکر جو زحمت ہوتی تھی اس سے نجات ملے گی اور جب عازمین جدہ ائیرپورٹ پر اترے گا تو ایک ڈومسٹک پسنجر کی طرح ٹریٹ کیا جائیگا۔

ہندوستان کے عازمین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر الساطی نے کہا کہ ہماری کوشش ہے اور امید بھییہی ہے کہ اگلے حج پر یہ سہولتیں ہندوستانی عازمین کو بھی فراہم کی جائیںگی۔ انھوں نے بتایا کہ اس سال سے یہ عمل اس لئے ممکن نہیں ہوسکا کہ ہندوستان کے گیارہ شہروں سے حج کی فلائٹ جاتی ہے اس میں تھوڑا وقت لگے گا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اس سال حج ویزہ بھی ہندوستان میں آن لائن دی جا رہی ہے اور اب تک تقریبا ایک لاکھ ہندوستانیوں کو حج ویزہ جاری کئے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان سے ہمارے تعلقات دن بہ دن مستحکم ہو رہے ہیں، انرجی سیکٹر سے لیکر ٹریڈ اینڈ کامرس کے ساتھ اب دونوں ملکوں میں سیاحت کو بھی فروغ دینے کا کام چل رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سعودی حکومت نے اس بات کی منظوری دے دی ہے کہ عمرہ ویزہ پر سعودی عرب جانے والے افراد عمرہ اور مسجد نبوی کی زیارت کے ساتھ ساتھ اب پورے سعودی عرب کے کسی بھی شہر میں آجا سکیں گے، جس سے ٹورزم کو فروغ ملے گا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close