دلی این سی آر

عالمی تجارت میلہ میں ’ہنر ہاٹ‘ توجہ کا مرکز

مختلف ریاستوں سے آئے سیکڑوں استاد پیش کر ہے ہیں اپنے فن دست کاری کے جو ہر

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
پرگتی میدان میں عالمی تجارت میلہ 2019جا ری ہے۔ جو 27نو مبر تک جا ری رہے گا،اس عالمی تجارت میلے میں دنیا کے مختلف ممالک سمیت ملک بھر کی مختلف ریاستوں سے تاجر اپنے پرو ڈکٹ لیکر مو جود ہیں۔جن کو لوگ بیحد پسند کر رہے ہیں۔

عالمی تجارتی میلے میں ایک بار پھر ہندوستانی فن دستکاری سے دنیا کو متعارف کر انے کیلئے مرکزی وزارت اقلیتی امور کی جانب سے سجایا گیا ’ہنر ہاٹ‘ سیاحوں کی تو جہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔فن دست کاری کے اس ہنر ہاٹ میں زبردست بھیڑ نظر آ رہی ہے۔ملک کی مختلف ریاستوں سے حا شیے پر پہنچ چکے ہندوستان کے قدیم روایتی ہنر،فن دستکاری اور کا ریگری کے استادوں کو رو ز گار کے مواقع فراہم کر نے کیلئے ایک چھت کے نیچے ’ہنر ہاٹ‘ میں جمع کیا گیا ہے۔

مرکزی اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی کی دلچسپی اورکوشش سے منعقد اس ہنر ہاٹ میں ملک کے کو نے کو نے سے سیکڑوں دستکار، شلپکار، کا ریگر اپنے فن کے جوہر دکھانے پہنچے ہیں۔ جو مرکزی اقلیتی وزیر مختار عباس نقوی کے شکر گزار ہیں کہ ان کے فن کو رو ز گار کا موقع فراہم کر نے اور ایک بار پھردنیا کے رو برو پیش کر نے کیلئے ان کو ایک بین اقوامی تجارتی پلیٹ فارم مہیا کر ایا گیا ہے۔

ہندوستانی خواتین کی پہلی پسند چو ڑیوں اور کنگن میں را جستھان کے جے پور سے ’لاک‘ کے کنگن اور چو ڑیاں لیکر ہنر ہاٹ میں آ ئے محمد ظفر بتا تے ہیں کہ راجستھان میں لاکھ کی چوڑی یا کنگن پہننا سہاگن کا شگن مانا جا تا ہے۔ لیکن اب یہ کا م بہت کم رہ گیا ہے۔ یہاں دہلی میں اس بین اقوامی تجارت میلے میں مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے نہ صرف لاک کی چوڑیوں کے کام کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے بلکہ اس جیسے متعد د دستکاری کی اشیاء کو عوام کے سامنے لانے کا موقع فراہم کیا ہے۔محمد ظفر بتا تے ہیں کہ جے پور کے ایک منیہار خاندان سے تعللق رکھتے ہیں اور پانچ سال کی عمر سے لاک کی چوڑیاں اور کنگن بنانے کا کم کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کا بیٹا محمد زبیر موجود ہے اور ان کے کام کو یہاں فروغ مل رہا ہے، را جستھانی چو ڑیاں اور کنگن خواتین بیحد پسند کر رہی ہیں۔

گھروں میں اہم ضرورت ہینڈ لوم کی بنی خوبصورت بیڈ شیٹ اور چادروں کے ساتھ اتر پردیش کے بجنور ضلع کے سہس پور سے ہنر ہاٹ میں آئے استاد دستکار معراج الدین انصاری اور انعام الدین انصاری نے بتا یا کہ’ہنر ہاٹ‘ واقعی امپاور منٹ اور مپلائمنٹ کا ایکس چینج بن رہا ہے۔ یہاں فن دست کاری سے تیار اشیاء کو لوگ بہت پسند کر رہے ہیں۔ ہم ہینڈ لوم میں کثیر محنت سے ہاتھوں سے تیار کی گئی خوبصورت چادریں اور بیڈ شیٹ لیکر آئے ہیں جنہیں لوگ بہت پسند کر رہے ہیں۔

نعراج الدین اور انعام الدین نے بتا یا کہ وہ اس ہنر ہاٹ میں ڈسکاؤنٹ کر کے ڈبل بیڈ کی چا دریں 12سو اور سنگل بیڈ کی چادریں 8سو روپے میں فروخت کر کے اس فن دست کاری کو گھر گھر پہنچا نے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے بتا یا کہ پاور لوم آ نے کے بعد ہاتھوں سے بنے جا نے والے ہینڈ لوم کے کام ختم ہو تے جا رہے ہیں۔ ہینڈ لوم میں زیادہ وقت اور محنت ہے لیکن اس کی بنائی بہت مضبوط اور خوب صورت ہو تی ہے۔ یہ فن دست کاری جو حاشیے پر پہنچ چکا تھا اس کو مرکزی وزارت اقلیتی امور نے ایک بار پھر زندہ کر کے اسے رو ز گار سے جوڑ نے کی کوشش کی ہے۔

چوری ساز محمد ظفر اور بنکر محمد معراج الدین نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ ہنر ہاٹ میں آئے ہیں، لیکن یہاں آکر احساس ہوا کہ ابھی فن دستکار ی کے قدر دان موجود ہیں۔ اس کیلئے ہم مرکزی وزیر مختارر عباس نقوی اور اینایم ڈی ایف سی کے منیجنگ ڈائرکٹرشہبازعلی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس ختم ہو تے جا رہے فن دستکاری کو منظر عام پر لانے، اس کے فروغ کیلئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرانے کا م انجام دیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close