آپ کی آواز

علم کی شمع روشن کرنے والے ہو جاتے ہیں امر

من وعن.............فروزبخت احمد

کسی شاعر نے کہا ہے، ’’علم کی شمع کو روشن جو کیا کرتے ہیں، زندہ رہتے ہیں ہمیشہ وہ کہاں مرتے ہیں!‘‘ باوجود اس کے کہ مسلمانان ہند کی تعلیمی حالات بہت امید افزہ نہیں۔ تعلیمی کوششیں اور اردو کے فروغ کی کاوشیں جاری ہیں، باوجود اس کے کہ آ ج ہندوستان میں اردو کا وہ مقام نہیں جوکہ ہندی اور انگریزی کا ہے، اردو اور تعلیم کا جھنڈا تھامے بہت سے لوگ چل رہے ہیں۔ بے شک شمالی ہندوستان اور بہار اردو کا گڑھ رہے ہیں، جنوب میں دکّن نے آج بھی اردو کا مورچہ سنبھالا ہوا ہے۔ جب کبھی کوئی حیدر آبادی سلیس اردو بولتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ چاشنی گھول رہا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ آزادی کے بعد سے آج تک مرکزی سطح پر اردو کے لئے کوئی قومی پالیسی نہیں بنائی گئی۔ اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے اور خاص طور سے چالیس سالہ کانگریسی سرکار کے دور پر جو اردو اور مسلمانوں کی خدمت کا دم بھرتی ہے، ان کے ووٹوں سے سرکاریں بناتی رہی ہے۔ اردو اور اقلیتوں کی بہبود کے نام میں کئی سرکاری ادارے، اکادمیاں، وزارت وغیرہ ضرور قائم کی گئیں مگر کام کسی نے تسلی بخش نہیں کیا۔ کئی ادارے تو بالکل نقلی مونچھ کی طرح ہی رہے جیسے وزارت برائے اقلیتی امور، قومی اقلیتی کمیشن وغیرہ۔ یہ ادارے در اصل سفید ہاتھی بن گئے ہیں جو اقلیتوں یا اردو کا کوئی کام نہیں کر رہے مگر ان کے سربراہ اقلیتوں کی خدمت کے نام میں کبھی تو حج ڈیلیگیشن کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی کوئی ایوارڈ لیتے ہوئے۔ ہاں قوم کا کام زمین سے جڑ کر مخلصی و ایمانداری کے ساتھ کام کرنے والے بہت کم لوگ ہیں۔ زیادہ تر ادارے تو محض اردو کے نام پر دکانیں بن کر رہی گئی ہیں۔ مگر پھر بھی کئی لوگ اور ادارے ایسے ہیں، جو بے لوث اردو کی ترویج میں لگے ہوئے ہیں۔ انہیں نہ تو کسی ایوارڈ کی چاہت ہوتی ہے اور نہ ہی نام و نمود اور کام کے نام میں ہوائی سفر سیر و تفریح کرنے کی۔ اس قسم کے ادارے و افراد دامے درمے قدمے سخنے ملک و قوم کی خدمت میں لگے رہتے ہیں۔

سرزمین حیدرآباد پر ایسا ہی ایک ادارہ آل انڈیا اردو ایجوکیشن کمیٹی ہے جو صحیح معنوں میں اردو کے ایک خدمت گار جناب جلیل پاشاہ کی سرپرستی میں پچھلے تقریباً چالیس سال سے سرگرم ہے۔ یہ اسی ادارے کی کوشش تھی کہ حیدرآباد کی پرانی حویلی میں ایک اردو کا ادارہ مولانا ابو الکلام آزاد نیشنل اوپن اردو یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا۔ یہ آل انڈیا اردو تعلیمی کمیٹی کی ہی کوشش تھی کہ ان کی درخواست پرضلع رنگا ریڈی، راجندر نگر منڈل، مانی کونڈا گاؤں میں مولانا آزاد اوپن یونیورسٹی کے لئے 200 ایکڑ زمین فراہم کی گئی۔ یہ الگ بات ہے کہ جب یونیورسٹی قائم ہوئی تو اس کی بنیاد ڈالنے پر بہت سے دعوےدار کھڑے ہوگئے، مگر اس کا سہرا آل انڈیا اردو تعلیمی کمیٹی کے سر ہی جاتا ہے جس نے اس سے قبل اور بھی کئی اداروں کی داغ بیل ڈالی ہے جن میں سے خاص ہیں خواتین کے لئے اندارا پریہ درشنی گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ اینڈ ڈگری کالج، آندھرا پردیش اردو اکیڈمی، ورلڈ تیلگو کانفرنس، پدماوتی یونیورسٹی، اکھِل بھارتیہ ہندی ساہتیہ سمّیلن وغیرہ۔ اس تنظیم نے حیدرآباد میں پہلی مرتبہ ریزیڈینشیل اردو میڈیم اسکولوں کی بھی داغ بیل ڈالی۔ کل ہند اردو تعلیمی کمیٹی نے اپنے بانی جلیل پاشاکے ذریعہ مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آزاد ہند کے پہلے وزیر تعلیم امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد کے یوم پیدائش 11نومبر کو قومی یوم تعلیم قرار دیتے ہوئے سرکاری طور پر اس کا اعلان کرے۔ ویسے آندھر ا پردیش حکومت نے پہلے ہی ریاست میں اس دن یوم قوم تعلیم منانے کا اعلان کیاتھا ٹھیک اسی طرح جیسے بہار میں 11نومبر کو قومی یوم تعلیم قرار دیا گیا ہے۔ کل ہند اردو تعلیمی کمیٹی کا خیال ہے کہ مولانا آزاد کو ابھی تک ان کا مقام نہیں دیا گیا ہے۔ مولانا نے جو قربانیاں ملک و قوم کے لئے دیں، وہ کسی گنتی میں نہیں۔ مولانا کی ذات کے ساتھ اس قسم کی ناانصافی کا ذکر یہ تنظیم پچھلے کافی سالوں سے کرتی چلی آرہی مگر حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہے۔ جہاں تک وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے اعلان کردہ پندرہ نکاتی پروگرام کا تعلق ہے، اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے تنظیم نے سرکار سے امید کی ہے کہ وہ اردو کی اس تحریک کو محض زبانی جمع خرچ نہیں بلکہ مِشنری تحریک بنائے گی۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ اردو زبان کی ترقی، اردو مدارس کے قیام و استحکام کے سلسلہ میں جن اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے، وہ اردو والوں کے لئے باعث اطمینان ہیں مگر ان کا جب تک کوئی فائدہ نہ ہوگا جب تک سرکار ذاتی طور سے ان میں دلچسپی نہ لے۔ اس کے لئے ایک تجویز یہ بھی رکھی گئی تھی کہ ہر ریاست میں 15نکاتی پروگرام کی عمل آوری کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے اور ایک باقاعدہ مشینری قائم کی جائے۔

