تازہ ترین خبریںمسلمانوں کاعالمی منظر نامہ

عظمت نسواں کی شناخت اسلام

اسلامی تعلیمات اور قرآنی پیغامات بنی نوع انسان کے لئے باعث فلاح تو ہیں ہی دنیا میں صالح معاشرہ اور انسانیت کے لئے بھی مثال ہیں۔ خاص کر اسلام میں خواتین کو جو حقوق دیئے گئے ہیں اور جو مساوی درجہ دیا گیا ہے وہ کسی مذہب میں نظر نہیں آتا۔ مگر وقت کا المیہ ہے کہ آج اسلام معتوب زمانہ ہے اور آزادی نسواں کے علمبردار خاص کر مغرب میں یہ تشہیر ہے کہ اسلام میں خواتین کو پابندیوں میں جکڑ کر رکھ دیا گیا ہے۔ دنیا میں مسلم خواتین کو مظلوم، بے بس مخلوق کے طور پر دکھایا جا رہا ہے۔ حالانکہ 14 سو سال قبل دور جاہلیت میں جب لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا تو ہمارے رسولؐ نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور پھر اسلام کا ہی کرشمہ تھا کہ وہ جاہل معاشرہ جہاں عورتوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی اسے تکریم کے ساتھ اس کے حقوق دیئے گئے۔ وراثت میں لڑکیوں کی حصہ داری اسلام کا ہی شیوہ ہے کہ ہندو دھرم میں آج تک لڑکیوں کی حصہ داری کا تصور نہیں ہے۔ اسی طرح شادی بیاہ، نکاح کے تعلق سے عورتوں کو آزادی دی گئی ہے جبکہ دوسرے مذاہب میں ایسا نہیں ہے مگر مغرب آج آزادی نسواں کا نقیب بنا ہوا ہے اور اسلام پر انگلیاں اٹھا رہا ہے جبکہ 1400 سال قبل ہی اسلام معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز بلند کر چکا ہے۔ خاص کر خواتین کو برابری کا درجہ دینے میں اسلام سے بڑھ کر کوئی مذہب نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں عورتوں کے تعلق سے ایک پوری سورہ نازل کی ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے خواتین کے حقوق، فرائض اور آزادی کے تعلق سے جو کچھ حکم دیا ہے اس میں صالح معاشرہ اور عورت کی بقا پنہاں ہے۔ حضور اکرمؐ نے اللہ کے احکامات کو اپنی امت تک پہنچانے کا مثالی کارنامہ انجام دیا، جس کا نتیجہ ہے کہ ایک مسلم خاتون قرآن اور شریعت کے دائرہ میں جتنی محفوظ ہے اتنا کہیں اور نہیں ہے۔ اسلام وہ مذہب ہے جہاں عورت کو سیاسی حقوق بھی دیئے گئے جو حق رائے دہی ہے۔ قرآن کریم میں با قاعدہ اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب تیسرے خلیفہ کے انتخاب کا وقت آیا تو اس سلسلہ میں بہت ساری خواتین کی بھی رائے لی گئی۔ مگر مغرب کی جھوٹی تشہیر اور قرآن کریم سے ناواقفیت کی بناء پر مسلم خواتین کی بے بسی کا رونا رویا جا رہا ہے جبکہ اسلام اور قرآن ہر دور کے لئے مشعل راہ ہے۔ قرآن و شریعت کی روشنی میں ہی بنی نوع انسان کی فلاح ممکن ہے۔ زیر نظر مضمون اسلام میں خواتین کے حقوق اور مساوات کے نکات پر بھر پور روشنی ڈالتا ہے اور مغربی فکر کو آئینہ دکھاتا ہے:

اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے بعد اس بات کی جانکاری ملتی ہے کہ عرب کے دور جہالت میں مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ اتنے سفاک تھے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیا کرتے تھے۔ ظہور اسلام کے بعد وہی لوگ پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ سے عداوت رکھنے لگے تھے کیونکہ آپ ؐ نے معاشرہ میں اصلاح کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جو اقدامات کئے تھے ان لوگوں کو وہ ناگوار خاطر محسوس ہوئے تھے۔ حضور پاک ؐ کو نہ صرف بہت سے قبیلوں خصوصی طور پر قریش قبیلہ کے لوگوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا بلکہ یہود و نصاریٰ بھی آپؐ سے رنجش رکھتے تھے۔چنانچہ یہ بات بھی بالکل واضح کر دی گئی تھی کہ یہود و نصاریٰ کبھی بھی مسلمانوں کے ہمدرد نہیں ہو سکتے ہیں اور دور حاضر میں بھی یہ بات مشاہدہ میں آ رہی ہے، جس کے بارے میں اسلام نے 1450 سال قبل ہی متنبیٰ کر دیا تھا۔

آزا دی نسواں کے تعلق سے امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے آج زبردست طریقہ سے اس موضوع کی تشہیر کی جا رہی ہے اور وہ آزادی نسواں کا سہرہ اپنے سر لے رہے ہیں گویا کہ آزادی نسواں کے وہی نقیب ہیں لیکن وہ واقف ہوتے ہوئے بھی یا ناواقف ہو کر ہی کہتے ہیں کہ اسلام نے خواتین کو پابندیوں میں رکھا ہے جبکہ اسلام نے آزادی کے ساتھ خواتین کی اختیار دہی کا راستہ بھی ہموار کیا ہے۔ خداوند قدوس نے قرآن کریم میں جو سورۃ النساء نازل فرمائی ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے خواتین کے حقوق، فرائض اور آزادی کے تعلق سے ارشاد فرمایا ہے اور حضورپاک ؐ نے ان ہی احکامات کو اپنی امت تک پہنچانے کا مثالی کارنامہ انجام دیا جو کہ یوم آخر تک اٹل ہے۔ اس سے نہ انحراف کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس میں تحریف کی جا سکتی ہے۔ اس کے برعکس یہود و نصاریٰ سے تعلق رکھنے والے امریکہ اور یوروپی ممالک آزادی نسواں کی تشہیر کرکے یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہوں نے ہی خواتین کو آزادی بخشی ہے۔ اگر ان کی اس بات پر غور کیا جائے تو یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ انہوں نے خواتین کو اس طرح کی آزادی سے نوازا ہے کہ انہوں نے خواتین کو معاشرے میں آرائش جمال کا پیکر بناکر انہیں محض ایک کھلونا بنا دیا ہے۔ آج میڈیا اور سوشل میڈیا پر جس طرح سے خواتین کو دکھایا جا رہا ہے وہ دراصل کسی بھی زاویہ سے آزادی نہیں ہے بلکہ بے حیائی ہے اور اس روش کو کسی بھی طور پر آزادی نسواں سے منسوب نہیں کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ کہنا قطعی طور پر درست ہے کہ خواتین کو اصل آزادی اور ان کے حقوق اسلام نے عطا کئے ہیں اور جو لوگ ان حقائق سے آشنا ہونا چاہتے ہیں انہیں قرآن کریم کا مطالعہ کرنا چاہئے۔

