تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

غالب انسٹی ٹیوٹ کا ’اردو ڈرامہ فیسٹول‘ اختتام پزیر

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ہم سب ڈرامہ گروپ کے زیر اہتمام پانچ روزہ اردو ڈرامہ فیسٹیول اختتام پزیر ہو گیا ہے۔ 26 جولائی کو اس فیسٹول کا افتتاح غالب انسٹی ٹیوٹ کے چیر مین جسٹس بدر دُرریز احمد نے کیا تھا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے وائس چیرمین اور حکومت راجستھان کے سابق وزیر صحت اعماد الدین احمد خاں مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے۔ اس موقع پر اس فیسٹول کے تعلق سے کتابچہ کی بھی رسم رو نمائی بھی عمل میں آئی تھی جس میں ہم سب ڈرامہ گروپ کی چیئرپرسن ڈاکٹر رخشندہ جلیل اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضا حیدر موجود تھے۔

26 جولائی سے شروع ہوئے ڈارمہ فیسٹیول میں پہلا ڈرامہ ڈاکٹر سعید عالم اور ان کے ساتھیوں نے قدسیہ زیدی کا تحریر کیا ہوا ڈرامہ ’چچا چھکّن ان ایکشن‘ پیش کیا۔ دوسرا ڈرامہ 27جولائی کو جوش ملیح آبادی کی خود نوشت سوانح حیات ’یادوں کی بارات‘ سلیمہ رضا اور ارشد اقبال نے پیش کیا۔ تیسرا ڈرامہ جاوید صدیقی کا لکھا ہوا ڈرامہ ’گڑمبا‘ لُبنیٰ سلیم نے پیش کیا۔ ڈرامہ کے ہدایت کار سلیم عارف تھے۔

واضح رہے کہ اس ڈرامہ فیسٹیول میں داستان گوئی کو بھی جگہ دی گئی۔ چو تھے ڈرامہ کے روز فوزیہ داستان گو نے طلسم ہوشربا کے کچھ حصے کو پیش کیا۔ فیسٹول کا آخری ڈرامہ کرشن چند کی دو کہانیوں پر ہدایت کار مشتاق کاک نے ’لمحوں کی ملاقات‘نام سے پیش کیا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، ڈاکٹر رخشندہ جلیل اور رضاحیدر نے تمام ڈرامہ نگاروں اور ہدایت کاروں کو مومنٹو پیش کیا۔

ڈاکٹررضاحیدر نے ہم سب ڈرامہ گروپ کے سلسلے میں بتا یا کہ ہم سب ڈرامہ گروپ کی بنیاد1947اس وقت کی خاتون اول بیگم عابدہ احمد نے ایسے وقت میں رکھی جب دلی میں ثقافتی سرگرمیوں کا دائرہ محدود تھا۔ بیگم عابدہ احمد مرحومہ کی کوششوں سے آج یہ تنظیم آرٹ اور تھیٹرکی دنیا میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close