آپ کی آواز

عصرحاضر کا نیا فتنہ

بے ساختہ.....جمشید عادل علیگ

ہمارے سماج خاص کر نئی نسل پر سوشل میڈیا کا نشہ اس قدر حاوی ہو چکا ہے کہ معاشرہ نت نئے مسائل سے دوچار ہے، بے راہ روی پیدا ہو رہی ہے، جرائم کی نئی راہیں بھی کھل رہی ہیں، پب جی گیم بچوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کر رہا ہے، سوشل میڈیا کی وجہ سے خودکشی کی بھی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور غلط سلت افواہوں اور پرپیگنڈوں نے تو ملک کی فضا کو ایسا آلودہ کر دیا ہے کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور دیرینہ رواداری ڈرکر کہیں دبک گئی ہے، نام نہاد ہندوتو کا بول بالا ہے، دانشور طبقہ کے منھ پر بھی تالا لگ چکا ہے، لیکن بھلے ہی دانشور طبقہ چپ ہے، مگر سپریم کورٹ خاموش نہیں ہے۔ اس نے حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ اس کو روکنے کے لئے سخت گائیڈ لائن طے کی جائیں، تاکہ پرائیویسی کا تحفظ ہو سکے۔ آن لائن جرائم اور سوشل میڈیا پر گمراہ کن اطلاعات شیئر کرنے سے جس طرح سماج آلودہ ہو رہا ہے، یہ آلودگی ملک کی تہذیب، رواداری اور سیکولرزم کے منافی بھی ہے۔

بلاشبہ سوشل میڈیا آج کے دور کی سب سے اہم ضرورت بن چکا ہے، لیکن ضرورت حد سے تجاوز کر جائے اور نشے کا روپ اختیار کرلے تو ظاہر ہے، اس کے منفی اثرات ایک مہذب سماج کے لئے خطرناک تو ہوں گے ہی، بلکہ ملک پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ آج ہم نے خود اپنی زندگی سے نہ صرف ذاتی پرائیویسی کو ختم کر دیا ہے، بلکہ دوسروں کے ذاتی معاملات میں بھی داخل ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے نئے نئے پلیٹ فارم اس پرائیویسی میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔

وقت کا المیہ کہیں یا ماڈرن زندگی کا طربیہ کہ سوشل میڈیا اور اس کے نئے پلٹ فارم نئی ٹیکنالوجی عام زندگی پر اس قدر حاوی ہو چکے ہیں کہ نتیجے میں سارے تہذیب اقدار اور اخلاقی کردار سب گڈمڈ ہو گئے ہیں۔ ایک پختہ عمر کا شخص ہو یاکوئی نوخیز بچہ ہرطرف موبائل کی دھوم ہے۔ آپ کسی کے یہاں جائیے تو اکثر یہی منظرنامہ ملے گاکہ دور کونے میں کوئی صاحبزادے موبائل پر آنکھیں گڑائے بیٹھیں ہیں، بیگم صاحبہ بھی فون پر مصروف ہیں، نوکر اور نوکرانیاں بھی کونے میں فون کانوں سے چپکائے بیٹھیں ہیں۔ مہمان نوازی تو دور ایسے موقع پر کسی کی آمد بھی اہل خانہ کو گراں کزرتی ہے۔ سوشل میڈیا کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ والدین کو جو وقت گھر والوں اور بیوی بچوں کے درمیان گزارنا چاہیے وہ وقت سوشل میڈیا پر خرچ ہو رہا ہے۔ ملک میں بے روزگاری کی رفتار بڑھتی ہی جا رہی ہے، مگر نئی نسل اس سے بے پرواہ فون پر مصروف ہے۔ آپ اپنے اطراف میں دیکھئے، ٹرین اور بسوں کا نظارہ دیکھئے ہرکوئی مصروف نظر آتا ہے۔ سوشل میڈیا نے دیگر مسائل پر سوچنے کی قوت کو سلب کر لیا ہے۔ خطرناک صورتحال تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر فیک خبروں اور افواہوں نے نہ صرف ملک کے حالات خراب کئے ہیں، بلکہ نئی نسل کا کیرئیر بھی تباہ کر دیا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اب تک ملک میں ایک لاکھ 10ہزار سے زائد نوجوان اس سال ٹھگے جا چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر نوکری دلانے اور ایڈمیشن کے نام پر ٹھگنے کا سلسلہ دراز ہے۔ موبائل کے استعمال سے کرپشن میں 27 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے، پب جی سے بچوں کی اموات اور آن لائن خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بلاشبہ سوشل میڈیا کی وجہ سے بے پناہ فائدے بھی ہیں، دنیا گلوبلائیز ہو چکی ہے، ایک دوسرے سے پل بھر میں رابطہ ہو جاتا ہے، اظہار خیال کی صورت میں سوشل میڈیا سب کو عزیز ہے،جن بچوں کے ہاتھوں میں گیند اور بلا ہونا چاہیے، اب ان ہاتھوں میں موبائل ہے، اسپورٹس سے دلچسپی بھی باکل ختم ہوتی جا رہی ہے، لیکن سب سے بڑے خطرے کی بات یہ ہے کہ جہاں سوشل میڈیا معاشرے کو خطرناک موڑ کی طرف لے جا رہاہے، وہیں سوشل میڈیا کی وجہ سے اقتصادیات پر بھی ضرب پڑ رہی ہے، کب کس کے اکاؤنٹ ہیک ہو جائے اور پیسے نکل جائے، کب کس کی پرائیویٹ زندگی منظرعام پر آجائے؟ کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ ستم تو یہ ہے کہ ملک کی 80 فیصد نئی نسل سوشل میڈیا کی اتنی عادی ہو چکی ہے کہ اسے دوسرے امور پر سوچنے کی فرصت نہیں ہے۔ نئی نسل کی سوشل میڈیا کے تحت دیوانگی ملک کی ترقی اور تہذیبی عظمت کے لئے بھی شدید خطرہ ہے، کیونکہ نوجوان ہی ملک کے معمار ہوتے ہیں۔