آج اکثر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ مغربی ممالک نے خواتین کو آزادی فراہم کرائی تھی اور 20 ویں صدی میں انہوں نے خواتین کو آزادی فراہم کرنے کے لئے تحریک کا آغاز کیا تھا، یہ تصور خام خیالی پر مبنی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ خواتین نے کبھی بھی آزادی کی تحریک کا آغاز نہیں کیا تھا اور نہ ہی انہوں نے اس کا مطالبہ کیا تھا بلکہ اس موضوع کے تعلق سے 17ویں صدی میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ پر وحی نازل ہوئی تھی اور آخر الزماں پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ نے اس وحی کو نوع انسان کی بہبود کے لئے امت تک پہنچا دیا تھا تاکہ اللہ تعالیٰ کے فر مان کو پوری دنیا تک پہنچا دیا جائے۔ پوری دنیا کے جو لوگ اسلام کے حلقہ بگوش ہو گئے تھے، انہوں نے اس فرمان کے مطابق عمل کرنا شروع کر دیا تھا لیکن بغض وعناد کے سبب یہود ونصاریٰ نے اس آفاقی فرمان کے مطابق عمل نہیں کیا۔ چنانچہ وہ آج تک گمراہی میں مبتلا ہیں اور اہل اسلام کی تنقید و مخالفت کرتے رہتے ہیں۔آزادی نسواں کے تعلق سے وہ آج جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں وہ صرف دروغ گوئی ہے کیونکہ قرآن کریم اور حضور پاک ؐ کی احادیث مبارکہ کے مطابق نہ صرف آزادی ملی ہے بلکہ ان کے حقوق اور فرائض بھی ہمیشہ ہمیش کے لئے متعین کر دیئے گئے ہیں۔

اسلام میں 1450سال قبل ہی مردوں کی طرح اللہ رب العزت نے خواتین کو بھی حمد و ثناء اور اس کی عبادت کرنے کا نہ صرف شرف عطا کر دیا تھا بلکہ مردوں کی طرح ان کی جواب دہی بھی مساوی طور پر مقرر کر دی گئی تھی لیکن ان کی اخلاقی ترقی کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ اسلام نے مردوں کے ساتھ ساتھ یکساں طور پر انسانی حقوق خواتین کے لئے متعین کر دئے تھے۔ قرآن کریم میں ’سورۃ النساء‘ کے عنوان سے اولین آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے، جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ ”اے انسانوں! اپنے اس رب کے تئیں فرض شناس رہو جس نے ایک واحد روح سے تمہیں پیدا کیا ہے اور اس سے ایک ساتھی اور ان دونوں سے بہت سے مرد وخواتین جگہ جگہ پھیل گئے۔ اپنے اللہ کے تئیں اپنا فرض ادا کرنے میں ہوشیار رہو جس سے تم میں سے ہر ایک اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے دعویٰ کرتے ہو اور اس بطن کے لئے جس سے تم پیدا ہوئے۔ یاد رکھو! اللہ تعالیٰ تم سب کو دیکھنے والا ہے۔“ (4:1) چونکہ تمام مرد وخواتین ایک ہی قطرہ سے وجود میں آئے ہیں، اس لئے انسانیت کے اعتبار سے وہ دونوں یکساں ہیں اور ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ جیسا کہ بہت سے مذاہب کا یہ عقیدہ ہے کہ فطری طور پر عورت ناقص ہوتی ہے لیکن عورت فطری طور پر بری نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی مرد برے ہوں گے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی جنس برتر نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ تصور مساوات کے برخلاف ہوگا۔ اسلام میں خواتین کو اپنی پسند کی آزادی اور اپنی ذاتی شخصیت کے مطابق اظہار خیال کی آزادی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ اپنے مذہب کا انتخاب کرنے کے لئے آزاد ہے۔ اس تعلق سے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ ”مذہب میں کسی طرح کی زبردستی یا مجبوری نہیں ہے۔ یہ حق غلطی سے مبرا ہے۔“ (2:25)