کمیٹی نے اپنی قرار داد میں حکومت ہند سے مطالبہ کیا تھا کہ ملک کے تمام تعلیمی ادارے اور خاص طور سے اردو میڈیم اداروں میں کمپیوٹر کو شامل کرنا از حد ضروری ہے۔ یہی نہیں ایک بہت اچھی تجویز کمیٹی کی اردو کی خدمت کے تئیں یہ ہے کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو کی جانب سے چلائے جانے والے کمپیوٹر مراکز میں انسٹرکٹرس کی تنخواہ 5000سے بڑھا کر 10000کر دی جائے۔ کمیٹی کی ایک اور تجویز پر حکومت غور کر رہی ہے کہ مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور میں ایک اردو سیل قائم کیا جائے جو نہ صرف قومی کونسل برائے فروغ اردو، اردو اکادمیوں، اردو تنظیموں، رضا کارانہ اداروں اور اردو میڈیم اسکولوں سے تال میل قائم کرے تاکہ اردو میڈیم تعلیم میں بہتری پیدا ہو۔ عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ اردو میڈیم اسکولوں اور خاص طور سے شمالی ہند کے اردو میڈیم اسکولوں میں نہ تو نصاب کی کتابیں وقت پر موصول ہیں اور نہ ہی اساتذہ حضرات میسر ہیں۔ کمیٹی کی جانب سے خاص طور سے زور دیا گیا ہے کہ اردو کی ترویج و ترقی کے لئے اردو میڈیم اسکولوں کی بہتری اشدضروری ہے۔ جہاں تک تعلیم کے فروغ کا تعلق ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ آج بھی ہماری قوم دیگر اقوام سے کم ازکم سو سال پیچھے چل رہی ہے مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی ہے کہ صحرا میں نخلستان بھی دکھائی دئے جاتے ہیں۔ ہمارا مقصد یہاں علم و ہنر اور تعلیم و تربیت کی نگری علی گڑھ سے ہے۔ یوں تو علی گڑھ میں بہت سے ادارے چل رہے ہیں مگر ایک ادارہ ایسا ہے کہ جو پچھلے تقریباً بارہ، تیرہ سال سے بڑی خاموشی کے ساتھ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھ رہا ہے۔ تعلیم کی برکت سے فیض یاب ہونا ایسا ہی ہے جیسے جنت الفردوس کی کوئی نعمت پا لینا۔ تعلیمی میدان میں بے لوث قومی خدمت کا مظاہرہ کیا ہے البرکات ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز تنظیم نے جس نے دینانتداری اور جزبۂ خدمت و خاکساری کے ساتھ کوشش کی ہے کہ پچھڑی ہوئی مسلم آبادی کے ساتھ میدان تعلیم میں کچھ بھلا کر دیا جائے۔ یہ نہایت ہی افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے یہاں تعلیم کے تئیں آج بھی وہ شعور بےدار نہیں ہوا ہے کہ جس کی ملک و قوم کو ضرورت ہے۔ ہم لوگ ذاتی انا کو سب سے آگے رکھ ملک و ملت کے معاملات کو طاق پر رکھ دیتے ہیں جیسا کہ ہم نے قومی اسکول کے معاملہ میں دیکھا۔

(Writer: Firoz Bakht Ahmed………………………..E-mail: [email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close