تازہ ترین خبریںدلی نامہ

طوطی ہند حضرت امیر خسرو حقوق انسانی کے قدیم پیروکار: ڈاکٹر تقی عابدی

نیشنل امیر خسرو سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک لیکچر بعنوان ’’امیر خسرو دہلوی‘‘ کا انعقاد غالب اکیڈمی، بستی حضرت نظام الدین اولیا میں کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت اردو کے نامور استاذ، محقق، و نقاد پروفیسر شمیم حنفی نے انجام دئیے۔

پروگرام کا آغاز متین امروہی نے اپنے تہنیتی کلام سے کیا۔ ۔اس کے بعد جناب خلیل الرحمن ایڈوکیٹ نے اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے کہا کہ تقی عابدی نے اردو کی شمع ممالک مغرب و وسط ایشیا میں جلا رکھی ہے وہ نہ صرف ایک اچھے ڈاکٹر ہیں بلکہ ان کی اردو اور فارسی میں جو خدمات ہیں انہیں فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ دراصل عابدی صاحب اردو کی قندیل ہیں جو تمام دنیا میں اردو کی روشنی پھیلانے میں مصروف ہیں۔

بعد ازاں ڈاکٹر عقیل احمد، سکریٹری غالب اکیڈمی نے شاہد ماہلی کے نئے مجموعہ کلام ’’رنگ سب رنگ‘‘ پر بولتے ہوئے کہا کہ شاہد صاحب کا گذشتہ کلام میں نے پڑھا ہے اور وہ ایک کہنہ مشق شاعر ہیں جنہوں نے ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ اردو زبان کی ترقی و ترویج کے لئے بیش بہا خدمات انجام دئے ہیں ۔ تقی عابدی نے اپنے لیکچر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ میں براستہ ترکی ہندوستان آیا ہوں جہاں میں نے سات جگہوں پر امیر خسرو سے متعلق لیکچر دئیے ہیں۔ آج میں بستی نظام الدین میں موجود ہیں جہاں اردو و فارسی کے تین کوہ نور صرف ڈیڑھ کلومیٹر کے اندر مدفون ہیں جن میں ایک امیر خسرو، دوسرے عبدالقادر بیدل اور تیسرے مرزا اسد اللہ خاں غالب۔

امیر خسرو کے والد ترک النسل تھے جبکہ ان کی والدہ ہندوی خاتون تھیں اور وہ پٹیالی میں پیدا ہوئے اور ان کا انتقال دہلی میں ہوا اور بستی نظام الدین میں حضرت نظام الدین اولیا کی پائنتیوں ان کا مزار ہے.

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close