اترپردیشتازہ ترین خبریں

عیدگاہ میدان دیوبند: احتجاج ختم کرنے کی اپیل خارج، مظاہرین نے کہا ’یہ مذہبی نہیں آئینی لڑائی ہے‘

اترپردیش کے ضلع سہارنپور کے دیوبند علاقے میں سی اے اے کے خلاف خواتین کا غیرمعینہ احتجاج 12 ویں دن بھی جاری رہا اور انتظامیہ و دارالعلوم کے علماء کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے تحریک کار خواتین نے کہاکہ یہ آئین کے تحفظ کی لڑائی ہے اور سی اے اے کی واپسی تک ہمارا پرامن احتجاج جاری رہے گا۔

اطلاعات کے مطابق ڈی ایم آلوک پانڈے اور ایس ایس پی دنیش کمار پرپربھو نے شہر کے اہم شخصیات کے ساتھ دارالعلوم دیوبند میں میٹنگ کرکے ایک کمیٹی تشکیل دے کر انہیں احتجاج ختم کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ ضلع انتطامیہ نے دارالعلوم سے بھی احتجاج کو ختم کرنے کی اپیل کرنے کی گذارش کی تھی۔ لیکن تحریک کار خواتین نے کمیٹی کی احتجاج کو ختم کرنے کی اپیل کو خارج کردیا۔

جمعرات کو ضلع انتظامیہ کے ساتھ میٹنگ کے بعد دارالعلوم کی جانب سے احتجاج کو ختم کرنے کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے تحریک کار خواتین نے کہا کہ ’یہ مذہب کی لڑائی نہیں ہے جو ہم ان کی بات مان لیں، یہ لڑائی آئین کے تحفظ کی ہے اور جب تک سی اے اے اور این آر سی واپس نہیں ہوتا ہماری لڑائی جاری رہے گی ۔‘

تحریک کار خواتین کو احتجاج کے لئے پرعزم دیکھ کر ضلع انتظامیہ نے دھرنے کا غیر قانون اور قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے سو سے زیادہ افراد کے خلاف نوٹس جاری کر کے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ پولیس کے مطابق شہر کے کئی اہم شخصیات خواتین اور بچوں کو دھرنے کے لئے اکسا رہے ہیں۔ پولیس نے تحریک کار خواتین پر قابل اعتراض نعرے اور تقاریر کرنے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ ڈی ایم کی جانب سے جاری کی گئی نوٹس میں کہاکہ ہے کہ اگر شہر میں کسی طرح کا بھی تشدد ہوتا ہے اور سماجی ہم آہنگی کو زک پہنچتا ہے تو یہی لوگ اس کے ذمہ دار ہوں گے۔

ایک میٹنگ کے دوران آلوک پانڈے اور ایس ایس پی دنیش کمار نے این پی آر کے حوالے سے لوگوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ این پی آر میں کسی طرح کے دستاویز کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ این آرسی پر حکومت نے پارلیمنٹ میں تحریری طور پر جواب دیا ہے اور جس میں این آرسی کے نفاذ پر کوئی بات نہ ہونے کی بات کہی گئی ہے، ایسے حالات میں اب دیوبند میں خواتین کو اپنا دھرنا ختم کر دینا چاہئے۔

قابل ذکر ہے کہ دیوبند کے عیدگاہ میدان میں شہریت (ترمیمی) قانون، این پی آر اور این آر سی کے خلاف گزشتہ گیارہ دنوں سے خواتین کا غیر معینہ احتجاج جاری ہے۔ ضلع انتطامیہ احتجاج کو ختم کرانے کے لئے ہر ممکن اقدام کررہا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close