آپ کی آواز

عدم رواداری کے نئے شکار ہمارے فلم اسٹار

فکرونظر....ڈاکٹر شفیع ایوب

ملک میں عصبیت، کٹّرپن، عدم رواداری، اسہشڑُتا، اِنٹالرینس کے حوالے سے چلنے والی بحث میں اب ہمارے فلم اسٹار نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔ ابھی حال میں نصیرالدین شاہ پر چو طرفہ حملے شروع ہوئے، آشوتوش رانا بھی نشانے پر ہیں۔ اس سے پہلے عامر خاں کا حال ہم سب نے دیکھا تھا۔ عامر خان ایک ٹی وی پروگرام میں بول رہے تھے، جب ان سے ملک کے حالات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے اپنی بیوی کرن راؤ کے حوالے سے کہا کہ ہاں گزشتہ چند مہینوں میں ملک میں عدم رواداری بڑھی ہے۔ عامر خان کے بیان کے حوالے سے چند باتیں بے حد اہم ہیں۔

پہلی بات یہ کہ عامر خان نے یہ کبھی نہیں کہا کہ وہ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ انھوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ملک پوری طرح عدم رواداری کا شکار ہو چکا ہے۔ انکے بیان کو نہ جانے کن کن حوالوں سے پیش کیا جا رہا ہے۔ بہت سے غیر ذمّہ دار ٹی وی چینل والے غلط ڈھنگ سے عامر خان کے بیان کی تشریح کر رہے ہیں اور کئی مقامات پر تو یہ جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے۔ عامر خان نے ملک کو کب برا کہا؟

عامر خان نے ملک کے تمام لوگوں کو کب عصبیت کا شکار بتایا؟ انھوں نے جو اشارہ کیا ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ ابھی ہندی کے ایک مشہور شاعر نے کہا ہے کہ ملک میں سو لوگ ایسے ہونگے جن کی وجہ سے ملک بدنام ہو رہا ہے۔ آپ ہم سبھی ان سو لوگوں کا نام جانتے ہیں۔ لیکن شاید ملک کی ہوم منسٹری کو ان کے نام نہیں معلوم ہیں۔ ورنہ ان سو لوگوں کو اب تک کب کا جیل میں ڈال چکے ہوتے۔ سوا سو کروڑ کی آبادی والے ملک میں سو لوگوں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ وہ اہلِ ملک کے جذبات سے جب چاہیں، جیسے چاہیں کھیل سکتے ہیں اور جب عامر خان جیسا ملک کا باوقار شہری اپنا دکھ بیان کرتا ہے تو ہم شرمندہ ہونے کے بجائے اسے ہی نشانے پر لے لیتے ہیں۔ ایک اور اہم بات کہ جو یہ کہہ رہے تھے کہ وہ ان کی بیوی کی رائے تھی جن کا نام کرن راؤ ہے، جو خود ایک فلم کار ہیں۔ وہ اپنی رائے رکھتی ہیں۔ جب کرن راؤ کو لگتا ہے کہ ملک کے حالات اتنے خراب ہیں کہ ملک چھوڑ کر کہیں اور جانے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے، یہ باتیں پہلے سے کہی جا رہی ہیں۔ ملک کے مختلف حصّوں سے یہ آوازیں آ رہی ہیں اور مسلسل آ رہی ہیں۔ بھاجپا کے لیڈر ان تمام لوگوں کو ایک طرح سے ملک کا غدّار قرار دے رہے ہیں۔ وہ سائنس داں ہوں، ادیب ہوں، شاعر ہوں، سماجی کارکن ہوں یا پھر دوسرے فنکار ہوں۔ وہ جب بھی ملک میں بڑھتی ہوئی عصبیت کی بات کرتے ہیں تو بجائے اس کے کہ سادھوی نرنجن، گری راج سنگھ، سادھوی پراچی، پروین توگڑیا اور ساکشی مہاراج جیسے لوگوں کو نشانہ بنانے اور ان پر لگام لگانے کی بات کرنے کے وہ کہنے والوں کو ہی ملک کا غدّار کہنے لگتے ہیں۔ ملک کی شبیہ بگاڑنے والا قرار دیا جاتا ہے۔

