اپنا دیشتازہ ترین خبریں

ظلم وجبر سے نہیں دبائی جا سکتی لوگوں کی آواز: سونیا گاندھی

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے کہاہے کہ جمہوریت میں لوگوں کو حکومت کی غلطیوں اور فیصلے کے خلاف آواز اٹھانے کا پورا حق ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے عوام کی آواز دبانے کےلیے ظلم وجبر کا راستہ اختیار کیا ہے۔

محترمہ گاندھی نے جمعہ کو یہاں جاری ایک ویڈیو پیغام میں شہریت ترمیمی قانون کو امتیازی سلوک پر مبنی قرار دیا اور کہاکہ نوٹ بندی کی طرح لوگوں کو ایک بار پھر اپنی اور اپنے آباواجداد کی شہریت ثابت کرنے کے لیے لائن میں کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس سے غریبوں اور کمزور لوگوں کو سب سے زیادہ نقصان ہوگا اس لیے لوگوں کی تشویش جائز ہے۔ اس مسئلہ پر کانگریس لوگوں کے ساتھ ہے اور عوام کے مفاد کے تئیں عہد بند ہے۔

انھوں نے کہاکہ یہ تشویش کی بات ہے کہ اس قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے طلبا، نوجوانوں اور شہریوں کے ساتھ بے رحمانہ سلوک ہو رہا ہے اور انھیں کچلا جا رہا ہے۔ یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں میں طلبا کے ذریعہ اس قانون کی مخالفت فطری ہے اور لوگوں کو حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے کا حق ہے۔

کانگریس صدر نے کہاکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی آواز دبانے کے بجائے اسے سنے لیکن یہ بات تکلیف دہ ہے کہ بی جےپی حکومت نے لوگوں کی آواز کو نظرانداز کیا ہے۔ یہی نہیں ان کی آواز دبانے کے لیے انتہائی سفاکانہ طریقہ سے طاقت کا استعمال کیا ہے۔ جمہوریت میں یہ قابل قبول نہیں ہے اور کانگریس مرکزی حکومت کے اس سلوک کی مذمت کرتی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close