تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

عام انتخابات 2019: پہلے مرحلے میں بی جے پی کی بوکھلاہٹ نمایاں

مسلم خواتین کے حجاب میں ووٹ ڈالنے پر بی جے پی کے امیدوار سنجیو بالیان کی زہر افشانی، مذہبی بنیاد پر چہرہ دکھانے پر اعتراض ہے تو ووٹ مت دو کانگریس نے کہا کہ اپنے دماغ کا علاج کرائیں بالیان

نئی دہلی (انور حسین جعفری)

عام انتخابات 2019 کا آج پہلے انتخابی مرحلے کے ساتھ آغاز ہو گیا ہے۔ ملک بھر میں ہو رہے عظیم اتحاد سمیت اترپردیش میں اتحاد سے بی جے پی امیدواروں کی بوکھلاہٹ بھی صاف طور پر دکھائی دینے لگی ہے۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلم خواتین کے حجاب میں ووٹ دینے آنے پر ہی بی جے پی امیدوار نے اعتراض جتاتے ہوئے نہ صرف برقعہ کے خلاف بیان دیا ہے بلکہ برقعہ کا فتویٰ دینے والوں پر بھی کاروائی کرنے کو کہا ہے۔

مغربی اترپردیش کے مظفر نگر میں ہوئے مسلم کش فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کے ملزم رہے مظفر نگر سے ایم پی اور بی جے پی کے امیدوار سنجیو بالیان نے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے دن مسلم خواتین کے حجاب پر متنازعہ بیان دیا ہے۔ سنجیوں بالیان نے مسلم خواتین کے برقعہ پہن کر ووٹ دینے پر زہر افشانہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر آپ کو مذہبی بنیاد پر چہرے دکھانے کےلئے اعتراض ہے تو ووٹ نہ دیں، یہ جمہوریت ہے یہاں بغیر منہ دیکھے ووٹ نہیں ڈالا جا سکتا۔ سنجیو بالیان نے مسلم خواتین کے برقعہ میں ووٹ ڈالنے کو فرضی ووٹنگ ہونا بتاتے ہوئے الزام لگایا کہ برقعہ میں ووٹ دینے آنے والی خواتین کی چیکنگ نہیں کی جا رہی ہے۔ جنہوں نے اس طرح کی فتوی جاری کیا ہے ان پر پابندی عائد کی جائے۔ یہ بھارت ہے، جمہوری ملک ہے چہرہ دیکھے بغیر کیسے ووٹ ڈالا جائے گا۔

حالانکہ بالیان کے مسلم مخالف بیان پر کانگریس نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالیان اپنے دماغ کا علاج کرائیں۔ وہیں بالیان کی جانب سے مسلم خواتین کے برقعہ میں ووٹ دینے کے اعتراض اور شکایت پر الیکشن کمیشن نے بالیان کو جھاڑ لگائی ہے۔ واضح رہے کہ سنجیو بالیان بی جے پی مرکزی حکومت میں وزیر ہیں اور مظفر نگر لوک سبھا سیٹ سے بی جے پی کے امیدوار ہیں۔ بالیان پر مظفر نگر میں مسلم کش فسادات کو بھڑکانے کا بھی الزام لگ چکا ہے، جس کے بعد بالیان 2014 میں بی جے پی کے ٹکٹ پر مظفر نگر سے بی ایس پی کے امیدوار قادر رانا کے مقابلے چناؤ لڑکر ایم پی بنے تھے۔

ایک بار پھر سنجیو بالیان نے ایک نیا تنازعہ پیدا کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم خواتین ووٹرز برقعہ پہن کر ووٹ ڈالنے آ رہی ہیں جن کی چیکنگ نہیں کی جا رہی۔ بالیان یہیں نہیں رکے انہوں نے الزام لگایا کہ جعلی ووٹنگ چل رہی ہے خواتین سیدھا جا کر ووٹ کر رہی ہیں، کوئی برقعہ پہن کر کتنی مرتبہ بھی ووٹ ڈال رہا ہے، اس کی جانچ نہیں ہو رہی ہے۔ بالیان نے کہاکہ انتخابی افسران کا کہنا ہے کہ ان کے پاس خاتون اسٹاف نہیں ہے۔ اگر خواتین اہلکار نہیں ہیں تو مرد چہرہ چیک کریں لیکن اس ملک میں یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ بغیر چہرہ دیکھے ووٹ ڈالنے دیں۔ یہ بھارت ہے، یہ ایک جمہوری ملک ہے، چہرے کو دیکھے بغیر ووٹ نہیں ڈال سکتے۔ اگر آپ کو مذہبی بنیاد پر چہرے کو دکھانے میں اعتراض ہے تو اس کےلئے ووٹ مت دیں۔

غرض یہ کہ آج عام انتخابات کا پہلا مرحلہ تھا، جس میں بی جے پی کو اپنی کرسی سرکتی ہوئی نظر آ رہی ہے، جس سے ان کے امیدوار بوکھلا گئے ہیں۔ بی جے پی امیدوار کی بوکھلاہٹ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بالیان کہہ رہے ہیں کہ وہ مظفر نگر سیٹ پر دوبارہ الیکشن کرائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ کچھ مقامات پر بعد میں دستخط کیے جا رہے ہیں لیکن ووٹ پہلے ہی کیا جا رہا ہے، خواتین بغیر ستخط ووٹ ڈال آئی اور افسر نے بعد میں کہا کہ دستخط کر دو۔

غرض یہ کہ لوک سبھا انتخابات 2019 کے پہلے مرحلے آج 20 ریاستوں میں 91 سیٹوں پر مجموعی طور پر 1279 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ رائے دہندگان نے ای وی ایم میں محفوظ کر دیا ہے۔ مغربی اترپردیش کے جن لو ک سبھا حلقوں میں آج ووٹنگ کی گئی ان میں سہارنپور، کیرانہ، مظفر نگر، بجنور، میرٹھ، باغپت، غازی آباد اور گوتم بدھ نگر (نوئیڈا) شامل ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close