جو لوگ ملک کا وقار داؤں پر لگا رہے ہیں، اہلِ اقتدار کے پیارے ہیں، وہ اہلِ اقتدار کی آنکھوں کے تارے ہیں۔ عامر خان کے بیان کے بعد بھاجپا کے نیشنل ترجمان کہہ رہے تھے کہ عامر خان جو بیان دے رہے ہیں اس سے ملک کے کردار پر دھبہّ لگتا ہے، لیکن وہ یہ نہیں بتاتے ہیں کہ سادھوی نرنجن جیوتی، سادھوی پراچی، یوگی آدتیہ ناتھ، ساکشی مہاراج، پروین توگڑیا اور گریراج سنگھ جیسے لوگوں کے بیان سے تو ملک کا وقار بلند ہوتا ہے۔ عامر خان کے بیان کے بعد میڈیا میں جو طوفان اٹھا ہے اسے ذرا غور سے دیکھنے اور سننے کی ضرورت ہے۔ آپ غور سے دیکھیں کہ کن کن لوگوں کا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ بھاجپا کے بڑے نیتا اور مدھیہ پردیش بھاجپا کی حکومت میں اہم وزیر رہے کیلاش وجے برگیہ کوئی چھوٹے موٹے نیتا نہیں ہیں۔ ابھی کچھ روز پہلے انھوں نے شاہ رخ خان کو پاکستان چلے جانے کا مشورہ دیا تھا۔ اب عامر خان کو بھی انھوں نے اپنے انداز میں جواب دیا ہے۔ کیلاش وجے ورگیہ نے کہا ہے کہ عامر خان کا کالا دھن ودیش میں ہے، اس لئے وہ ملک چھوڑ کر کسی اور ملک میں بسنا چاہتے ہیں۔ کیلاش وجے ورگیہ بھاجپا کے بڑے لیڈر ہیں، پارٹی کے نیشنل جنرل سیکریٹری ہیں، ان کے بیان کو ہلکے میں نہیں لینا چاہئے۔ اگر عامر خان نے غیر ملکوں میں کالا دھن جمع کر رکھا ہے تو یہ حکومت کر کیا رہی ہے؟ وہ عامر خان کا کالا دھن ملک میں واپس کیوں نہیں لاتی ہے؟

پردھان منتری نے ملک سے وعدہ کیا تھا کہ سو دنوں میں کالا دھن ملک میں واپس لایا جائے گا، اب ان کے ایک بہت بڑے لیڈر کو معلوم ہے کہ عامر خان کے پاس کالا دھن ہے تو حکومت کی ذمّہ داری ہے کہ جلد ازجلد وہ کالا دھن ملک میں واپس لایا جائے۔ عامر خان ممبئی میں رہتے ہیں، وہاں بی جے پی کی ہی حکومت ہے۔ مرکز میں بھی بی جے پی کی حکومت ہے۔ وہ بھی اب تک کے سب سے قابل پردھان منتری کی سرکار ہے۔ آپ کس بات کا انتظار کر رہے ہیں؟ کارروائی کیوں نہیں کرتے؟ باتیں کیوں بناتے ہیں؟ کارروائی کیجئے، باتیں بنانا بند کیجئے، بیان دینا بند کیجئے۔ کیلاش وجے ورگیہ نے بتایا تھا، کہ عامر خان غیر ملکوں میں کالا دھن رکھتے ہیں۔ اگر وہ سچ بول رہے ہیں تو عامر خان کا کالا دھن فوراً ملک میں واپس آنا چاہئے اور اگر کیلاش وجے ورگیہ غلط بیانی کر رہے ہیں تو انھیں عبرت ناک سزا ملنی چاہئے۔

(Writer: Dr. Shafi Aiyub………………………..E-mail: [email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close