تازہ ترین خبریںدلی نامہ

فرقہ پرست طاقتوں کے سرنگوں کےلئے ’آپ‘ کو ووٹ کریں

شیعہ سنّی فرنٹ کے ذمہ داران نے دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حمایت میں کی اپیل

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
پارلیمانی انتخابات 2019 میں فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینے اور جمہوری نظام میں یقین رکھنے والی سیکولر جماعتوں کو کامیاب بنانے، اخوت اور یکجہتی کے فروغ کےلئے کام کر رہی غیر سیاسی تنظیم شیعہ سنّی فرنٹ نے دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حمایت کی ہے۔ آج انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں شیعہ سنّی فرنٹ کے صدر ڈاکٹر سردار خان، جنرل سکریٹری زیڈ اے چھمن، فرنٹ کے دہلی کے صدر علی عباس پپن اور دیگر ذمہ داران نے دہلی میں عام آدمی پارٹی کے حق میں اپیل کی۔

کانفرنس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شیعہ سنّی فرنٹ کے ذمہ داران ڈاکٹر سردار خان، زیڈ اے چھمن اور علی عباس پپن نے کہا کہ آج جو حالات بنے ہوئے ہیں اور فرقہ واریت کی فضاء بنائی جا رہی ہے وہ ملک کےلئے خطرناک ہے۔ فرقہ پرستوں کو منہ توڑ جواب دینے کےلئے سیکولر جماعتوں کی حمایت ضروری ہے۔ چونکہ عام آدمی پارٹی مذہب کی سیاست نہیں کرتی بلکہ مفاد عامہ کی بات کرتی ہے، ’آپ‘ دہلی والوں کے فائدے کےلئے دہلی کو مکمل ریاست بنانے کی بات کر رہی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ فرقہ پرستی کے سرنگوں کرنے اور ترقی کےلئے دہلی میں برسر اقتدار عام آ دمی پارٹی کو مضبوط کیا جائے۔ اسی لئے شیعہ سنّی فرنٹ عام آدمی پارٹی کی حمایت کی اپیل کرتی ہے۔

شیعہ سنی فرنٹ کے جنرل سکریٹری ذو الفقار احمد چھمن نے کہاکہ جس طرح ملک کی سبھی سیکولر سے اسی جماعتوں نے متحد ہوتے ہوئے فرقہ پرست سیاسی جماعتوں کو منہ توڑ جواب دینے کا ارادہ کیا ہے، کیا ہی بہتر ہوتا کہ دہلی کی ساتوں سیٹوں پر بھی عام آدمی پارٹی کے ساتھ کانگریس اتحاد ہوتا۔ ایک دوسرے کے کٹّر سیاسی حریف ہونے کے باوجود عام آدمی پارٹی نے ملک کا سیکولرزم، بھائی چارہ، آئین اور خوشحالی کےلئے کانگریس سے ہاتھ ملانا چاہا، تاکہ زعفرانی قوتوں کو شکست دی جائے۔ مگر وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کے بار بار کہنے پر بھی کانگریس کی جانب سے اتحاد کی بات نہیں کی گئی، جس سے یہ بات صاف ہوتی دکھائی دے رہی ہے کہ کانگریس خود ہی نہیں چاہتی ہے کہ ملک میں سیکولرزم اور آئین کا وقار باقی رہے اور وہ صرف ووٹ کاٹنے کا کام کر رہی ہے۔ اب 12 مئی کو دہلی کی ساتوں سیٹوں پر ہونے والے الیکشن میں ووٹوں کو تقسیم سے بچانا ہے تو ایسے میں ہماری جیسی سماجی تنظیمیں جوکہ سیدھے طور عوام کے رابطہ میں رہتی ہیں، کا فرض بن جاتا ہے کہ عوام الناس کو وہ فیصلہ کرنے کےلئے بےدار کریں اور ووٹوں کو تقسیم نہ ہونے دیں اور متحد ہوکر عام آدمی پارٹی کو ہی ووٹ کریں۔ مسٹر چھمن نے یہ بھی کہا کہ عام آدمی پارٹی کی دہلی سرکار نے جس طرح کے کام دہلی والوں کےلئے انجام دیئے ہیں وہ لائق تعریف ہیں۔ اگر پارلیمنٹ میں بھی ایسے ہی کام کرنے والے لوگ جائیں گے جوکہ لاکھوں روپے کی نوکریاں اور کاروبار چھوڑ کر عوامی خدمت کو اوڑھنا بچھونا بنا چکے ہیں، تو یقینا ملک کے لوگ چین سے اپنی زندگی بسر کر پائیں گے۔

شیعہ شنی فرنٹ کے صدر ڈاکٹر سردار خان نے کہاکہ ہماری اپیل خاص طور پر اقلیتی طبقہ سے ہے کہ کسی بھی قسم کی گمراہی کا شکار نہ ہوں اور متحد ہوکر، ایک مزاج بناکر عام آدمی پارٹی کے امیدواروں کو کامیاب بنائیں تاکہ آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال نہ کرسکیں کہ جب ملک کی جمہوری شناخت کو پامال کرنے اور سیکولرزم کو تباہ کرنے کی سازشں تیار کی جا رہی تھیں تو اس وقت تم کیا کر رہے تھے۔ بلکہ ہمارے فیصلے پر ہم پر فخر کر سکیں۔ شیعہ سنی فرنٹ دہلی کے صدر علی عباس پپن نے کہاکہ ’آپ‘نے فرقہ پرست طاقتوں کو روکنے کےلئے عزم کیا ہے اور اس وقت دہلی میں اس سے زیادہ طاقتور سیاسی جماعت کوئی دوسری نہیں ہے جو بی جے پی کو منہ توڑ جواب دے سکے۔ رہی بات کانگریس کی تو سب جانتے ہیں کہ انکا روٹھا ہوا سیدھا بی جے پی میں ہی جا کر رکتا ہے۔ اس موقع پر مولانا نواز زیدی، محمد اسلم، اقبال احمد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close