سونے پہ سہاگا یہ کہ سوشل میڈیا کا سب سے بدنام پلیٹ فارم ’ٹک ٹاک‘ عصرحاضر کا ایسا فتنہ بن چکا ہے کہ تیزی سے نئی نسل کا کیریئر برباد کر رہا ہے، اس کے استعمال کرنے والوں کی عمر 15 سے 21 سال تک کے نوجوانوں کی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ٹک ٹاک نوجوانوں کو خود غرض، بے حس اور کسی حد تک بے ضمیر بھی بنا رہا ہے، جس کا نتیجہ ہے کہ نوجوان نہ صرف اخلاقیات کی حدود سے باہر نکل رہے ہیں، بلکہ لڑکیاں بھی شرم وحیا کو تیاگ کر بے حیائی کی طرف گامزن ہیں۔ ٹک ٹاک کے بے شمار ویڈیوز میں آج کی لڑکیاں ڈانس کرتی ہوئیں، فحش گفتگو کرتی ہوئی نظر آتی ہیں اور نئی نسل کو بے راہ روی اختیار کرنے پر مجبور کر رہی ہیں، مگر یہ تہذیبی انحطاط صرف ٹک ٹاک تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ سوشل میڈیا پر بہت سارے پلٹ فارم ہیں، جہاں فحاشی کی ایک نئی دنیا بسی ہوئی ہے، لیکن ہم اسے مارڈن تہذیب کی علامت سمجھ کر دانشور طبقہ خاموش ہے، سیاست داں خاموش ہیں، ملک خاموش ہے۔ سوشل میڈیا کے اس کریہہ شکل کے خلاف مظاہرہ سڑکوں پر نظر نہیں آتا، ہر سمت ایک بے حس خاموشی ہے۔ لیکن سپریم کورٹ خاموش نہیں ہوا ہے، وہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو ہندوستان کے سماج کے لئے انتہائی مضر قرار دے رہا ہے، اس پر قدغن لگانے کی ہدایت کر رہا ہے۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ آج کی تہذیب، آج کی سیاست اور آج کے اقتدار کا انحصار اب سوشل میڈیا کی تشہیر اور تدبیر پر ہی منحصر ہے۔ ایسے عالم میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے ٹھوس لائحہ عمل بنے گا یہ بھی ایک بڑاسوال ہے۔

(Writer: Jamshed Adil Alig………………………..E-mail: [email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close