اسلام میں اپنے خیالات و نظریات پیش کرنے کے لئے خواتین کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد ؐ کی ایسی بہت سی روایات ہیں، جن سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ راست طور پر وہ مرد سے سوالات کر سکتی ہے اور مذہب سے متعلق اپنے خیالات پیش کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ معیشت اور سماجی امور پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کر سکتی ہے۔ ایک مسلم خاتون اپنی پسند سے اپنے شوہر کا انتخاب کر سکتی ہے اور شادی کے بعد وہ اپنا نام بھی برقرار رکھ سکتی ہے۔ کسی تنازع میں مسلم خاتون کی گواہی یا بیان قابل اعتماد ہوتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس طرح کے شعبوں میں جن میں خواتین زیادہ معروف ہوتی ہیں ان کا بیان حتمی ہوتا ہے۔ معاشرتی حقوق کے تعلق سے پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ”علم حاصل کرنا ہر ایک مسلمان (مرد اور عورت) کے لئے فرض ہے۔“ اس علم میں قرآن کریم اور احادیث مبارکہ تعلیم اور دیگر علوم کی جانکاری بھی شامل ہے۔ مرد وخواتین دونوں میں سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ حسن اخلاق اور اچھے برتاؤ کو فروغ دیں اور شعبہ حیات میں بد اخلاقی کو روکیں اور برے برتاؤ سے پرہیز کریں۔ علاوہ ازین مسلم خواتین کو اپنی فطری صلاحیت اور دلچسپی کے مطابق اپنے فرائض انجام دینے کے لئے مناسب تعلیم حاصل کرنی چاہئے۔

ایسی صورت میں جبکہ خاتون امور خانہ داری دیکھتی ہو، اپنے شوہر کی معاونت کرتی ہو اور بچے کی پیدائش سے لے کر پرورش کرنے اور تعلیم سے آراستہ کرنے کے فرائض انجام دیتی ہو تو خواتین کے یہ تمام عوامل ان کے لئے نہایت قابل احترام ہوتے ہیں۔ اگر گھر سے باہر جاکر معاشرے کے لئے اچھے کام کرنے کی میں ذہانت ہے تو وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے ایسے کام کر سکتی ہے۔ اس طرح سے اسلام نے مساوات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بھی مرد وخواتین کے درمیان فطری فرق کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ کچھ کام ایسے ہوتے ہین جو کہ مردوں کے لئے مناسب ہوتے ہین اور کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو خواتین کے لئے مناسب ہوتے ہیں۔ چنانچہ کسی بھی طرح سے ان میں سے کسی کی بھی کاوش اور ان کا فائدہ کم نہیں ہوتا ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک جیسا کام ہو خداوند قدوس ان کے کام کے مطابق مساوی طور پر ان کو ثمرہ دیتا ہے۔ جہاں تک خاتون کے ماں ہونے کا سوال ہے تو حضور پاک ؐ نے ارشاد فرمایا تھاکہ ”ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہوتی ہے۔“ اس کا مطلب یہ ہوا کہ معاشرہ کی ترقی کو ماؤں میں تلاش کیا جا سکتا ہے جو کہ پرورش کرتی ہیں۔ کسی بھی شخص پر تحفظ، شفقت اور تربیت کے سب سے زیادہ اولین اثرات وہ ہوتے ہیں جوکہ اسے ماں سے ملتے ہیں۔ اس لئے ایک خاتون جس کے بچے ہوتے ہیں اسے تعلیم یافتہ ہونا چاہئے۔

