تازہ ترین خبریںدلی نامہ

عازمین حج کا دہلی ایئر پورٹ سے روانگی کا سلسلہ جاری

17حج پروازوں سے تقرباً 6 ہزار سے زیادہ عازمین ہوچکے ہیں مدینہ روانہ.....حج کیمپ میں دہلی پولیس کی ناقص کارکردگی آئی سامنے، میٹل ڈٹیکٹر اور اسکینرس ہونے کے باوجود پولیس والے نہیں کر چیکنگ، پو لیس اہلکار موبائل چلانے میں مست

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
ملک کے سب سے بڑے امبارکیشن پوائنٹ اندرا گاندھی بین اقوامی ہوائی اڈے سے حج بیت اللہ 2019 کے مبارک سفر پر روانہ ہونے والے عازمین حج کی ایئر انڈیا کی حج پروازوں کے ذریعہ روانگی جاری ہے۔ 3جولائی سے دہلی سے شروع ہوئی حج پروازوں میں اب تک 17حج پروازیں دہلی سمیت مختلف ریاستوں کے تقریباً 6ہزار سے زیادہ عازمین کو لیکر مدینہ منورہ روانہ ہو چکی ہیں۔ دہلی امبارکیشن سے دہلی سمیت پنجاب، ہریانہ، چنڈی گڑھ، اترا کھنڈ، مغربی اتر پردیش، جمو اور کشمیر، ہمانچل کے عازمین کے روانہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دہلی میں عارضی مقیم ہونے کے سبب اپنے امبارکیشن تبدیل کرانے والے اڑیسہ، جھاڑ کھنڈ، بہار اور دیگر ریاستوں کے بھی کچھ عازمین بھی روانہ ہوتے ہیں۔

دہلی امبارکیشن پوائنٹ سے روانہ ہونے والے عازمین کی سہولت کیلئے دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے زیر اہتمام جہاں حج منزل میں حج کمیٹی آف انڈیا کے عملہ کے ذریعہ عازمین کو ٹکٹ پاسپورٹ تقسیم کئے جا رہے ہیں وہیں دہلی کمیٹی کی جانب سے مختلف ریاستوں سے آنے والے عازمین حج کے قیام کیلئے درگاہ فیض الٰہی اور رام لیلا میدان میں تمام سہولتوں سے آراستہ عارضی حج کیمپ بھی لگایا گیا ہے۔ جہاں ان کے تحفظ، صحت سمیت دیگر انتظامات کئے گئے ہیں۔ یہیں سے عازمین بسوں کے ذریعہ ایئر پورٹ کیلئے روانہ کئے جاتے ہیں۔ یہاں مختلف ریاستوں کے عازمین اور ان کے رشتہ داروں کی مدد کیلئے سینئر چیف وارڈن سید سعود زید کی کمان میں تقریباً 90 دہلی سیول ڈفینس کے اہلکار تین شفٹوں میں بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ اس بار پہلی مرتبہ جمعیۃ علماء ہند کے ذریعہ بھارت اسکاؤٹ اینڈ گائڈس کے جوان بھی تعینات کئے گئے۔ جو دل سے عازمین کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔

حالانکہ عازمین حج کے تحفظ اور کسی بھی ناخوش گوار واقعہ سے نبٹنے کیلئے یہاں دہلی پولیس کے جوان تعینات کئے گئے ہیں۔ لیکن یہ قابل فکر ہے کہ جس دہلی پولیس کے اوپر عازمین کے تحفظ کی ذمہ داری ہے وہ غیر ذمہ داری کی ثبوت پیش کر رہی ہے۔ اسی طرح عازمین کی صحت کے لئے تعینات میڈیکل عملہ بھی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ دہلی پولیس کے جوانوں کی لاپروائی کے سبب ہزاروں عازمین اور ان کے رشتہ داروں کا تحفظ خطرے میں پڑا ہے۔ ستم ضریفی ہے حج منزل اور عارضی حج کیمپ پر ہزاروں لوگوں کی آمد درفت کے باوجود دہلی پولیس کا عملہ لاپروائی اور غیر سنجیدگی کامظاہرہ کر رہا ہے۔ حج منزل ہو یا عارضی کیمپ ہو یہاں حفاظتی نقطہ نظرسے یہاں میٹل ڈٹیکٹر لگائے گئے ہیں جبکہ سامان اسکین کرنے کیلئے اسکینر لگائے گئے ہیں لیکن نہ تو میٹل ڈٹیکٹر پر پولیس والے ہوتے ہیں اور نہ ہی ایکس رے پر سامان چیک کر رہے ہیں، جبکہ فیس چیکنگ تک پولیس والے نہیں کر رہے۔

صورت حال یہ ہے کہ ہزاروں لوگ بغیر چیک ہوئے آ جا رہے ہیں لیکن پولیس والے بجائے ان کو چیک کرنے کے کولر اور پنکھوں کے آگے گیٹ سے دور آرام فرماتے نظر آتے ہیں یا پھر موبائل میں گیم کھیلتے رہتے ہیں جبکہ رات میں بجائے ڈیوٹی دینے کے یہ لوگ ٹولی بنا کر تاش کھیلتے ہیں۔ رام لیلا میدان میں گاڑیوں کی پارکینگ ہونے کے سبب اسی جانب سے حاجیوں کی بسیں اور گاڑیاں آتی اور جاتی ہیں، یہاں سے حاجی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ داخل ہوتے ہیں لیکن دہلی پولیس کے یہ جوان جن کو حاجیوں کی حفاظت کی ذمہ داری دی گئی وہ کسی کو چیک نہیں کرتے، ان کو کسی کے آنے جانے سے کوئی مطلب نہیں ہے وہ موبائلوں میں لگے رہتے ہیں۔ بھلے ہی کوئی غیر سماجی عناصر داخل ہو جائے یا کسی کو کو ئی نقصان پہنچے، یہ صرف اپنی ڈیوتی موبائل کھیل کر پوری کر رہے ہیں۔ جبکہ صرف امدادی ڈیوٹی ہونے کے باوجود تمام حفاظتی ذمہ داریاں دہلی سیول ڈفینس کے اہلکار انجام دینے کی کوشش میں مصروف ہیں اور دہلی پولیس کے جوان آرام فرماں رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حج کیمپ میں جہاں ہزاروں کی آمد و درفت جاری ہے ایسے میں اگر دہلی پولیس کے جوانوں کی لاپروائی سے کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش ا ٓیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟۔

واضح رہے کہ3 جولائی کی دیر رات روانہ ہونے والی پہلی حج پرواز کے بعد آج تک روانہ ہونے والی کل 17حج پروازوں میں دہلی کے 369، پنجاب کے 324، ہریانہ کے 2404، چنڈی گڑھ کے 33، مغربی اتر پردیش کے 777، ہمانچل کے 62 عازمین سمیت اڑیسہ کے 4 اور جھاڑ کھنڈ کے 2عازمین حج بیت اللہ کی سعادت کے لئے روانہ ہوئے ہیں۔ جبکہ ابھی اتراکھنڈ اور جموں اور کشمیر کے حاجی روانہ نہیں ہوئے ہیں۔ یہاں یہ بھی بتا دیں کہ پہلے کی طرح دہلی والوں کی مکمل حج پروازیں اب نہیں ہوتی بلکہ ہر حج پرواز میں دہلی امبارکیشن سے روانہ ہونے والے مختلف ریاستوں کے عازمین ملے جلے ہوتے ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close