اپنا دیشتازہ ترین خبریں

طلبا نے ثابت کردیا کہ ملک کے دستور کو کمزور نہیں ہونے دیں گے: مدنی

شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف ملک بھر میں نوجوانوں اور خواتین کے احتجاج کا خیر مقدم کرتے ہوئے جمعۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید محمد ارشدمدنی نے کہا کہ یہ نوجوان اور بچیاں ملک کے دستور کو بچا رہی ہیں اور حکومت انہیں نظرانداز نہیں کر سکتی ہیں۔

مغربی بنگال جمعۃ علماء کے زیر اہتمام منعقد دستور بچاؤ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ تحریک آزادی کے وقت کانگریس قیادت نے جمعیت علماء ہند جیسی مذہبی جماعتیں جو تحریک آزادی میں یکساں سرگرم تھیں کو یقین دلایا تھا کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد ملک کا دستور سیکولر ہوگا جس میں ملک کے ہرایک باشندے اور شہریوں کو یکساں حقوق اور مواقع حاصل ہوں گے۔ مسلم لیگ اور ہندو مہاسبھا کی وجہ سے ملک آزادی کے ساتھ تین ٹکروں میں تقسیم ہوگیا۔ یہ قدرت کا فیصلہ تھا۔ مگر آزادی کے بعد جمعیت علماء ہند نے گاندھی جی، پنڈت جواہر لال نہرو اور دیگر قائدین کو یاد دلایا کہ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ دستور سیکولررہے گا۔ اس وقت ملک کی قیادت شریف لوگوں کی تھی ان لوگوں نے اس وعدے کو پورا کیا اور ملک کے دستور کو سیکولر دستور بنایا جس میں مذہب کی کوئی تفریق نہیں تھی۔

مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ مگر آزادی سے قبل سے ہی ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس ملک کو ایک خاص نظریہ اور ہندوتو کی راہ پر گامزن کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ہندوستان کی آزادی کے بعدا س جماعت نے ملک کے سیکولر دستور کی شدید مخالفت کی مگر ان کی نہیں سنی گئی مگر یہ ملک کی بدقسمتی تھی یہ فرقہ پرست جماعت دھیرے دھیر ے مضبوط ہوتی چلی اور آج ان کے لوگ اقتدار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔مولانا نے کہا کہ یہ وہ لوگ جنہیں ملک کے دستوری ڈھانچہ کبھی بھی پسند نہیں آیا ہے۔چنانچہ ملک کو ہندو راشٹر بنانے کیلئے انہوں نے شہریت ترمیمی ایکٹ قانون پاس کیا ہے۔

مولانا نے کہا کہ آج ہمارے وزیر اعظم نے کلکتہ شہر میں ہی کہا ہے کہ یہ قانون کسی بھی فرقے اور مذہب کے خلاف نہیں ہے۔یہ قانون شہریت دینے والا قانون ہے۔مگر یہ جھوٹ ہے اگر یہ لوگ نیک نیت ہوتے تو اس ایکٹ پر کہتے کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں مذہبی بنیاد پر پریشان لوگوں کو شہریت دی جائے گی۔مگر ان لوگوں نے جان بوجھ کر ہندو،سکھ، عیسائی،بدھشٹ کا نام لیا گیا اور جان بوجھ کر مسلمانوں کا نام نہیں لیا۔کیوں کہ وہ فرقہ وارانہ ذہنیت کے حامل لوگوں کو یہ یہ پیغام دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو پریشان کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس قانون کو این آر سی سے جوڑا جارہا ہے۔

مولانا نے کہا کہ آسام کا تجربہ ہمارے سامنے ہیں کہ کس طریقہ غریب اور پسماندہ طبقہ چاہے وہ مسلمان ہو یا پھر ہندو یا کوئی اور، سبھوں کو پریشان کردیا تھا۔مولانا نے کہا کہ جمعیت علماء کی بنیادی مقاصد میں لکھا ہو ا ہے کہ جمعیت ملک کے تمام طبقات اورمذاہب کے درمیان ہم آہنگی کا ماحول پیدا کرنے کیلئے کام کرے گی۔چنانچہ گزشتہ سو سالوں سے ہم ملک میں آہنگی کیلئے کام کررہے ہیں چنانچہ آسام میں جہاں ہم نے ڈی ووٹر قرار دیے گئے سیکڑوں مسلمانوں کا کیس لڑا ہے وہیں 1400ہندو خاندان کا بھی کیس لڑا ہے۔ مولانا ارشدمدنی نے ممتا بنرجی اور کیرالہ حکومت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کے اعلانات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ ان دونوں حکومت نے ملک کے سیکولردستور کی حفاظت کیلئے جرأت مندانہ قدم اٹھایا ہے ساتھ ہی این آر سی، شہریت ترمیمی ایکٹ اور این پی آر کی مخالفت کررہے کالجوں کے نوجوان بچے اور بچیوں کے احتجاج کی بھی قدر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات سالوں سے یہ لگ رہا تھا کہ یہ حکومت ملک کے آئینی ڈھانچے کو کمزور کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے مگر شہریت ترمیمی ایکٹ کے بعد جس طریقے سے ملک بھر میں احتجاج ہورہے ہیں اور تمام طبقات شرکت کررہے ہیں اس سے یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ ملک کے آئین کو کمزور کرنے کی کوئی جرأت نہیں کرسکتا ہے۔ مولانا نے کہا کہ یہ قانون دراصل ملک کے دستور اور آئین پر حملہ ہے۔اس لیے جولڑائی لڑی جارہی ہے وہ دستور کو بچانے کی ہے۔یہ دستور رہے گا تو ملک رہے گا اور اس دستور کو کمزور کردیا گیا تو ملک بکھر کررہ جائے گا اور نوجوان بچے اور بچیوں نے یہ امید جگادی ہے کہ وہ اس کو کامیاب نہیں ہو نے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ این پی آر کسی بھی طرح سے این آر سی سے کم نہیں ہے۔ پہلے بھی این پی آر ہوا ہے۔ مگر اس بار 10ایسی معلومات حاصل کی جارہی ہیں جسے عام لوگوں کو فراہم کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کروڑ افراد ایسے ہیں جنہیں اپنے والدین کی تاریخ پیدائش کا کوئی علم نہیں ہے۔ بعد میں اسی کو این آر سی کی بنیاد بنایا جائے گا۔ اس لیے این آر سی کی طرح این پی آر کی بھی شدید مخالفت کی جائے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close