مسلم خاتون کو 1450 سال قبل اللہ تعالیٰ نے جو ایک سیاسی حق عطا کیا تھا وہ حق رائے دہی ہے یعنی ووٹ دینے کا حق ہے کسی بھی عوامی معاملہ میں خاتون اپنے خیالات کا اظہار کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ سے یہ کہا گیا تھا کہ جب عقیدہ رکھنے والی کوئی خاتون آپ ؐ کے پاس آئے اور اسلام میں داخل ہونے کا حلف لینے کا اظہار کرے تو آپؐ کو اس کا عہد قبول کر لینا چاہئے۔ اسی طرح خواتین کو اپنا قائد (Leader) منتخب کرنے کا حق بھی دیا گیا ہے جس کا وہ عوامی طور پر اعلان کر سکتی ہے۔ علاوہ ازیں اسلام کسی خاتون کے اعلیٰ عہدہ پر فائز ہونے کو بھی ممنوع قرار نہیں دیتا ہے۔ خواتین کی اسی حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب خلیفہ راشد کے جلیل القدر عہدہ کے لئے حضرت عثمان ابن عفانؓ کے نام کی سفارش کی گئی تھی تو عبدالرحمن ابن عوفؓ نے بہت سی خواتین سے مشورہ کیا تھا۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے فرمایا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ”بے شک مرد وخواتین پیدا کئے۔۔۔ تاکہ تم مختلف اور متنوع قسم کی جد وجہد کرو“ ان آیات میں اللہ جل شانہ‘ نے بالکل وا ضح کر دیا ہے کہ اس نے خصوصی کرداروں کے ساتھ عورت اور مرد کو مختلف حکمت سے پیدا کیا ہے۔ ان کی کارگزاریاں اور کاموں کی مہارتیں بھی مختلف ہیں۔ جس طرح محنت کشی کے شعبہ میں درجہ بندی ہوتی ہے ٹھیک اسی طرح سے ایک خاندان میں ہوتی ہے۔ اس خاندان کے ہر ایک رکن کی مختلف ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اسلام کا عمومی نظریہ اس بات پر مبنی ہے کہ خواتین کو پرورش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور مرد کو سرپرست ہونے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اسی لئے خواتین کو مالی معاونت حاصل کرنے کا حق دیا گیا ہے۔

قرآن کریم میں خداوند قدوس نے جو ارشاد فرمایا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ ”مرد خواتین کے سرپرست اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مردوں میں سے کچھ ایسے مرد پیدا کئے ہیں جن کو دوسروں پر برتری حاصل ہوتی ہے اور چونکہ وہ خواتین کی معاونت کے لئے اپنی دولت خرچ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کا جسمانی تحفظ کرنا اور ان کا احترام کرنا بھی مرد کی ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ خاتون کو یہ مراعت بھی حاصل ہے کہ وہ خود دولت کما سکتی ہے، جائیداد خرید سکتی ہے، کوئی بھی قانونی معاہدہ کر سکتی ہے اور اپنی جائیداد کا وہ جس طرح سے چاہے انتظام کر سکتی ہے۔ وہ اپنی تجارت بھی شروع کر سکتی ہے اور اس کی آمدنی اور اس کی جائیدا پر شوہر سمیت کوئی بھی شخص دعویداری نہیں کر سکتا ہے۔یہ تمام سہولتیں اور اپنی تجارت شروع کرنے کی آزادی اسلام پہلے ہی خواتین کو دے چکا ہے۔ قرآن کریم میں اس بات کی بھی وضاحت کر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان سے ہمارے شریک حیات طے کر دیئے ہیں تاکہ ہم پُرامن طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں اس نے دونوں کے درمیان رحم اور رفاقت کا جذبہ پیدا کر دیا ہے۔ اس لئے شادی محض جسمانی اور جذباتی رشتہ ہی نہیں ہے بلکہ خداوند قدوس نے اس رشتہ میں آپسی حقوق اور ذمہ داریوں کو پنہاں کر دیا ہے جو کہ آفاقی رہنمائی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مرد وخواتین (شو ہر اور بیوی) کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے۔ لباس نہ صرف جسمانی ساخت کو تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ خوبصورتی اور نقائص کی پردہ داری بھی کرتا ہے۔

شادی کرنے سے جو رفاقت اور تحفظ ملتا ہے، اس کے تعلق سے خواتین کو مختلف حقوق دیئے گئے ہیں۔ پہلا تو یہ ہے کہ شوہر کی جانب سے جو مہر دیا جاتا ہے وہ بیوی کا حق ہے جو کہ شادی کرنے کے لئے ایک لازمی ضابطہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ شوہر کے ذریعہ بیوی کی ضروریات کو پورا کرنا بھی اس کا حق ہے۔ اس کے علاوہ روٹی، کپڑا اور مکان فراہم کرانے کی ذمہ داری بھی شوہر پر ہے کہ وہ ہر معاملے میں اپنی بیوی کا خیال رکھے لیکن بیوی کوئی بھی غیر مناسب مطالبہ کرنے کی مجاز نہیں ہے وہ شوہر کی استطاعت سے باہر کسی چیز کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ قرآن کریم میں بھی اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ مرد اپنی آمدنی کی مناسبت سے اخراجات کر ے۔ ان مادی ضروریات کے علاوہ بیوی کا یہ بھی حق ہے کہ اس کے ساتھ شفیقانہ برتاؤ کیا جائے۔ حضور اکرمؐ کا بھی ارشاد ہے کہ اہل ایمان کے درمیان وہ شخص مکمل ہے جوکہ اخلاق اور برتاؤ کے اعتبار سے سب سے زیادہ بہترین ہو۔اس لئے وہ لوگ بہترین ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔ جب کسی کو حقوق عطا کئے جاتے ہیں تو وہیں اس پر ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں لہذا بیویوں کی بھی اپنے شوہروں کے تئیں خصوصی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جس طرح شوہر اپنی بیوی کا تحفظ کرتا ہے اسی طرح وہ شوہر کی عدم موجودگی میں اس کے حقوق کی حفاظت کرے۔ ایک اچھی بیوی اپنے شوہر کے راز فاش نہیں کرتی ہے اور اپنا وقار قائم رکھتی ہے، ایک بیوی کو اپنے شوہر کی املاک کی بھی حفاظت کرنی چاہئے۔

ایک مسلم خاتون کو اپنے شوہر کے ساتھ لازمی طور پر تعاون کرنا چاہئے۔ تاہم یہ تعاون اس مرد کے ساتھ نہیں ہو سکتا جو کہ خداوند قدوس کے احکامات کی نافرمانی کرتا ہے یا مرتد ہے۔ اس مضمون میں مرد و خواتین کے حقوق اور ان کے فرائض کا اختصار کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ خواتین کی آزادی کے تعلق سے بھی اللہ تعالیٰ کے احکامات اور حضور پاکؐ کی ہدایات بھی موجود ہیں۔ اسلامی دائرے میں رہتے ہو ئے خواتین کو آزادی دی گئی ہے جنہیں مغربی ممالک آزادی نسواں تسلیم نہیں کرتے ہیں جبکہ ان کا مفروضہ قطعی طور پر غلط ہے۔ مذکو رہ بالا سطور کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام نے 1450 برس قبل خواتین کو کس اذیت ناک زندگی سے نجات دلائی تھی یہ اسلام کا ایک مثالی کارنامہ ہے۔ جس طرح عرب کے دانشوروں، سائنسدانوں، فلاسفروں نے مختلف شعبوں میں تحقیقات اور ایجادات کی تھیں آج انہیں اہل مغرب نے اپنے ناموں سے منسوب کر لیا ہے، بالکل اسی طرح وہ آزادی نسواں کے تعلق سے اپنا پرانا حربہ استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن جن غیر مسلموں نے قرآن کریم کے ترجمہ کا مطالعہ کر لیا ہے وہ اس حقیقت سے آشنا ہو گئے ہیں کہ خواتین کے ذریعہ نقاب زیب تن کرنے پر پابندی عائد کرنے سے خواتین کو آزادی نہ دینے کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام ہی ایسا واحد مذہب ہے جس نے ضابطے کے تحت خواتین کو آزادی دی ہے۔ حجاب زیب تن کرنے سے اسلام نے خواتین کی آزادی کو سلب نہیں کیا ہے۔ حجاب میں رہتے ہوئے خواتین کو ہر ایک شعبہ حیات میں کارنامے انجام دینے کی آزادی ہے۔ یہود و نصارہ اور دیگر غیر مسلموں نے آزادی نسواں کا جو ناقص جواز اختراع کیا ہے اس کے نتائج نہایت ضرر رساں ہیں جبکہ اس تعلق سے مذہب اسلام میں کسی بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ چنانچہ یہ بات پختہ عقیدہ اور وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اسلام خواتین کی آزادی کا دا عی مذہب ہے۔

([email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close